قرآن و سنت کی پیروی میں زندگی کی خوبصورتی
تحریر: سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی، مدینہ منورہ سعودی عرب
انسان کی پوری زندگی دراصل راستے کے انتخاب کا نام ہے۔ ہر صبح ہمارے سامنے کئی راستے ہوتے ہیں؛ کچھ راستے آسان دکھائی دیتے ہیں، کچھ دل کو بھاتے ہیں، کچھ لوگوں کی بھیڑ کے ساتھ چلنے کا اطمینان دیتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن پر چلنے کے لیے انسان کو اپنے نفس، اپنی پسند اور اپنے تعصبات سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کون سا راستہ پسند فرمایا ہے؟
اسلام نے اس سوال کا جواب نہایت واضح انداز میں دیا ہے۔ وہ راستہ جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر ہے؛ وہ راستہ جس پر ایمان، عبادت، اخلاق، معاملات اور زندگی کے تمام شعبے ایک خوبصورت توازن کے ساتھ قائم ہوتے ہیں۔
دینِ اسلام محض چند عبادات، چند رسومات یا چند مذہبی تصورات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا مکمل نظام ہے۔ اس لیے دین کے معاملے میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی خواہش کو معیار نہ بنائیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو اپنا معیار بنائیں۔
محبت کا دعویٰ اور اتباع کا امتحان
دنیا میں محبت کے بہت سے دعوے کیے جاتے ہیں۔ کوئی زبان سے محبت کا اظہار کرتا ہے، کوئی اپنے محبوب کی یاد میں وقت گزارتا ہے اور کوئی اس کی پسند کو اپنی پسند بنا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت بھی محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ اس کا ایک عملی معیار ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ لوگوں سے کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ (سورۃ آل عمران: 31)
یہ آیت دراصل محبتِ الٰہی کا ایک روشن پیمانہ پیش کرتی ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرے، لیکن اس کی زندگی رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے بے نیاز ہو، تو اسے اپنے دعوے پر غور کرنا چاہیے۔
سچی محبت کا سب سے روشن ثبوت اتباع ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی پیروی صرف چند ظاہری اعمال تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ کی سنت عبادت سے لے کر معاملات تک، گھر سے لے کر معاشرے تک، اخلاق سے لے کر عدل و انصاف تک، ہر میدان میں ہمارے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
جو شخص رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے وہ آپ ﷺ کے طریقے کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، اسے سمجھتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے۔
اختلاف ہو تو رجوع کہاں؟
انسانی معاشرے میں اختلاف ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ رائے کا فرق، فہم کا فرق اور معاملات میں مختلف نقطۂ نظر فطری چیزیں ہیں۔ لیکن اسلام نے اختلاف کے وقت ایک ایسا اصول دیا ہے جو ہر دور میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قرآنِ مجید فرماتا ہے کہ اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ (سورۃ النساء: 59)
یہ اصول ہماری پوری دینی زندگی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے وقت ہماری پہلی ترجیح یہ نہیں ہونی چاہیے کہ میری بات کیسے ثابت ہو، بلکہ یہ ہونی چاہیے کہ حق بات کیا ہے؟
اگر ہم حق کے طالب ہیں تو ہمیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ شخصیت، جماعت، خاندان، علاقے، ماحول یا اپنی پسند حق کا آخری معیار نہیں ہوسکتے۔ حق کا اصل معیار اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ سنت ہے۔
یہی طرزِ فکر انسان کو تعصب سے نکالتا اور انصاف کے قریب لے جاتا ہے۔
ایک راستہ، بہت سے بھٹکانے والے راستے
قرآنِ مجید نے اللہ تعالیٰ کے راستے کو سیدھا راستہ قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے دور کردیں گے۔ (سورۃ الانعام: 153)
اس آیت میں ایک نہایت گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔
سیدھا راستہ ہمیشہ بھیڑ والا راستہ نہیں ہوتا، اور مقبول راستہ ہمیشہ حق کا راستہ نہیں ہوتا۔ حق کا معیار لوگوں کی تعداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔
ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دین کے ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ جو کچھ وہ اختیار کر رہا ہے، اس کی بنیاد قرآن و سنت میں کہاں ہے۔ کیونکہ عبادت کا تعلق صرف نیت سے نہیں بلکہ طریقۂ عبادت سے بھی ہے۔
