*وٹامن ڈی ریسیپٹر جین کی نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ پر سیمینار اور عملی تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) وٹامن ڈی ریسیپٹر (VDR) جین کی نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ (NGS) کے موضوع پر ایک جامع سیمینار اور عملی تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب گزشتہ روز ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہوئی، جس میں طلبہ، محققین اور فیکلٹی ممبران نے بھرپور شرکت کی اور اسے ایک علمی و تحقیقی لحاظ سے نہایت مفید تجربہ قرار دیا۔ افتتاحی نشست میں پرنسپل انویسٹیگیٹر پروفیسر سطوت زہرہ نے “غذائی قلت کے شکار افراد میں وٹامن ڈی ریسیپٹر جین کی نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ: ایک نیوٹری جینومک نقطۂ نظر” کے عنوان سے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نیوٹری جینومکس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور غذائی قلت کے مسئلے کے حل میں جینیاتی تغیرات کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ذاتی نوعیت کی غذائیت اور مالیکیولر تحقیق کے حوالے سے قیمتی نکات پیش کئے۔ تکنیکی نشست کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر کامران عظیم کے تفصیلی لیکچر سے ہوا جس میں انہوں نے نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ (NGS) کا جامع تعارف پیش کرتے ہوئے ڈی این اے سیکوینسنگ ٹیکنالوجی کے ارتقاء، مختلف سیکوینسنگ طریقہ کاراور حیاتیاتی تحقیق میں جدید NGS ایپلی کیشنز پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر کامران عظیم نے شرکاء کو NGS ورک فلو اور تکنیکوں کی عملی تربیت فراہم کی گئی، جبکہ سیکوینسنگ ڈیٹا کے تجزیے کے لیے استعمال ہونے والے مختلف بایوانفارمیٹکس ٹولز سے بھی روشناس کرایا گیا۔ اس انٹرایکٹو سیشن نے نظریاتی علم اور عملی مہارت کے درمیان مؤثر ربط قائم کیا۔
وائس چانسلر جامعہ کراچی، پروفیسرڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے خطاب میں جدید مالیکیولر تکنیکوں خصوصاً NGS کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا اور طلبہ و محققین کو جدید سائنسی تحقیق کے میدان میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ ورکشاپ کے اختتام پر تمام شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس ورکشاپ میں جامعہ کراچی، ہمدرد یونیورسٹی، ڈاؤ یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی کے طلبہ و محققین نے بھرپور شرکت کی، جو بین الجامعاتی تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔
