BBC Urdu TV

*کراچی تباہ تو پاکستان کمزور!!*

*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*

*کراچی تباہ تو پاکستان کمزور!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*

کراچی پاکستان کا دل، معاشی شہ رگ، قومی تجارت کا مرکز اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا بنیادی ستون ہے۔ یہ شہر محض عمارتوں، شاہراہوں، صنعتوں اور تجارتی مراکز کا مجموعہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی امیدوں، خوابوں، محنت اور روزگار کا محور ہے۔ کراچی کی خوشحالی دراصل پاکستان کی خوشحالی اور اس کی بدحالی قومی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔قدرت نے کراچی کو سمندر، ساحلی پٹی، پہاڑی علاقوں اور وسیع تجارتی امکانات سے نوازا ہے۔ یہ شہر صنعت و حرفت، بندرگاہوں، کاروبار، ٹیکنیکل تعلیم، طبی سہولتوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، ہنرمندی اور روزگار کے بے شمار مواقع کا مرکز ہے۔ یہاں ملک بھر کی زبانیں بولنے والے، مختلف ثقافتوں، نسلوں، قومیتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ کراچی کی اصل طاقت یہی تنوع، باہمی تعاون، محنت اور قومی یکجہتی ہے۔ کراچی صرف کاروبار اور صنعت کا شہر نہیں بلکہ فلاح و خدمت کا بھی ایک بڑا مرکز ہے۔ یہاں فلاحی ادارے بھوکوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں، مستحق مریضوں کو مفت یا رعایتی علاج میسر آتا ہے، بلڈ بینک دن رات خدمات انجام دیتے ہیں اور مخیر حضرات ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرتے ہیں۔ یہاں کے عوام نے مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت، سخاوت اور ایثار کی مثالیں قائم کی ہیں۔ یہی کراچی کی اصل شناخت ہے۔
*کراچی قومی خزانے میں حصہ دے، مگر اپنے بنیادی حقوق سے محروم کیوں؟*
کراچی ملک کے بڑے تجارتی، صنعتی اور ٹیکس محصولات فراہم کرنے والے مراکز میں سرفہرست ہے۔ یہاں کی صنعتیں، کاروباری سرگرمیاں، بندرگاہیں اور لاکھوں محنت کش قومی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ جس شہر سے قومی خزانے کو اتنی بڑی معاشی قوت حاصل ہوتی ہے، اس کے شہری پینے کے صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، نکاسیٔ آب اور بلدیاتی سہولتوں کے لیے کیوں ترستے ہیں؟ شہر کے عوام کو محض وعدوں، اعلانات اور نمائشی منصوبوں سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں اپنے ٹیکسوں اور محصولات کے تناسب سے شفاف، مؤثر اور جواب دہ نظامِ حکمرانی درکار ہے۔ کراچی کے وسائل، محصولات اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا مکمل حساب عوام کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔ اگر کہیں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے شواہد موجود ہوں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
*تعلیم میں ناانصافی، نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف*
کراچی ملک کے ذہین، محنتی اور باصلاحیت نوجوانوں کا شہر ہے۔ یہاں کے طلبہ کو سرکاری میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔ داخلوں، کوٹے، وائس چانسلرز کی تقرریوں اور تعلیمی انتظامیہ کے فیصلوں میں کسی بھی قسم کی جانبداری، اقرباپروری یا سیاسی مداخلت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ بورڈز سمیت تمام تعلیمی اداروں کی کارکردگی شفاف اور قابلِ احتساب ہونی چاہیے۔ اگر کسی تقرری، داخلے یا امتحانی عمل میں بے ضابطگی کی شکایت سامنے آئے تو اسے سیاسی مصلحتوں کے بجائے قانون اور میرٹ کے مطابق حل کیا جائے۔ یاد رکھیے!! جب کسی نوجوان کی قابلیت کو سفارش کے مقابلے میں شکست دی جاتی ہے تو صرف ایک طالب علم کا مستقبل تباہ نہیں ہوتا بلکہ ملک اپنی صلاحیت، ذہانت اور ترقی کا ایک قیمتی موقع بھی کھو دیتا ہے۔
*پانی کی قلت: وسائل کی کمی یا انتظامی ناکامی؟*
