*بیدار ہونے تک*
*پاکستانی نژاد معروف پیڈیاٹرک کارڈیک سرجن ڈاکٹر آصف حسن — عالمی اعزاز، پاکستان کے نظامِ تعلیم کے لیے ایک سوال!!*
*تحریر: جاوید صدیقی*
سرزمینِ پاکستان قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ ذہین، باصلاحیت اور باہمت افراد کی بھی سرزمین ہے۔ پاکستانیوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی محنت، قابلیت، علم اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ایسے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں جنہوں نے نہ صرف انفرادی کامیابی کی مثالیں قائم کیں بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ تاہم، ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں باصلاحیت نوجوانوں کو اکثر معیاری تعلیم، مساوی مواقع، میرٹ اور ادارہ جاتی سرپرستی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی تناظر میں پاکستانی نژاد معروف بچوں کے امراضِ قلب کے سرجن ڈاکٹر آصف حسن کی کامیابی ہمارے لیے باعثِ فخر بھی ہے اور لمحۂ فکریہ بھی۔
*ڈاکٹر آصف حسن کو اکتوبر 2026ء میں برطانیہ کے معتبر پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز 2026ء میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔*
یہ اعزاز بچوں کے پیچیدہ امراضِ قلب کے علاج، زندگی بچانے والی سرجری اور طبی تحقیق و تربیت کے شعبوں میں ان کی طویل خدمات کا اعتراف ہے۔ برطانوی ادارۂ صحت نیوکاسل ہاسپٹلز این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے مطابق ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے کیریئر کے دوران چار ہزار سے زائد اوپن ہارٹ آپریشنز کیے، جن میں تقریباً تین ہزار آپریشنز بطور مرکزی سرجن انجام دیے۔ وہ نیوکاسل کے فری مین اسپتال میں بچوں کی کارڈیک سرجری کے شعبے سے تین دہائیوں تک وابستہ رہے اور بچوں کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
*ڈاکٹر آصف حسن کی خدمات محض آپریشن تھیٹر تک محدود نہیں رہیں۔*
انہوں نے بچوں کے دل کی پیچیدہ بیماریوں کے علاج کو بہتر بنانے، دل کی پیوندکاری کے منتظر بچوں کے لیے جدید طبی سہولتوں کو فروغ دینے اور نوجوان سرجنوں کی تربیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ علم، مسلسل محنت، تجربے اور انسانی خدمت کے جذبے سے ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں میں امید پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس اعزاز کی ایک جذباتی جھلک اس وقت سامنے آئی جب ان کے سابق مریض بھی تقریب میں ان کے ساتھ موجود تھے۔ یہ وہ بچے تھے جن کی زندگیوں میں ڈاکٹر حسن اور ان کی طبی ٹیم کی خدمات نے نئی امید پیدا کی۔ ایسے مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ کسی معالج کی اصل کامیابی صرف اس کے عہدے، شہرت یا اعزاز میں نہیں، بلکہ ان انسانی زندگیوں میں ہوتی ہے جنہیں وہ بچانے اور بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
*پاکستان اور بالخصوص سندھ کے نظامِ تعلیم سے سوال!*
کراچی کے معروف صحافی و کالم نگار جاوید صدیقی کے نزدیک ڈاکٹر آصف حسن کی یہ کامیابی پاکستانی نظامِ تعلیم اور حکومتی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ آخر ہمارا تعلیمی نظام ایسے کتنے ذہین، محنتی اور باصلاحیت طلبہ پیدا کر رہا ہے جنہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے معیاری تعلیم، جدید سہولتیں، شفاف میرٹ اور مساوی مواقع میسر آتے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی اداروں میں طالب علم کی قابلیت کو اس کی اصل بنیاد پر جانچا جاتا ہے؟ کیا داخلوں، امتحانات، اسناد اور ملازمتوں میں میرٹ کی مکمل پاسداری ہوتی ہے؟ کیا سرکاری تعلیمی اداروں میں جدید سائنسی تعلیم، تحقیق، عملی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے وہ مواقع موجود ہیں جو عالمی سطح کے ماہرین پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں؟ بالخصوص سندھ میں کوٹہ سسٹم، تعلیمی معیار، نقل، امتحانی بے ضابطگیوں اور میرٹ سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا غیر جانب دارانہ جائزہ ناگزیر ہے۔ جہاں کہیں نااہلی، سفارش، اقرباپروری، جعلی اسناد یا غیر قانونی طریقوں سے تعلیمی مواقع حاصل کرنے کے شواہد سامنے آئیں، وہاں بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے۔ تاہم، کسی پورے نظام یا تمام تعلیمی اداروں کو بغیر شواہد کے یکساں طور پر موردِ الزام ٹھہرانا بھی درست نہیں۔حکومتِ پاکستان اور حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ تعلیمی نظام میں اصلاحات کو محض اعلانات تک محدود نہ رکھیں۔ اسکولوں اور جامعات میں تدریسی معیار بہتر بنایا جائے، اساتذہ کی تربیت پر سرمایہ کاری کی جائے، جدید لیبارٹریاں اور تحقیقی سہولتیں فراہم کی جائیں، امتحانی نظام کو شفاف بنایا جائے اور داخلوں و ملازمتوں میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ ذہین مگر معاشی مشکلات کا شکار طلبہ کے لیے وظائف اور مالی معاونت کا مؤثر نظام بھی قائم ہونا چاہیے۔
*ہمیں شخصیات پر فخر کے ساتھ نظام بھی درست کرنا ہوگا!*
ڈاکٹر آصف حسن کی کامیابی پر فخر بجا، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان کا کوئی ہونہار طالب علم صرف وسائل کی کمی، سفارش کے فقدان یا غیر منصفانہ نظام کے باعث اپنے خوابوں سے محروم نہ رہے۔ ہمارا مقصد محض قابل افراد کی بیرونِ ملک کامیابیوں پر خوشی منانا نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہونا چاہیے جہاں پاکستان میں رہ کر بھی ذہانت، قابلیت اور محنت کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع ملیں۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا ریاست اپنے قابل نوجوانوں کو وہ سہولتیں فراہم کر رہی ہے جن کے ذریعے وہ طب، انجینئرنگ، سائنس، تعلیم اور تحقیق میں عالمی معیار تک پہنچ سکیں؟ اگر ہم واقعی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں شخصیات کی تعریف کے ساتھ ان اداروں کی اصلاح بھی کرنا ہوگی جو مستقبل کے معمار تیار کرتے ہیں۔
*کراچی کے جرنلسٹ جاوید صدیقی کا مؤقف واضح ہے:*
پاکستان کا مستقبل نعروں، سفارشوں اور نمائشی دعوؤں سے نہیں، معیاری تعلیم، شفاف میرٹ، حقیقی احتساب اور اہل افراد کی سرپرستی سے وابستہ ہے۔
*ڈاکٹر آصف حسن کی عالمی پذیرائی ہمارے لیے فخر کا باعث ہے؛*
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور بالخصوص حکومتِ سندھ اس کامیابی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایسے تعلیمی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا آغاز کریں جو آنے والی نسلوں کو قابلیت کے اظہار کا حقیقی موقع فراہم کریں۔۔۔!!
