BBC Urdu TV

لاڑکانہ کی آنکھ وارڈ کی حالتِ زار

لاڑکانہ کی آنکھ وارڈ کی حالتِ زار…

*از قلم سید ایاز حسین گیلانی (ایم ایس سی ماس کام)*

آج میری چھوٹی بھانجی کے نار (آنکھوں سے پانی بہنے) کا آپریشن رکھا گیا ہے۔ مجھے چار مہینوں سے مختلف بہانے کر کے رلایا گیا۔ میرا بہنوئی شہدادکوٹ کا رہائشی ہے، اسے تین دفعہ بغیر کسی خاص وجہ کے واپس کیا گیا۔ اس کی وجہ پہلے دن سے ایک ہمارا پڑوسی آصف بھٹو تھا جو مجھے اچھی طرح جانتے ہوئے بھی مجھے گھماتا پھراتا رہا، اس کی وجہ وہ خود بتا سکتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہا تھا؟
آخری دفعہ ہمیں 25 ستمبر کی تاریخ دی گئی اور ہفتے کو آپریشن کا فکس ٹائم دیا گیا تھا۔ دی گئی تاریخ پر ہم او پی ڈی میں آئے تو پھر آصف بھٹو نے لسٹ پوری ہونے کا عذر دے کر سوموار کو آنے کا حکم دیا، جس پر وہاں موجود ڈاکٹر صاحب کو عرض کرنے پر ہفتے کی تاریخ ملی۔ ہمیں فیمل وارڈ کاشف بھٹو سے ملنے کو کہا گیا جس نے فائیل بنوانے کے بعد ہمیں ساری ٹیسٹیں لکھ کر دیں۔ جب رات کو داخل ہونے آئے تو کہا گیا کہ اس میں دل والے ڈاکٹر اور چیسٹ والے ڈاکٹر کا مشورہ نہیں ہے! ہم نے کہا ہمیں کسی نے کہا ہی نہیں تو مشورہ کیسے لیں آئیں؟ اس کے بعد وہاں بیٹھے پوسٹ گریجویٹ اسٹوڈنٹ ڈاکٹر نعمان سے رہنمائی لی کہ پرائیویٹ ڈاکٹروں سے اوپینین کرا کر لے آئیں؟ اس پر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ ہمارے قانون میں نہیں ہے، جس کے بعد ہوا وہی کہ ہم وہیں سوموار تک رکے رہے، سوموار کو اوپینین لینے کے بعد پھر کاشف بھٹو سے وارڈ میں ملے، اس نے کہا کہ رات کو لسٹ بنتی ہے اس میں آپ اپنا نام شامل کرا کر بدھ کی صبح پانچ بجے سے مریض کا کھانا پینا بند کر کے آنا ہوگا تو آپریشن کریں گے۔ رات کو ڈاکٹر نعمان سے لسٹ میں نام لکھوا کر بدھ 30 ستمبر کو صبح نو بجے سے پہلے وارڈ میں آئے جہاں ہماری لسٹ میں نام موجود نہیں تھا۔ وہاں بیٹھے کاشف بھٹو نے کہا کہ آصف بھٹو سے ملو اس کے پاس دوسری لسٹ ہے اس میں تمہارا نام ہوگا۔ اس سے ملا تو وہ اس وقت مجھ سمیت ہر مریض سے بدتمیزی سے بات کر رہا تھا۔ بہرحال میں نے اسے منت سماجت کر کے اپنا نام لسٹ میں ایڈ کرایا، جبکہ چودہ مہینے کی چھوٹی بچی بھوک کی وجہ سے رو رو کر نڈھال ہو رہی تھی لیکن ڈاکٹر شبیر پونے گیارہ بجے سے پہلے نہیں آیا۔ میں نے لگاتار کالیں اور میسجز ڈاکٹر شبیر کے نمبر پر کیں مگر صاحب بادشاھ جی اپنے ٹائم پر آئے۔ میں دروازے پر ہی ڈاکٹر صاحب سے ملا اور ساری صورتحال بچی کی بتائی مگر ڈاکٹر نے کہا کہ نشے والا ڈاکٹر ابھی نہیں آیا۔ خیر وہ نشے والا ڈاکٹر بھی گیارہ بجے پہنچ گیا اور آتے ہی مریضوں سے رشوت کے پیسے بٹورنے کا کام شروع ہو گیا ، لینس کے نام پر من مانگے پیسے کسی سے تین ہزار کسی سے چار ہزار پھر آپریشن ہونے کے بعد تین سو سے پانچ سو روپے خرچی الگ لی جا رہی تھی۔