کراچی کے پانی کا مسئلہ ایک مستقل قومی و شہری سوال بن چکا ہے۔ ایک جانب سمندر، دوسری جانب حب ڈیم اور اطراف میں پانی کے دیگر ذخائر، جبکہ کینجھر جھیل سے بھی شہر کو پانی فراہم کرنے کا نظام موجود ہے؛ اس کے باوجود متعدد علاقوں کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترستے اور مہنگے واٹر ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پانی کی فراہمی، تقسیم، لائنوں کی مرمت، غیر قانونی کنکشنز اور ٹینکر مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں یقینی نہیں بنائی جاتی؟ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کی دستیابی، ترسیل اور تقسیم کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھیں اور ہر علاقے تک منصفانہ فراہمی کے لیے قابلِ عمل منصوبہ پیش کریں۔ کراچی کے شہری پانی خریدنے پر مجبور ہوں اور دوسری جانب اس بنیادی ضرورت کی فراہمی کا نظام مؤثر نہ ہو تو انتظامی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری عمل ہے۔ اس مسئلے کا حل سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ شفاف منصوبہ بندی، مضبوط نگرانی اور جواب دہی ہے۔
*بجلی کے بل اور شہریوں پر معاشی بوجھ*
کراچی کے شہری بجلی کے نرخوں، مختلف سرچارجز، ٹیکسوں اور بلوں میں شامل دیگر رقوم کے باعث شدید مالی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ہر چارج کی قانونی بنیاد واضح کریں، بلنگ میں شفافیت یقینی بنائیں اور صارفین کی شکایات کا منصفانہ ازالہ کریں۔ اگر کسی بل میں غیر قانونی وصولی، غیر مجاز چارج یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پائی جائے تو متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ کسی کمپنی کو محض اس لیے استثنا حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک بڑی تجارتی یا توانائی کی کمپنی ہے۔ کراچی کے شہریوں کو ایسا نظام درکار ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، صارفین کے حقوق محفوظ ہوں اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر فورم دستیاب ہو۔ ریاست کی ذمہ داری شہریوں پر بوجھ ڈالنا ہی نہیں بلکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا بھی ہے۔
*کرپشن، اقرباپروری اور سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ ضروری*
کراچی کی انتظامی بدحالی پر بات کرتے ہوئے محض سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر کسی کو بری الذمہ یا مجرم قرار دینا درست نہیں۔ تاہم کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت، سرکاری محکمے یا بااختیار شخصیت کو احتساب سے بالاتر بھی نہیں سمجھا جاسکتا۔شہری اداروں میں سیاسی مداخلت، میرٹ کی پامالی، ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی، ناقص نگرانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر مختص ہونے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے، منصوبے مقررہ وقت میں کیوں مکمل نہیں ہوئے اور شہری مسائل کے حل میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے۔ حکومتیں عوامی خدمت کے لیے قائم ہوتی ہیں، ذاتی مفادات، سیاسی سرپرستی اور اختیارات کے تحفظ کے لیے نہیں۔ اسمبلیوں میں قانون سازی کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی غیر قانونی عمل کو سیاسی اکثریت کے ذریعے جائز قرار دینے کی کوشش۔ اخلاقی اقدار، آئین اور قانون کی بالادستی ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔
*کراچی کی سلامتی، پاکستان کی سلامتی سے جڑی ہے*
کراچی کی معاشی سرگرمیوں، تجارتی راستوں اور صنعتی پیداوار کا تعلق براہِ راست قومی استحکام سے ہے۔ منشیات، اسمگلنگ، غیر قانونی کاروبار اور منظم جرائم کی روک تھام کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں، پولیس، کسٹمز اور دیگر متعلقہ محکموں کو مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔منشیات کا پھیلاؤ نوجوان نسل، خاندانوں اور معاشرتی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے صرف چھوٹے مجرموں کے خلاف کارروائی کافی نہیں؛ سپلائی چین، مالی معاونت، سرپرستی اور منظم نیٹ ورکس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کو سیاسی یا انتظامی تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح کراچی کی انتظامیہ ایسے اہل، دیانت دار، تجربہ کار اور باصلاحیت افراد کے سپرد ہونی چاہیے جو شہری مسائل کو سمجھتے ہوں اور نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بلدیاتی اداروں کو آئینی و قانونی دائرے میں مؤثر اختیارات، وسائل اور جواب دہی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
