BBC Urdu TV

محرم الحرام: نئے سال کا پیغام اور شہادتِ فاروقِ اعظمؓ کا سبق

تحریر؛ راجہ آس بن آس

اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ اپنے دامن میں عظمت، حرمت، عبادت، قربانی، صبر اور تاریخ کے ایسے روشن ابواب سمیٹے ہوئے ہے جو امت مسلمہ کو ہر دور میں حق، انصاف اور استقامت کا راستہ دکھاتے ہیں۔ جب ایک مسلمان نئے ہجری سال کا استقبال کرتا ہے تو اسے یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ زندگی کا ایک اور سال گزر گیا،اعمال کا ایک اور دفتر بند ہوگیا اور اب ایک نئے باب کا آغاز ہورہا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کا احساس پہلے سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔محرم الحرام ان چار مقدس مہینوں میں شامل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی حرمت عطا فرمائی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اسے "شہر اُللہ” یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مہینے میں عبادت، توبہ، ذکر و اذکار اور نیکی کے کاموں کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے لوگ نئے اسلامی سال کو محض ایک تاریخی تبدیلی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ موقع اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے بہتر انسان بننے کے عہد کا بھی ہے۔محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ایک عظیم شخصیت کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے، وہ شخصیت جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتےحضرت عمر بن خطاب وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کی جرأت، عدل، تقویٰ اور حکمرانی آج بھی دنیا کے لیے مثالی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست نے بے مثال وسعت حاصل کی، عدل کا ایسا نظام قائم ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے، اور رعایا کے حقوق کے تحفظ کو حکمران کی اولین ذمہ داری قرار دیا گیا۔حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی اسلام کی سربلندی، حق گوئی اور انصاف کے لیے وقف تھی۔ وہ راتوں کو بھیس بدل کر رعایا کے حالات معلوم کرتے،یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کی خبرگیری کرتے اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے۔ ان کا یہ مشہور قول آج بھی حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ "اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”ذوالحجہ کے آخری ایام میں ایک مجوسی غلام کے قاتلانہ حملے میں حضرت عمر فاروقؓ شدید زخمی ہوئے اور چند روز بعد جامِ شہادت نوش فرمایا۔ تاریخی روایات کے مطابق آپؓ کی تدفین یکم محرم کے موقع پر عمل میں آئی۔ یوں اسلامی سال کا آغاز امت کو اس عظیم شہید اور عادل حکمران کی یاد بھی دلاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی اسلام، عدل اور انسانیت کی خدمت میں گزار دی۔شہادتِ عمرؓ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کے راستے پر چلنے والوں کو آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو عزت اور دوام بخشتی ہے جو اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ حضرت عمرؓ نے طاقت کو خدمت کا ذریعہ بنایا، اقتدار کو امانت سمجھا اور انصاف کو اپنی حکمرانی کی بنیاد رکھا۔ آج اگر ہمارے معاشروں میں ناانصافی، بدعنوانی اور حقوق کی پامالی بڑھ رہی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم فاروقی کردار اور فاروقی طرزِ حکمرانی سے دور ہوچکے ہیں۔محرم الحرام کا پیغام صرف ماضی کے واقعات کو یاد کرنا نہیں بلکہ ان سے سبق حاصل کرنا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، زندگی محدود ہے اور آخرت کی تیاری ہی اصل کامیابی ہے۔ نئے سال کے آغاز پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں سچائی، دیانت داری، عدل، برداشت اور اخوت کو فروغ دیں گے۔ ہم اپنے کردار کو ایسا بنائیں گے جو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا آئینہ دار ہو اور اپنے معاشرے میں خیر اور بھلائی کے فروغ کا سبب بنے۔آج جب امت مسلمہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، محرم الحرام اور شہادتِ فاروقِ اعظمؓ کا پیغام ہمیں اتحاد، نظم و ضبط، انصاف اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر ہم حضرت عمر فاروقؓ کے کردار، ان کے عدل اور ان کی سادگی کو اپنی زندگیوں میں جگہ دے سکیں تو یقیناً ہمارے بہت سے اجتماعی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔نئے ہجری سال کا سورج طلوع ہوچکا ہے۔ آئیے اس موقع پر اپنے دلوں کو نفرت سے پاک، اپنے اعمال کو نیکی سے مزئین اور اپنی زندگیوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا عہد کریں۔ یہی محرم الحرام کا اصل پیغام ہے، یہی شہادتِ فاروقِ اعظمؓ کا سبق ہے اور یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان عظیم ہستیوں کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے اسوہ سے رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Exit mobile version