*ماحولیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں کراچی گرامر اسکول کے طلبہ کا نمایاں اعزاز*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) روس کے شہر سائرَس میں 20 تا 29 ستمبر کو ہونے والے عالمی مقابلوں میں کراچی گرامر اسکول کے طلبہ شارم دانش، آذان خرم، عبداللہ صدیقی اور محمد گُردئیر نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے طلائی اعزاز اپنے نام کیا۔ ان مقابلوں میں دنیا بھر کے نوجوان سائنس دانوں نے شرکت کی۔ یہ کراچی گرامر اسکول کو دنیا کی بہترین ٹیم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ نظری اور عملی مقابلوں پر مشتمل مختلف مراحل میں انفرادی طور پر عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے شارم دانش نے کانسی اور آذان خرم نے چاندی کا اعزاز اپنے نام کیا۔ گرامر اسکول کی ٹیم کو بہترین ٹیم قرار دیتے ہوئے اوزونڈ ٹیملیارنر اپ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ کراچی گرامر اسکول کی ٹیم نے کراچی اور روس جیسے گنجان شہروں میں گرمی کی شدت میں اضافے سے متعلق اپنی تحقیق پیش کرتے ہوئے مختلف منصوبے اور تجاویز کے ذریعے تیزی سے بڑھتی ہوئی گرمی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے سستے ذرائع پیش کیے جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔ یہ مقابلے کیس اسٹڈی، نظریاتی اور عملی مراحل پر مشتمل تھے۔ طلبہ نے مختلف موضوعات پر ماحولیاتی، تھرمو اکانکس، ایکوسسٹمز، کاربن سائیکل اکانکس اور اسی طرح کے دیگر موضوعات پر اپنی تحقیقات پیش کیں۔ ایسے منصوبے بھی پیش کیے جو مستقبل میں ماحولیاتی تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ کراچی گرامر اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر کارڈنیلر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ نے 2030 سے متعلق جن اہداف کا تعین کیا ہے، وہ دنیا کو اس سے نمٹنے کے لیے موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان حالات میں اس طرح کے مقابلوں کا انعقاد نوجوانوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق شعور کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ روس کے وکلسن لرل اندرے ووروو دیفرو کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور وشیش یونیورسٹی کے ماحول کے موضوع پر منعقد ہونے والے اولمپیاڈ میں دنیا بھر کی ٹیموں کا حصہ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی اور شعور میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کراچی گرامر کی ٹیم کو سونے کا اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس آئندہ بھی طلبہ کو اس قسم کے مواقع فراہم کرتا رہے گا جہاں وہ اہم موضوعات پر اپنی تحقیقات اور کوششوں کو پیش کرسکیں۔مسز رچیٹر بہروز عیسائی نے کہا کہ طلبہ نے ہر سیشن کے لیے بھرپور تیاری کی اور کئی راتیں جاگ کر گزاریں۔ ہر مرحلے کے آخری منٹوں میں بھی طلبہ تیاری میں مصروف رہے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ پاکستان سونے کا اعزاز حاصل کرے گا۔ ہمارے لیے اولمپیاڈ کا یہ دس دن زندگی بھر کا ایک اہم تجربہ ہے۔