نیت اچھی ہو، مقصد نیک ہو، جذبات پاکیزہ ہوں، لیکن اگر کسی عمل کو دین اور عبادت کی حیثیت دی جارہی ہے تو اس کے لیے شریعت کی رہنمائی بھی ضروری ہے۔
دین میں اضافہ نہیں، دین کی اتباع
رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے امت کو ایک نہایت بنیادی اصول عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دین میں ایسی چیز ایجاد کرے جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں فرمایا کہ جس شخص نے ایسا عمل کیا جس پر آپ ﷺ کا حکم نہیں، وہ مردود ہے۔ (صحیح البخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)
یہ حدیث دین کی حفاظت کا ایک عظیم اصول ہے۔
اس کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان ایک دوسرے سے الجھتے رہیں یا ہر وقت دوسروں کی غلطیاں تلاش کرتے رہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم خود اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور یہ سوال کریں:
جو عبادت میں کر رہا ہوں، کیا اس کا طریقہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے؟
یہ سوال انسان کو خود احتسابی کی طرف لے جاتا ہے۔
دین میں محبت بھی چاہیے، اخلاص بھی چاہیے، جذبہ بھی چاہیے، لیکن ان سب کے ساتھ اتباع بھی چاہیے۔
بہترین راستہ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے دکھایا
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دیتے تو آپ ﷺ کی آواز بلند ہوجاتی، آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آپ ﷺ نہایت مؤثر انداز میں لوگوں کو متنبہ فرماتے۔ آپ ﷺ فرماتے کہ بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین امور وہ ہیں جو دین میں نئے نکالے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (صحیح مسلم: 867)
یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ دین میں رہنمائی کا سب سے محفوظ راستہ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے امت کو عطا فرمایا۔
انسان اپنے محدود علم کی بنیاد پر بہت کچھ بہتر سمجھ سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں ہماری پسند فیصلہ کن نہیں ہوسکتی۔ جو چیز رسول اللہ ﷺ نے دین کے طور پر سکھائی، وہ ہمارے لیے سب سے بہتر رہنمائی ہے۔
اختلافات کے دور میں سنت کو مضبوطی سے تھامنا
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی مؤثر نصیحت فرمائی جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ تو رخصت ہونے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، ہمیں وصیت فرمائیے۔
آپ ﷺ نے تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت فرمائی اور فرمایا کہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور دین میں نئی ایجاد کردہ چیزوں سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ (سنن ابی داود: 4607، جامع الترمذی: 2676، سنن ابن ماجہ: 42)
غور کیجیے! رسول اللہ ﷺ نے اختلافات کی خبر بھی دی اور ان کا علاج بھی بتایا۔
اختلاف بڑھے تو کیا کیا جائے؟
سنت کو تھام لیا جائے۔
رائے مختلف ہوجائے تو کیا کیا جائے؟
قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا جائے۔
لوگ مختلف راستوں میں بٹ جائیں تو کیا کیا جائے؟
اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کو مضبوطی سے پکڑا جائے۔
یہی وہ حکمت ہے جس کی آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
بدعت کی مذمت، انسان کی تحقیر نہیں
دینی گفتگو میں ایک توازن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ بدعت سے بچنے کی تعلیم اپنی جگہ ایک شرعی اور اہم مسئلہ ہے، لیکن اس تعلیم کو کسی فرد کی تحقیر، نفرت یا باہمی دشمنی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
ایک عمل کے بارے میں علمی طور پر یہ کہنا کہ وہ قرآن و سنت سے ثابت نہیں، ایک بات ہے؛ جبکہ کسی شخص کی نیت، ایمان یا انجام کے بارے میں فیصلہ کرنا دوسری بات۔
اسلام ہمیں حق بات کہنے کے ساتھ حکمت، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق بھی سکھاتا ہے۔
اس لیے سنت کی دعوت بھی محبت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں، بلکہ خود بھی حق پر قائم ہونا اور دوسروں تک حق بات خوبصورت انداز میں پہنچانا ہونا چاہیے۔
نیکی کے لیے صحیح راستہ بھی ضروری ہے
