BBC Urdu TV

مرد کو درد نہی ہوتا یہ جملہ ایک ایسا جملہ ہے

مرد کو درد نہی ہوتا

مرد کو درد نہی ہوتا یہ جملہ ایک ایسا جملہ ہے جو بچپن سے لے کر مرنے تک ہر مرد کے گلے میں ایک ڈھول کی طرح لٹکا رہتا ہے اس جملے کی وجہ سے بہت سے مرد اندر ہی اندر ہزاروں غم سمیٹے اس دنیا سے چلے گیے ارے بھائی مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ اپنی ماں اور اپنے باپ کو پریشانی میں دیکھتا ہے اور چاہ کر بھی کچھ نہی کر سکتا تو مرد کو درد ہوتا ہے جب اس وہ نیک نیتی سے کوئی کاروبار کرے اور اس میں نقصان ہو جاۓ تو مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ چاہ کر بھی اپنی بہن کو جہیز میں کچھ نہ دے سکے تو مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ اولاد کو چیزوں کے لئے سسکتا دیکھتا ہے تو مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ اپنے خواب چھوڑ کر دنیا کی ڈور میں دوڑنے نکلتا ہے تو مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ اپنے خاندان کے لئے پردیس کاٹ رہا ہوتا ہے تب بھی مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ محسوس کرتا ہے کے زندگی کی بھاگ ڈور نے اس کی اولاد ہاتھ سے نکال دی تب اسے درد ہوتا ہے جب زندگی اس کے ساتھ کھیل کھلتی ہے تو مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ باپ کو پیسوں کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاے دیکھتا ہے تو مرد کو درد ہوتا ہے جب وہ ٹوٹ کر کسی کو چاہے اور فریب کھاۓ تو مرد کو درد ہوتا ہے جب جب وہ خود کو بےبس محسوس کرتا ہے تب تب وو درد سے تڑپتا ہے ہاں مگر جب کوئی حال پوچھے تو زمانے کی دی ہوئی ٹریننگ کے مطابق مسکان چہرے پر سجا کر سب اچھا ہے کہنا لازم ہے ورنہ پھر سے وہی سمجھایاجاۓ گا کے مرد کو درد نہی ہوتا بازار میں ایک بچا اپنے والد کی بازو پکڑی کسی کھلونے کے لئے رو رہا تھا اور وہ باپ اسے منا کر رہا تھا آخر باپ کا پیمانہ لبریز ہوا اور اس نے بچے کو تھپڑ مار کے وہاں سے لے گیا یہاں باتیں شروع ہو گئی کے بڑا ظالم باپ ہے سو دو سو کا کھلونا ہی تھا خیر کچھ دن گزرے وہ شحص اسی دکان پر آیا اور وہ کھلونا لیا ساتھ میں 2 اور کھلونے لئے اور جانے لگا میری دکان سامنے ہی تھی میں نے بے اختیار آواز دی اور وہ صاحب میرے پاس آے میں نے بھی باقی لوگوں کی طرح پوچھا کے تم نے اس دن سو دو سو کے لئے بیچارے کو تھپڑ مار دیا آج اس کا کیا فائدہ میرا سوال سن کر اس کی آنکھیں بھر ای اور کہنے لگا میرے بھائی بات یہ ہے کے اس دن میری جیب میں 20 روپے تھے دیھاڑی دار ہوں اور اس دن وہ بھی نہیں لگی تھی میں مجبور تھا کسی سے مانگ بھی نہی سکتا تھا اور حالات کے ہاتھوں مجبور رو بھی نہی سکتا تھا لہذا میں نے سینے پر پتھر رکھا اور یہ قدم اٹھایا اس کی بات سنتے ہی میرے کانوں میں یہ فضول فکرا سنائی دیا کے مرد کو درد نہی ہوتا ایسا بلکل نہی ہے مرد کو درد بھی ہوتا ہے اور لڑکے روتے بھی ہیں بس کوئی پوچنے والا ہونا چاہیے

تحریر:- حارث اقبال راٹھور

Exit mobile version