ایسی صورتحال دیکھنے کے بعد آخرکار میرے بچے کی باری آئی تو ڈاکٹر میرے بچے کو او ٹی میں لے گئے مگر پانچ منٹ بعد بچے کو باہر لے آئے اور میری جھولی میں پھینکتے ہوئے بدتمیزی سے آصف بھٹو نے کہا کہ اس کو کینولا نہیں لگا تو آپریشن کیسے کریں؟ میں نے کہا تو نے بتایا کہ کینولا لگے گی! جس پر اس نے کہا کہ یہ وارڈ والوں کا کام ہے۔ میں نے کہا فائل چیک کرنا، مریض کی پوری کنڈیشن چیک کرنا، اس کے فاسٹنگ پر ہونا سب کچھ تو تمہارا کام ہے باقی کینولا لگا ہے یا نہیں یہ تمہارا کام نہیں؟ پھر تم دس دس لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟
بہرحال میرے ساتھ فیملی تھی اور میں بچے کو اٹھا کر دوسری بلڈنگ کے فیمیل وارڈ میں گیا جہاں کاشف بھٹو کو کینولا لگانے کے لیے کہا تو اس نے کہا کہ کینولا ہمارے پاس نہیں ہے باہر سے لے کر آؤ۔ میں نے وہ کینولا اپنے پیسوں سے لے کر پھر وارڈ میں آیا تو کاشف بھٹو نے کہا یہ برابر والی بلڈنگ میں ہریش کمار ہے اس سے لگواؤ۔ میں پھر بھاگتا ہوا ہریش کمار کے پاس گیا جس نے بھی کہا کہ یہ وارڈ والوں کا کام ہے ان سے کیوں نہیں لگوایا؟ میں نے اسے انسانی ہمدردی کا واسطہ دے کر کینولا لگوایا اور لے آیا تو آصف بھٹو نے کہا کہ اب سب سے آخر میں تمہارا آپریشن ہوگا۔ اس کے ساتھ ایک اکرم نام کا دوسرا اسٹاف والا جو مریضوں سے پیسے بٹورنے کے لیے رکھا ہوا تھا، وہ آستینوں کو چڑھا کر لڑنے کے لیے بار بار لپک رہا تھا، مطلب دونوں لڑکوں نے حدیں پار کر دیں۔اس کے بعد میں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال لاڑکانہ ڈاکٹر امجد بجارانی کو کال کی۔ ڈاکٹر امجد صاحب نے ڈاکٹر آفتاب لغاری جو رجسٹرار اور انچارج تھے ان کو معاملہ حل کرنے کے لیے کہا۔ اس کے باوجود میرے بچے کا آپریشن پونے دو بجے کیا گیا۔ صبح پانچ بجے سے بچے کا کھانا بند ہونے کی وجہ سے جتنا بچہ رو رو کر نڈھال ہوا تھا اگر ڈاکٹر آفتاب کی ہدایت پر بچے کو ڈرپ نہ لگی ہوتی تو یقیناً میرا بچہ ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے مر بھی سکتا تھا، بعد میں کہتے کہ بچے کی کنڈیشن قدرتی خراب تھی اس لیے مر گیا۔ایسے برتاؤ کے بعد مجھے سمجھ میں آ گیا کہ غریب سے غریب آدمی بھی اپنا مال متاع بیچ کر پرائیویٹ سینٹروں سے علاج کیوں کراتے ہیں! کیونکہ میں ایک صحافی ہوتے ہوئے اتنی خواری سے گزرا ہوں تو یہ بیچارے غریب اور انجان لوگ ان سے کیسے نپٹیں گے؟جب میں نے کمپلینٹ فائل کرنے کے لیے ان تین لوگوں، ڈاکٹر شبیر بھٹو، او ٹی بوائے آصف بھٹو، اور او ٹی بوائے اکرم کی معلومات لی تو پتہ چلا کہ آصف بھٹو تو میونسپل ملازم ہے جو غیر قانونی طور پر یہاں کام کر رہا ہے۔ اب ان کے خلاف کارروائی کے لیے میں پراپر فورم پر جا کر کوشش کروں گا تاکہ لاڑکانہ کے اسپتالوں کا ماحول سدھرے۔ میں کوشش کر سکتا ہوں یہ میرا فرض بھی ہے۔چھوٹے سے چھوٹے ملازم کے آفس میں بھی ایئرکنڈیشن لگے ہوئے ہیں اور مریضوں کے وارڈوں میں پنکھے بھی جلے ہوئے اور بیڈ برآمدوں میں پڑے ہیں۔ ایسا ظلم شاید سندھ کے علاوہ کہیں بھی نہیں ہوتا ہوگا! میں کہتا ہوں کہ مریض کو ایئرکنڈیشن میں رکھو اصل میں ضرورت تو بیمار کو ہے، ڈاکٹر اور اسٹاف کو ایئرکنڈیشن دینا غیر انسانی عمل ہے کیونکہ وہ پانچ گھنٹے ڈیوٹی کرنے آتے ہیں وہ بھی ایئرکنڈیشن میں بیٹھیں گے تو مریضوں کا علاج کیا کریں گے؟

Exit mobile version