نوابشاہ(بیورورپورٹ)ایس ایس پی شہید بینظیر آبادکے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،دوڑ شہر میں منشیات کی کھلے عام فروخت،منشیات فروخت کرنے والے آزاد اور فروخت نہ کرنے والوں کی زندگی پولیس نے اجیرن کردی،تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی شہید بینظیر آباد شبیر احمد سیٹھار کی جانب سے ضلع بھر کے تمام پولیس افسران کو منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کے احکامات کو دوڑ پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے،اور منشات فروشی کے الزام میں بے گناہ افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے جبکہ منشیات فروشوں کو کھلی آزادی دے دی ہے،ذرائع کے مطابق دوڑ پولیس کی جانب سے منشیات فروشی سے توبہ کرنے والے افرادپر دوبارہ منشیات فروشی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،اور انکار کرنے والے افراد کو جھوٹے کیسوں میں ملوث کردیا جاتا ہے،دوڑ شہر کے علاقے عثمان کالونی کے رہائیشی علی اصغر شاہ کی اہلیہ لطیفاں شاہ نے اپنی بیٹی صوبیہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دوڑ پولیس کے ایس ایچ او نے انکے بیٹے غلام حسین شاہ کو منشیات فروشی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کردی ہے،انہوں نے کہا کہ وہ انتہائی غریب ہیں انکا بیٹا کراچی میں محنت مزدوری کرتا ہے،انکا بیٹا گھر کی مرمت کرانے کے لئے ایک ہفتہ قبل دوڑ آیا تھا اور پولیس نے اسے گرفتار کرلیا،پولیس منشیات کے بڑے ڈیلروں سے رشوت لے رہی ہے اور غریبوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آردرج کررہی ہے،انہوں نے آئی جی پولیس سندہ،ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد اور ایس ایس پی شہید بینظیر آباد سے مطالبہ کیا کہ انکے بیٹے کے خلاف درج جھوٹی ایف آئی آر ختم کرکے دوڑ پولیس کے خلاف کاروائی کی جائے
نوابشاہ(بیورورپورٹ)ایس ایس پی شہید بینظیر آبادکے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،دوڑ شہر