یہ حقیقت ہمیشہ سامنے رہنی چاہیے کہ دین میں نیک نیتی بہت اہم ہے، لیکن نیک نیتی کے ساتھ صحیح طریقۂ عمل بھی ضروری ہے۔
ایک شخص اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتا ہے، یہ بہت بڑی بات ہے۔ لیکن اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا طریقہ رسول اللہ ﷺ نے کیا بتایا ہے۔
عبادت کے معاملے میں ہمارا جذبہ اپنی جگہ محترم ہے، مگر شریعت کا بتایا ہوا طریقہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
اسی لیے ایک مسلمان کے لیے سب سے خوبصورت رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی نیکی پر فخر کرنے کے بجائے اپنے عمل کی قبولیت کی فکر کرے، اپنی رائے پر اصرار کرنے کے بجائے دلیل تلاش کرے اور اپنی خواہش کو دین کے تابع رکھے۔
مکمل دین، محفوظ راستہ
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں دین کی تکمیل کا اعلان فرمایا ہے۔ (سورۃ المائدہ: 3)
جب دین مکمل کردیا گیا تو مسلمان کے لیے اطمینان کا راستہ یہی ہے کہ وہ اس مکمل دین کو اسی طرح اختیار کرے جیسے رسول اللہ ﷺ نے امت کے سامنے پیش فرمایا۔
ہمیں دین کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت نہیں؛ ہمیں خود کو دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
یہی اتباع ہے، یہی بندگی ہے اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
آج معلومات کے ذرائع بے شمار ہیں۔ سوشل میڈیا، ویڈیوز، تحریریں اور مختلف مجالس ہر شخص کو بے شمار دینی باتوں تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک ذمہ دار مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو فوراً دین نہ سمجھے، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی تحقیق کرے۔
خاص طور پر عبادات کے معاملے میں یہ احتیاط اور بھی ضروری ہوجاتی ہے، کیونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کی بندگی کا نام ہے اور بندگی کا طریقہ وہی معتبر ہے جس کی رہنمائی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے فرمائی ہو۔
ہمارا راستہ کیا ہو؟
آج ہمیں کسی نئے نعرے سے زیادہ ایک پرانی مگر ہمیشہ زندہ حقیقت کی ضرورت ہے:
قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور زندگی میں نافذ کریں۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کریں اور آپ ﷺ کی سنت کو جانیں۔
اختلاف ہو تو دلیل اور قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں۔
اپنی خواہش کو شریعت پر مقدم نہ کریں۔
دین میں اپنی طرف سے اضافہ کرنے سے بچیں۔
اور دوسروں کے ساتھ حق بات بھی حکمت، نرمی اور خیر خواہی سے بیان کریں۔
یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو انتہا پسندی سے بھی بچاتا ہے اور بے قیدی سے بھی؛ تعصب سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور دین میں من مانی سے بھی۔
اختتامیہ: محبت کا سب سے خوبصورت راستہ
اللہ تعالیٰ سے محبت ہر مسلمان کے دل کی سب سے بڑی خواہش ہونی چاہیے، لیکن اس محبت کی خوبصورتی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان رسول اللہ ﷺ کی اتباع کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے۔
سنت صرف کتابوں کے صفحات میں محفوظ کوئی تاریخی سرمایہ نہیں؛ سنت زندہ زندگی کا راستہ ہے۔ یہ عبادت میں رہنمائی دیتی ہے، اخلاق میں روشنی دکھاتی ہے، معاملات میں انصاف سکھاتی ہے اور انسان کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے۔
دین کی اصل خوبصورتی اس میں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بندگی اخلاص کے ساتھ کرے، رسول اللہ ﷺ کی اتباع محبت کے ساتھ کرے، قرآن و سنت کو اپنے اختلافات کا معیار بنائے، بدعت اور بے بنیاد دینی تصورات سے بچے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیر خواہی، عدل اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کرے۔
ہمیں دوسروں سے زیادہ یہ فکر ہونی چاہیے کہ ہم خود سنت کے کتنے قریب ہیں۔
ہمیں دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے۔
اور ہمیں ہر اختلاف کے شور میں اس روشن حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا راستہ وہی ہے جو اس کے رسول ﷺ نے دکھایا۔
قرآن ہماری رہنمائی ہے، سنت ہمارا عملی راستہ ہے، اور اتباعِ رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا روشن ذریعہ ہے۔
یہی راستہ دل کو سکون دیتا ہے، زندگی کو سمت عطا کرتا ہے اور انسان کو اپنے رب کی رضا کی طرف لے جاتا ہے۔
