ایک دوست کی تحریر چو مجھے اچھی لگی
میں تمام کراچی میں رہنے والے لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ لوگ فلاحی اداروں کا بائیکاٹ کریں،
یہ مزہب اور مسلک کا چورن بیچ کر اس شہر کو تباہ کررہے ہیں۔ آج کراچی کو ایتھوپیا بنادیا ہے پورے پاکستان سے ٹرک بھر بھر کر آرہے ہیں کہ انہیں کھاناکپڑے رہائش مفت مل جاتا ہے یہ ھڈ حرام ہیں جنہیں کمانے کی عادت نہیں صرف بیٹھ کر کھانا ہے۔ آپ ان اداروں کا خود دورہ کریں دیکھیں وہاں کون لوگ ہیں مشکل سے دو فیصد مقامی کوئی ہوگا باقی ساری اندرون سندہ پنجاب کے ملیں گے ان کا زریعہ معاش کچھ نہیں اکثریت ان میں بھیکاریوں اور ہیرونچیوں کی ہے۔ آج پورا کراچی مجھے بتادیں جہاں ان گداگر ہیرونچیوں کا راج نہیں بازار سے لیکر کسی پکنک پوائنٹ سگنل سے لیکر پارکنگ تک سب یہ غیر مقامی ہیں۔ میرا کسی قوم سے اختلاف یا نفرت نہیں لیکن ان ہی کی اولادیں سوشل میڈیا پر ان کراچی والوں کو بھوکا ننگا کہتی ہیں۔ مدد ہی کرنی ہے تو اپنے اطراف دیکھیں بہت سے خاندان نظر آجائیں گے۔ انکی مدد پہلے کریں ،مدد کرنی ہے تو کھانے کی جگہ کسی کو روزگار دیں تاکہ وہ محنت سے کما کر اپنے سے جڑےچار لوگوں کو بھی عزت سےکھلا سکے، آج شطر مرغ آج مٹن اتنی دیگیں اتنا سامان کیا فائدہ اس کا اور سلام ہے اس شہر کے لوگوں کو اس کے باوجود اپنی سفید پوشی اختیار کرکے رکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ اور ہی چل رہا ہے اور میں نے جتنا دیکھا اور سمجھا اس کے مطابق اگر یہ واقعی صحیح ہیں تو روزگار دیں ناکہ کنٹینر میں کھانا تو اس چورنگی پر کھانا "کراچی” والوں سے زیادہ پیسہ پنجاب اسلام آباد میں ہے وہاں کیوں نہیں کوئی ایدھی انصار برنی پیدا ہوتا؟ سیالکوٹ کی مثال ہے انہوں نے اپنی انڈسٹری اپنا ائرپورٹ بنایا ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا کیا یہ ایسے چھوٹے موٹے کاروبار کروا کے روزگار پیدا نہیں کرسکتے برائے مہربانی بائیکاٹ کریں ان کا اور انہیں کچھ دینے سے بہتر اپنے جاننے والوں کی اپنے ہاتھ سے مدد کریں۔ شکریہ
جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی
