اہم خبریںشوبز

فلم انڈسٹری تاحال مفلوج: کورونا وائرس نے سب سے زیادہ نقصان اس صنعت کو پہنچایا

لاہور: (خصوصی ایڈیشن) کورونا وائرس کمزور پڑ چکا ہے لیکن اس کے سب سے زیادہ اثرات فلم انڈسٹری پر باقی ہیں۔ رواں سال کے پہلے 9 مہینوں میں فلم انڈسٹری بحال نہیں ہو سکی۔

رواں سال میں 50 سے زیادہ فلمیں بنانے کا دعویٰ کرنے والوں نے عید کے موقع پر ہی فلمیں لگانے کا سوچا تھا، یہ موقع توہاتھ سے نکل گیا، سینما گھر ہی نہ کھل سکے۔ کہا جا رہا تھا کہ اگلی عید کے موقع پر فلموں کا میلہ سجے گا۔ورنہ 50 کے قریب فلموں کی ناکامی سے فلم سازوں کو شدید نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود اس میں جان پڑتی نظر نہیں آ رہی۔ رونقیں بحال نہیں ہو سکیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رواں برس کے باقی مہینوں میں فلم انڈسٹری اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے گی، لیکن جب میں زیر تکمیل فلموں کو دیکھتا ہوں تو ہر جانب مایوسی نظر آتی ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ کورونا وائرس کے بعد رواں سال کے باقی مہینوں میں بھی فلم انڈسٹری کی بحالی کا امکان کم ہے۔ اگر دیکھیں تو 2018ء کے مقابلے میں 2019 ء بہتر تھا، امید تھی کہ 2020شاندار ہو گا لیکن بہتری کی امید پوری نہ ہو سکی۔

مارچ2020ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں پچاس کے قریب فلمیں زیرتکمیل تھیں ، رکی ہوئی فلم ’’لیجنڈ آف مولا جٹ ‘‘ کے ریلیز ہونے کا بھی امکان تھا،محب مرزا کی فلم ’’عشرت میڈان چائنا ‘‘کا یونٹ بنکاک سے بغیر شوٹنگ مکمل کئے واپس آ چکا ہے، محب کی پہلی ذاتی فلم عشرت میڈان چائنا جو خاصے منفرد موضوع پر بنائی گئی ہے اور جو پہلے ہی سے کچھ تاخیر کا شکار تھی کورونا وباء سے پڑنے والی افتاد کے باعث اوور بجٹ بھی ہوگئی ۔اب یہ موضوع بھی پرانا ہو رہا ہے۔ ٹچ بٹن، لفنگے اور منی بیک گارنٹی کی ریلیزز بھی کنفرم کی گئیں۔لگتا تھا کہ فلم انڈسٹری میں جان پڑ رہی ہے۔لیکن مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

2019ء میں بھی انڈسٹری توقع کے مطابق ترقی نہ کر سکی تھی۔ ریلیز شدہ فلموں کی تعداد کم ہو گئی۔ جو فلمیں ریلیز ہوئیں ان کی کامیابی کا تناسب خطرناک حد تک گر گیا۔وہ بھی توقع کے مطابق بزنس نہ کر سکیں جس سے اس صنعت میں سرمایہ کاری میں مزید کمی آنے لگی۔

اکتوبر سے دسمبر 2019ء تک 6 اردو فلمیں ریلیز ہوئیں، جن میں ’’کاف کنگنا‘‘، ’’دُرج‘‘، ’’دال چاول‘‘، ’’تلاش‘‘، ’’ بے تابیاں‘‘ اور ’’سچ‘‘ شامل ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ 2019ء میں ریلیز ہونے والی آخری اردو فلم ’’سچ ‘‘ کا حال یہ تھا کہ پہلے دن بھی کوئی سینما ہال فل نہیں ہوا۔ فلم سازوں نے کہا کہ اگر یہی فلمیں عید کے موقع پر ریلیز ہوتیں تو بزنس میں 30 فیصد اضافہ ہو سکتا تھا۔

یعنی پاکستانی فلمز کو عید تک محدود کئے جانے کی سوچ مزید گہری ہو گئی۔ ویسے بھی پاکستانی فلمسازوں کے پاس عید کے سوا کوئی پروڈکٹ ہے بھی نہیں۔ بتایا گیا کہ یہ ناکامی عید پر ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ یہاں فلم انڈسٹری عید پر انحصار کرتی ہے۔

