ڈاکٹر اعظم سمور کی ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال سے سبکدوشی
ڈاکٹر محمد اعظم سمور چکوال کے نہیں ہیں یہ بات بھلا کون مانے گا؟ وہ جہلم کے ہیں مگر چکوال کے لوگ انھیں چکوال کا ہی جانتے ہیں اور جہلم کے لوگ بھی انھیں اب چکوال کو ہی دان چکے۔ ادھر ڈاکٹر اعظم سمور پر بھی اب چکوال مکمل طور پر طاری ہو چکا ہے۔ ہم سب چکوالیے بھی پہلے جہلمی ہی تھے مگر اب جہلمی تقسیمی اعتبار سے الگ ہو چکے ہیں تاہم تاریخی اعتبار سے ہمیں ایک دوسرے سے کبھی الگ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹر اعظم سمور کو سب چکوالیے بھی بسروچشم قبول کرتے ہیں اور جہلمی بھی ۔ یہ سب ان کی خوش اخلاقی، انسان دوستی اور دونوں اضلاع سے یکساں قربت کی بدولت ہے۔
ڈاکٹر محمد اعظم سمور 1996ء کے موسم بہار میں چکوال آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چکوال اس وقت 125 بیڈز کا ایک چھوٹا سا ہسپتال تھا اور اس کا قدیم رنگ و روپ تب موجود تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے ہماری پہلی ملاقات تب ہوئی جب ان کی پنجابی شاعری پر مشتمل بے مثال کتاب "تند تند ترکلہ” شائع ہوئی۔ یہ اس قدر چونکا دینے والی شاعری تھی کہ راتوں رات اس کی شہرت ادبی حلقوں میں پھیل گئی۔ پھر ڈاکٹر اعظم سمور نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چکوال کی 1940ء کے بعد کی تمام یادگاری تختیوں کو اکٹھا کیا اور ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال کے احاطے میں ایک یادگار تعمیر کرا کے ان تختیوں کو اس پر نصب کرا دیا۔ یہ ایک اہم کام تھا جس سے اس ہسپتال کی تاریخ اور اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنے والوں کے نام محفوظ ہو گئے۔
پنجابی شاعری پر مشتمل ان کی دوسری کتاب "ویلے دی ویل” گزشتہ سال شائع ہوئی تو اسے پبلشر سے وصول کرنے ہم بھی ساتھ گئے۔ ڈاکٹر صاحب سے میری تواتر سے ملاقاتیں ملک کاشف اعوان کے دفتر میں شروع ہوئیں اور پھر ہوتی چلی گئیں۔ اب یہ عالم ہے کہ دو تین دن کا وقفہ یا ناغہ ملاقات میں ہوتا ہی نہیں۔ ڈاکٹر اعظم سمور خوش شکل اور خوش مزاج ہیں سو من موہ لینے کا ہنر ان کی دسترس میں ہے۔ آج یعنی 3 اپریل 2024ء کو ان کی طویل سرکاری ملازمت کا آخری دن تھا۔ اپنی تین عشروں سے زائد خدمات کے دوران انھوں نے عزت اور شہرت کمائی۔ ادیب ہیں اور فقیر منش بھی سو دولت کمانے کی کوشش نہ کی بس جو ملا اسی پر قناعت کی ورنہ کسی بڑے شہر کو جاتے تو ڈھیروں دولت بھی کما سکتے تھے۔
ڈاکٹر محمد اعظم سمور کوہستان نمک کے قرب میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں دولت پور میں پیدا ہوئے جو تحصیل پنڈ دادنخان میں واقع ہے۔ دولت پور کا تذکرہ وہ اکثر کرتے بھی ہیں۔ میڑک گورنمنٹ ہائی سکول دھریالہ جالپ سے کیا اور ایف ایس سی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے کی۔ راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کے بعد ڈی ایل او کا ایک سالہ ڈپلومہ پی جی ایم آئی لاہور سے حاصل کیا۔ 12 دسمبر 1990ء کو محکمہ ہیلتھ پنجاب میں ملازمت کا آغاز کیا اور آج یعنی تین اپریل 2024ء کے دن گریڈ بیس کے آفیسر ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔ چکوال میں طویل عرصہ تک واحد ای این ٹی سپیشلسٹ رہے۔ اب بھی چکوال کے لوگ انھیں ناک، کان اور گلے کے سب سے معروف اور اچھے معالج کے طور پر جانتے ہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال میں لگ بھگ 28 سال خدمات سر انجام دیں اور آج سے ان کی زندگی کی نئی اننگز شروع ہو گئی ہے۔ اب وہ اپنے مداحوں اور مریضوں کو اپنے نجی کلینک پر ہی دکھائی دیا کریں گے یا پھر سول کلب چکوال کے ٹھکانے پر مل سکیں گے۔ ان کی بے مثال نثر نگاری پر مشتمل کتاب جو ان کی آپ بیتی ہے جلد ” آنکھ بیتی ” کے نام سے شائع ہو گی۔ ڈاکٹر اعظم سمور کی صحت و سلامتی کے لیے دعائیں اور مستقبل کے لئے ڈھیروں نیک خواہشات۔
ضلعی سینئر نائب صدر یوتھ میڈیا ٹیم چوہدری محمد نواز سمور
