BBC Urdu TV

کراچی میں تیز ہیڈلائٹس کی یلغار، ادارے خاموش، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں

*کراچی میں تیز ہیڈلائٹس کی یلغار، ادارے خاموش، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں!!*

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر صحافی و کالم نگار، ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس اور ممبر کراچی پریس کلب جاوید صدیقی نے شہر میں گاڑیوں پر نصب غیرمعیاری، غیرقانونی اور حد سے زیادہ تیز روشنی والی ہیڈلائٹس کے بڑھتے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے اوقات میں یہ لائٹس سامنے سے آنے والے ڈرائیوروں کی بینائی کو عارضی طور پر متاثر کرتی ہیں، جس سے سڑک پر نظر دھندلا سکتی ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سنگین مسئلے پر متعلقہ اداروں کی خاموشی اور عدم توجہی ناقابلِ قبول ہے۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ شہری علاقوں میں گاڑیوں کی ہیڈلائٹس مقررہ حفاظتی معیار، روشنی کی شدت اور درست سمت کے مطابق ہونی چاہئیں۔ ایسی تیز، چکاچوند پیدا کرنے والی اور غیرمعیاری لائٹس جو دوسرے ڈرائیوروں کے لیے خطرہ بنیں، ان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ٹریفک قوانین کا مقصد محض چالان کرنا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی اور محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں غیرمعیاری اور حد سے زیادہ چکاچوند پیدا کرنے والی ہیڈلائٹس کے خلاف فوری، مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ جاوید صدیقی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے بھی اپیل کی کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک جامع اور مرحلہ وار آپریشن شروع کیا جائے۔ انہوں نے تین نکاتی لائحۂ عمل تجویز کیا:
*پہلا مرحلہ:* صوبے بھر میں چلنے والی گاڑیوں اور سندھ میں داخل ہونے والی چھوٹی بڑی ٹرانسپورٹ کی ہیڈلائٹس کی جانچ کی جائے اور مقررہ حفاظتی معیار کے خلاف پائی جانے والی لائٹس کو قانون کے مطابق تبدیل یا ہٹایا جائے۔
*دوسرا مرحلہ:* مارکیٹوں اور دکانوں پر فروخت ہونے والی غیرمعیاری اور غیرقانونی ہیڈلائٹس کی نشاندہی کرکے متعلقہ قوانین کے تحت ضبطی اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
*تیسرا مرحلہ:* ایسی لائٹس کی غیرقانونی درآمد، فروخت، تنصیب اور استعمال کے خلاف واضح قواعد کے مطابق بھاری جرمانے اور مؤثر سزائیں نافذ کی جائیں، تاکہ اس خطرناک رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مشترکہ آپریشن میں محکمہ پولیس، ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو شامل کیا جائے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ خود اس مہم کی نگرانی کریں تاکہ کارروائی محض چند روزہ مہم بن کر نہ رہ جائے بلکہ مستقل بنیادوں پر نتائج سامنے آئیں۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سڑکوں پر ایسی روشنیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جو دوسروں کی آنکھوں کو چند لمحوں کے لیے بے اثر کرکے انہیں موت کے خطرے سے دوچار کردیں۔ کراچی پہلے ہی ٹریفک کی بدنظمی، تجاوزات اور حادثات جیسے مسائل سے نبردآزما ہے؛ ایسے میں چکاچوند پیدا کرنے والی ہیڈلائٹس کے خلاف خاموشی مزید خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں، قانون پر یکساں عمل درآمد یقینی بنائیں اور کراچی سمیت سندھ کی سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انسانی جان قیمتی ہے؛ اسے غفلت، بے حسی اور قانون شکنی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔۔۔!!

Exit mobile version