*کراچی پریس کلب کے انتخابات اور ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کی بیس سالہ خدمات*
*تحریر: جاوید صدیقی*
کراچی پریس کلب محض ایک عمارت، چند کمروں یا صحافیوں کے اجتماع کا نام نہیں بلکہ یہ پاکستان کی صحافتی تاریخ، جمہوری روایات، آزادیٔ اظہار اور صحافی برادری کے اجتماعی تشخص کی ایک معتبر علامت ہے۔ اس ادارے کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ہونے والی ہر سرگرمی، ہر انتخاب اور ہر جمہوری عمل صحافتی برادری کی اجتماعی سوچ اور شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات بھی اسی جمہوری تسلسل کا حصہ ہیں۔ یہ انتخابات صرف عہدوں کے حصول یا پینلز کے درمیان مقابلے کا نام نہیں بلکہ گزشتہ کارکردگی، اجتماعی خدمات، ممبران کے اعتماد اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ہوتے ہیں۔ گزشتہ تقریباً بیس برسوں سے ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کراچی پریس کلب کی انتخابی سرگرمیوں اور انتظامی معاملات میں اپنی موجودگی اور وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دو دہائیوں کا یہ سفر محض وقت کی طوالت نہیں بلکہ ایک ادارے کے ساتھ مسلسل وابستگی، ممبران سے رابطے اور صحافی برادری کی اجتماعی زندگی میں کردار ادا کرنے کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ کسی بھی تنظیم یا انتخابی پینل کی اصل پہچان اس کے دعووں سے نہیں بلکہ اس کی عملی کارکردگی، طرزِ عمل، ممبران کے ساتھ تعلق اور ادارے کے لیے اس کی خدمات سے ہوتی ہے۔ ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کے حوالے سے بھی گزشتہ بیس سالہ سفر کو اسی تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کراچی پریس کلب کے ممبران کا اعتماد کسی ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مسلسل رابطہ، باہمی مشاورت، ممبران کے مسائل کو سمجھنے، ان کی آواز متعلقہ فورمز تک پہنچانے اور ادارے کے اجتماعی مفادات کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحافی برادری آج معاشی مشکلات، ادارتی دباؤ، ملازمتوں کے عدم تحفظ، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، میڈیا اداروں کی چھانٹیوں اور آزادیٔ صحافت سے متعلق مختلف چیلنجز کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے حالات میں پریس کلب کی انتظامی قیادت اور انتخابی نمائندوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ محض انتخابی کامیابی کافی نہیں ہوتی بلکہ اصل امتحان انتخاب کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کے بیس سالہ سفر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس عرصے میں کراچی پریس کلب کے ممبران نے اپنے جمہوری حق کے ذریعے مختلف ادوار میں اپنی رائے اور اعتماد کا اظہار کیا۔ اس اعتماد کو ایک ذمہ داری سمجھنا چاہیے، نہ کہ مستقل حق یا کسی مخصوص گروپ کی میراث۔ میری نظر میں کراچی پریس کلب کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام پینلز ایک دوسرے کے وجود، اختلافِ رائے اور جمہوری حق کو تسلیم کریں۔ انتخابی مقابلہ ضرور ہو مگر ذاتی مخالفت، گروہی تقسیم اور غیر ضروری تلخیوں سے گریز کیا جائے۔ بالآخر تمام امیدوار اور پینلز اسی صحافی برادری کا حصہ ہیں جس کی نمائندگی کراچی پریس کلب کرتا ہے۔ ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کی بیس سالہ وابستگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے گزشتہ سفر کا جائزہ لے، اپنی خدمات اور کامیابیوں کو ممبران کے سامنے رکھے، خامیوں کی نشاندہی قبول کرے اور آنے والے وقت کے لیے مزید مؤثر، شفاف اور قابلِ احتساب حکمت عملی پیش کرے۔ کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات میں اصل اہمیت کسی ایک پینل کی نہیں بلکہ اس ادارے کی عزت، وقار، آزادی اور ممبران کے حقوق کی ہونی چاہیے۔ جو بھی ذمہ داری سنبھالے، اسے یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پریس کلب کسی فرد، گروپ یا پینل کی ملکیت نہیں بلکہ پوری صحافی برادری کا مشترکہ اثاثہ ہے۔بیس سالہ سفر ایک اعزاز ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اعتماد کا تسلسل صرف ماضی کی خدمات سے نہیں بلکہ مستقبل کی عملی کارکردگی سے قائم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کراچی پریس کلب کو ہمیشہ آباد، مضبوط، خودمختار اور صحافی برادری کے اتحاد و یکجہتی کا مرکز بنائے۔ میرا ذاتی مشاہدہ و تجربہ رھا ھے کہ ”دی ڈیموکریٹس پینل“ سے منتخب ہونے والے امیدواروں نے اپنی بہترین خدمات و پلاننگ اور کامیاب ایجنڈوں پر کام کرکے وقت کے تقاضوں و ضرورتوں کے مطابق خدمات کو احسن انداز میں ڈھالا۔ کراچی پریس کلب کے ”دی ڈیموکریٹس پینل“ نے صحافیوں کیساتھ ساتھ انکی فیملیز کیلئے بھی بیشمار خدمات تفریحات اور مقابلہ جات پروگرامز کے انعقاد پر بیش بہا انعامات پیش کئے جو تسلسل سے تاحال جاری ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر انتہائی منظم اور شاندار کارکردگی کے سبب ”کراچی پریس کلب“ معروف اور بہترین نام اور امتیازی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ھے یہ اس کی خوبصورتی کراچی پریس کلب کے سالانہ انتخابات میں کثیر صحافیوں کے اعتماد یقیناً بھروسہ کی نشاہدہی کرتی ھے کہ وہ کس قدر ”دی ڈیموکریٹس پینل“ پر اعتماد کرتے ہیں اور بیس سالہ کامیابی کافر سہرا سجانے والے ”دی ڈیموکریٹس پینل“ نے بھی خود کو اپنی بہترین خدمات سے ثابت منوایا۔ سب سے بڑھ کر ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کا نظم و ضبط، صبر و تحمل، اور کلب کی رونقیں قائم و دائم رکھنا کمال درجہ خوبصورتی اور مہارت کی عکاسی کرتا ھے یہ خاصہ ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کو ہی جاتا ھے کہ اس نے وقت کے ساتھ ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے صحافیوں کیلئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق پروگرامز شیڈول دیئے۔ نشست ہوں یا میٹنگ یا پھر طعام ہر سو سلیقہ و کرینہ کو مدنظر رکھا گیا، پھر بھی اگر کوئی معمولی سی سرزش یا غلطی ہوگئی ھو تو اسے مخالف پینل کے دوستوں کو درگزر سے کام لینا چاہئے، انسان سے ہی غلطی ہوتی ھے ”دی ڈیموکریٹس پینل“ سے کامیابی ہونے والے امیدوار اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں اور مداوا بھی پیش کرتے ہیں بلکہ آگاہی کرنے والوں کے مشکور بھی ہوتے ہیں، عام طور سے چند ایک بار کینٹین کیف شکایت کرتے دیکھا لیکن ایکبار ہمیں بھی سوچنا ہوگا کہ جو کینٹین اسٹاف ہماری خدمات میں جتھا ہوا ھے شاید نجی پریشانی میں شدید مبتلا بھی ہوسکتا ھے اپنی عزت نفس کے سبب اسکی خاموشی سے ذہنی غیر حاضری بھی ممکن ہوسکتی ھے۔ بحرحال میرا ماننا ھے کہ ”دی ڈیموکریٹس پینل“ کی مثبت تعمیری خدمات پر ان کی پزیرائی، ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی کے عمل کو بھی قائم رکھنا ھم سب کی اخلاقی ذمہداری بنتی ھے۔ یاد رھے کہ کراچی پریس کلب میں بیشمار ایسے معاملات بھی ہیں جنکا صحافیوں کی نجی معاملات سے بھی تعلق ہوتا ھے جو ”دی ڈیموکریٹس پینل“ اپنے تیئیں جہاں تک ہوسکتا ھے حل کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرتا ھے۔ جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار، ممبر کراچی پریس کلب، ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ دستور ۔۔۔۔!!
