نیا بازار جہلم کے تاجروں کا اہم اجلاس، مسائل کے حل کے لیے مشاورت، نئے صدر کے انتخاب کے لیے 7 نومبر کو الیکشن کرانے کا اعلان
جہلم( عبدالرحمان قادری ) انجمن تاجران نیا بازار جہلم کا اہم اجلاس گزشتہ روز ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صدر انجمن تاجران نیا بازار جہلم ناہید خان نے کی۔ اجلاس میں نیا بازار کے تاجروں کو درپیش اہم مسائل، بالخصوص حکومت کی جانب سے بازار کے راستوں پر لگائے گئے گیٹ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے بازار کے آغاز میں ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر تفصیلی مشاورت کی گئی اس موقع پر تاجر رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کاروباری طبقے پر مختلف مد میں ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں، جنہیں تاجر برادری نا چاہتے ہوئے بھی برداشت کر رہی ہے، لیکن اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ تاجروں کے کاروبار تک رسائی کا راستہ بھی بند کیا جا رہا ہے۔ گیٹ لگا کر اور ٹریفک پولیس کی ناکہ بندی کے ذریعے بازار میں داخلے کا راستہ روکنے سے دکانداری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مہنگائی اور بھاری ٹیکسز کے باعث کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے، ایسے اقدامات تاجروں کا معاشی قتل ہیں اور تاجر طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے
تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بازار کے راستوں پر لگائے گئے گیٹ اور ٹریفک پولیس کی ناکہ بندی کے مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ تاجروں اور خریداروں کو بازار تک آسان رسائی میسر آ سکے اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں اجلاس میں انجمن تاجران نیا بازار کی نئی صدارت کے انتخاب کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ اس سلسلے میں جاری باضابطہ اعلان کے مطابق موجودہ صدر ناہید خان کی مدتِ صدارت مکمل ہو چکی ہے، لہٰذا نیا بازار ایسوسی ایشن کے متفقہ فیصلے کے مطابق نئے صدر کے انتخاب کے لیے 7 نومبر 2026 بروز ہفتہ باقاعدہ انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا گیا ہے نئے صدر کے امیدوار بننے کے خواہشمند تاجر 5 نومبر 2026 بروز جمعرات شام 6 بجے تک اپنا نام الیکشن کمیٹی کے ممبران میں سے کسی ایک کے پاس جمع کروا سکتے ہیں الیکشن کمیٹی میں حاجی بشیر احمد، عارف محمود، اظہر رضا اور احمد شامل ہیں انتخابات کے انعقاد کے لیے تاجروں سے مقررہ تاریخ تک اپنی درخواستیں جمع کروانے کی اپیل کی گئی ہے اجلاس میں تاجروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نیا بازار کے کاروباری مسائل کے حل اور تاجر برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
