*میرپورخاص – حیدرآباد شاہراہ کے قدیم درختوں کی کٹائی اور ریکارڈ کی شفافیت کا مطالبہ، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے میرپورخاص – حیدرآباد شاہراہ کے اطراف ماضی میں موجود گھنے، قدآور اور قدیم درختوں کی کٹائی، ان کے ممکنہ استعمال یا فروخت سے متعلق مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے نہ لائے جانے پر تشویش اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات اور مکمل آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ میرپورخاص سے حیدرآباد تک پرانی شاہراہ کے دونوں اطراف بڑی تعداد میں گھنے اور قدیم درخت موجود تھے، جن میں بعض درختوں کی عمر سو سال سے زائد بھی بتائی جاتی رہی ہے۔ سنہ 2010 ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی اس شاہراہ پر موجود بڑے اور قدیم درختوں کی کٹائی پر تشویش ظاہر کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ بعض درخت ایک سو سال سے بھی زیادہ پرانے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد – میرپورخاص ڈوئل کیرج وے منصوبے کے سلسلے میں سندھ حکومت نے نومبر سنہ 2009 ء میں کورین کمپنی Deok Jae Construction کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 5.79 ارب روپے تھی اور اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ/Build-Operate-Transfer بنیادوں پر مکمل کیا جانا تھا۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ شاہراہ کی تعمیر یا توسیع کے دوران جن درختوں کو کاٹا گیا، انکی تعداد، نوعیت، سرکاری تخمینہ، نیلامی یا فروخت، وصول ہونے والی رقم اور اس رقم کے سرکاری خزانے میں جمع ہونے سے متعلق مکمل تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ قومی و سرکاری اثاثوں سے متعلق کسی بھی معاملے میں شفافیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر درخت سرکاری ملکیت تھے اور ان کی لکڑی یا دیگر قابلِ استعمال مواد فروخت کیا گیا تو اس کی مکمل دستاویزات، نیلامی کا طریقہ کار، قیمت، خریدار اور حاصل شدہ رقم کا حساب متعلقہ محکموں کے ریکارڈ میں موجود ہونا چاہیے۔ سینئر جاوید صدیقی نے مزید کہا کہ حیدرآباد – میرپورخاص منصوبے سے متعلق ماضی کے سرکاری آڈٹ ریکارڈ میں بھی بعض مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں یوٹیلیٹی منتقلی کے اخراجات اور کنسیشنر کو دی گئی مالی معاونت سے متعلق اعتراضات شامل تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میرپورخاص – حیدرآباد شاہراہ پر کٹنے والے تمام درختوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے، ان کی تعداد اور مالیت کا تعین کیا جائے، اگر کوئی درخت یا لکڑی فروخت ہوئی تو اس کی نیلامی اور وصول شدہ رقم کا آڈٹ کیا جائے، اور مکمل رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ اس معاملے کو کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے خلاف الزام تراشی کے بجائے قومی اثاثوں، ماحولیات اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ سرکاری اداروں، محکمہ جنگلات، محکمہ ورکس اینڈ سروسز، آڈٹ حکام اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کے صوبے کے قدرتی اور سرکاری اثاثوں کے ساتھ ماضی میں کیا سلوک ہوا، ان کی کٹائی یا فروخت کس قانونی طریقہ کار کے تحت ہوئی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کہاں استعمال کی گئی۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے زور دیا کہ میرپورخاص – حیدرآباد شاہراہ کے درختوں سمیت سندھ بھر کے قومی و سرکاری اثاثوں کا جامع ڈیٹا تیار کرکے باقاعدہ آڈٹ رپورٹ جاری کی جائے تاکہ شفافیت، احتساب اور عوام کے اعتماد کو یقینی بنایا جاسکے۔