عید پر سینما گھروں میں فلمیں دیکھنے کا رجحان پچھلے چار پانچ برسوں میں کافی بڑھ گیا ہے، فلم ساز مانتا ہے کہ عید پر ریلیز ہونے والی فلم،کاروباری لحاظ سے بڑی حد تک محفوظ سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ اس کی مثال یاسر نواز کی ’’رانگ نمبر ٹو‘‘ اور وجاہت رئوف کی ’’چھلاوا‘‘ ہیں۔ عیدالفطر پر لگنے کی وجہ سے دونوں کا بزنس دوسری فلموں سے زیادہ بہتر رہا۔

10 سال پیچھے چلے جائیں تو پاکستانی سینما نے نئی شکل لینا شروع کی تھی، نئے عہد کے سینما میں شعیب منصور کی فلم ’’خدا کے لئے‘‘ کے بعد متعدد اچھی فلمیں پیش کی گئیں۔اسی دور میں فلم انڈسٹری لاہور سے کراچی منتقل ہو گئی ،اسے ہم پاکستانی سینما کا نیا عہد بھی کہہ سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 90 فیصد کامیاب فلمیں عید پر ہی ریلیز ہوئیں۔

اب عید آنے میں کئی مہینے باقی ہیں۔ایک سوچ ہے کہ فلمیں لگانی ہیں تو عید کے دن ہی لگائیں گے۔ چند فلمسازوں نے عید کے علاوہ دوسرے دنوں میں فلمیں ریلیز کرنے کی کوشش کی مگر انہیں 20 سے 35 فیصد تک کم رسپانس ملا۔ عید کے علاوہ جو سات آٹھ فلمیں ریلیز ہوئیں انہیں اچھا رسپانس نہیں ملا۔

فواد خان نے کہا تھا کہ ’ہماری فلموں کی ریلیز کا سب کو انتظار تھا۔ اسکا ٹریلر جاری ہونے کے بعد لوگ ان سے پوچھا کرتے تھے کہ یہ فلم کب ریلیز ہو گی؟ اور جب انہیں بتایا گیا کہ بس ریلیز ہونے والی ہے تو وائرس نے سینما گھر ہی بند کرا دیئے۔فلم کے نہ لگنے سے سینما ورکرز بھی بے حد مایوس ہیں، رواں سال ایک بھی پاکستانی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔

ماڈل و اداکارہ عُروا حسین و فرحان سعید کی پروڈکشن میں قاسم علی کی بطور ہدایتکار پہلی فلم کا ٹریلر جاری کیا جاچکا تھا، فلم کو شان دار طریقے سے ریلیز کیا جانا تھا۔ فیروز کی پہلی فلم ’’کتنی حسین ہے زندگی‘‘ کے بعد یہ ان کے کیریئر کی دوسری و آخری فلم ہوتی۔

سنگر ٹرن ایکٹر فرحان سعید سلور اسکرین پر انٹری دینے والے تھے، ان کی فلم کے ٹریلر سے اندازہ لگایا گیا کہ وہ کامیاب ہو سکتی ہے۔ کئی کامیاب سیریلز کی رائٹر فائزہ افتخار کی کہانی دوستی اور محبت میں چھوٹی موٹی غلط فہمیوں کو نمایاں کرتی ہیں، فلم میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ معمولی باتوں کو اہمیت نہ دی جائے تو زندگی بڑی خوب صورت بن سکتی ہے۔

عابد علی مرحوم کی بیٹی ایمان علی نے شعیب منصور کی فلم ’’خدا کے لئے‘‘ کے ذریعے سلور اسکرین پر قدم رکھا پھر فلم ’’بول‘‘ میں اپنا کردار بھی عمدگی سے نبھایا۔ کافی دیر بعد ایمان کی فلم ریلیز کے لئے تیار تھی، بس سنسر سے گزرنا باقی تھا کہ تما کام رک گیا۔

کورونا وباء کے بعد فلم انڈسٹری بہت کمزور ہو چکی ہے ،کچھ فلموں کی نمائش سے سینما ہالز روپیہ کما رہے ہیں،فلم سازاور اداکار فلم انڈسٹری میں پہلے جیسی جان پڑنے کے منتظر ہیں۔ ہماری فلم انڈسٹری اب بیرون ملک معاہدے کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہی،بیرون ملک بزنس کرنے کے لئے بھی سرمایہ درکار ہے جو اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You