*کراچی کی تہذیب، قومی یکجہتی اور حب الوطنی*
کراچی کے مقامی باشندے اپنی تہذیب، زبان، ادب، اخلاق اور روایات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ اس شہر میں آباد مختلف علاقوں، قومیتوں اور زبانوں کے لوگوں نے بھی اپنی محنت اور صلاحیتوں سے اس کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کسی ایک گروہ، زبان یا طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ تمام شہریوں کا مشترکہ گھر اور پورے پاکستان کا اہم قومی اثاثہ ہے۔ قومی دنوں، مذہبی تہواروں اور پاکستان کی سلامتی سے متعلق مواقع پر شہریوں کا اتحاد و اتفاق اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اختلافات کے باوجود قومی مفاد مقدم ہونا چاہیے۔ اردو کراچی میں وسیع پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے، لیکن شہر کی لسانی و ثقافتی رنگا رنگی بھی اس کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ہر زبان، ہر ثقافت اور ہر شہری کے احترام سے ہی قومی یکجہتی مضبوط ہوسکتی ہے۔
*مقتدر حلقوں سے دوٹوک سوال*
وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ وزارتوں، بلدیاتی قیادت اور تمام بااختیار اداروں سے میرا دوٹوک سوال ہے: کراچی کے شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق کب ملیں گے؟ پانی، بجلی، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، صاف ماحول اور محفوظ زندگی کی فراہمی کب حکومتی ترجیحات کا حقیقی حصہ بنے گی؟اگر کسی ادارے کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوامی وسائل میں بے ضابطگی کے قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ ذمہ داروں کا تعین شواہد اور قانون کے مطابق ہو، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت، سرکاری محکمے یا بااثر حلقے سے ہو۔ پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں، حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اور شہریوں کو انصاف کے حصول میں سیاسی یا انتظامی رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کراچی کے مسائل کو محض سیاسی نعرہ یا انتخابی وعدہ سمجھنا قومی مفاد سے غفلت کے مترادف ہے۔ معزز قارئین!! کراچی کو تباہی، بدانتظامی اور ناانصافی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ اس شہر کے محنت کشوں، تاجروں، صنعت کاروں، طلبہ، اساتذہ، صحافیوں، خواتین اور عام شہریوں کو ایک ایسا ماحول درکار ہے جہاں ان کی محنت کا صلہ میرٹ، انصاف اور ترقی کی صورت میں ملے۔ کراچی کو بچانا کسی ایک جماعت، حکومت یا طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے۔ اس شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ وسائل کی شفاف تقسیم، مؤثر بلدیاتی نظام، میرٹ کی بالادستی، کرپشن کا خاتمہ اور قانون کی یکساں عمل داری ہی کراچی کو دوبارہ ایک محفوظ، صاف، سرسبز، خوشحال اور ترقی یافتہ شہر بنا سکتی ہے۔ میرا مؤقف واضح ہے: کراچی کو اس کے جائز حقوق دیے جائیں، شہریوں کو ان کے وسائل کا حساب فراہم کیا جائے اور اس شہر کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے قومی ترقی کا حقیقی مرکز بنایا جائے۔ کراچی خوشحال ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ کراچی محفوظ ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔ کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وعدوں اور نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ آخر کب تک کراچی کے شہری بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے اور اربابِ اختیار خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ اللہ تعالیٰ کراچی شہر اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو، اسے امن، خوشحالی، ترقی، انصاف اور استحکام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!!

Exit mobile version