BBC Urdu TV

قومی ذمہ داری اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی ناگزیر ہے، وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر محمد طفیل

*جامعہ کراچی میں یوم آزادی کی تقریب*

*قومی ذمہ داری اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی ناگزیر ہے، وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر محمد طفیل*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ پاکستان ہمارے بزرگوں اور اسلاف کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا، جنہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی کی ذمہ داری موجودہ نسل کو سونپی۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری ایک انتہائی وزنی لفظ ہے، جس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے ہمیں اپنے کردار اور فرائض کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم پر منحصر ہے کہ تاریخ ہمیں کن الفاظ میں یاد رکھے گی، اچھے یا برے۔ ماضی میں ممالک کو طاقت کے بل پر فتح کیا جاتا تھا، تاہم موجودہ دور میں ٹیکنالوجی نے دنیا کے منظرنامے کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ ٹیکنالوجی ہی اقوام کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچانے یا پستی کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ بھارت رقبے، آبادی اور عسکری قوت کے اعتبار سے پاکستان سے کئی گنا بڑا ہے، تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حالیہ معرکۂ حق میں پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے مؤثر جواب دے کر اپنی برتری ثابت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ٹیکنالوجی کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ کررہے ہیں، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی سے دوری ہماری ترقی میں رکاوٹ اور بالآخر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روزاسلامی جمہوریہ پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پرجامعہ کراچی کی انتظامی عمارت کے سامنے سبزہ زارپر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کا ۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہواجس کے بعد حمد ونعت پیش کی گئی ،ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اورشیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹر محمد طفیل نے پرچم کشائی کی۔تقریب مں تمام روئسائےکلیہ جات ،رجسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹرعمران احمد صدیقی، اساتذہ اور انتظامی عملے کی بڑی تعداد موجود تھی۔ڈاکٹر محمد طفیل نےمزیدکہا کہ 1940ء میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اور محض سات برس کے مختصر عرصے میں ایک آزاد ملک کا قیام بظاہر ناممکن دکھائی دیتا تھا، تاہم اس وقت قیادت اور قوم کے اندر پختہ عزم، غیر متزلزل وابستگی اور یہ یقین موجود تھا کہ پاکستان کا قیام ہر صورت عمل میں لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم بھی اسی جذبۂ عزم و عمل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ طے کرلیں کہ ہمیں اپنے ملک اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانی ہے اور ہر فرد اپنی ذمہ داری کو پہچان کر اسے دیانت داری سے ادا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم مطلوبہ تبدیلی نہ لاسکیں۔

Exit mobile version