*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: گرین بسیں فی بس کی لاگت 2,20,000 امریکی ڈالر*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
حقیقت یا فسانہ اب تو حقیقت کو ہی فسانہ بنادیا جاتا ھے غیر سنجیدگی نااہلی بددیانتی بےایمانی کی تمام حدیں پار ہوچکی ہیں عجیب عجیب منطقیں اور عجیب و غریب کہانیاں اور فسانے سنائے جاتے ہیں جبکہ حقیقت سے آشناء پر اس قدر قدغن اور زبانوں قلموں پر زنجیروں میں مقید کردیا گیا ھے جس دے جھوٹ نفاق اور منافت سر چڑھ دوڑ رھی ھے معزز قارئین گرین بسیں چین کی یوتانگ کمپنی سے خریدی گئی ہیں۔ فی بس کی لاگت دو لاکھ بیس ہزار امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی روپیوں میں چھ کروڑ بارہ لاکھ روپے فی بس بنتی ہے۔ کل منصوبہ تین ہزار بسیں خریدنے کا تھا جن میں سے گیارہ سو بسوں کا پہلا بیچ چورانوے ارب روپے میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے بس اسٹاپس یا اسٹیشنز کی تعمیر پر اٹھارہ ارب نوے کروڑ روپیہ خرچ ہوا۔ اس کے بعد دو ہزار بسوں کا اگلا بیچ آیا جس کی لاگت ایک سو اڑسٹھ ارب یا ایک کھرب اڑسٹھ ارب روپے تھی۔ اس کی فی کس ٹکٹ صرف بیس روپے رکھی گئی جبکہ ان بسوں کو چلانے والی کمپنیوں کو سالانہ سینتیس ارب پچپن کروڑ کی ادائیگی کا معاہدہ کیا گیا۔ ان تمام بسوں کی خریداری اور اسٹیشنز کی تعمیر پر دو سو اسی اعشاریہ نوے ارب یا دو کھرب اسی ارب نوے کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے بھارتی پنجاب کے بجلی کے اس منصوبے جیسے، جس میں ہر گھر کو مایانہ تین سو یونٹس مفت مل رہے ہیں، نو منصوبے لگائے جاسکتے تھے جس سے پاکستان کے پنجاب تو کیا سارا پاکستان سُکھی ہوجاتا اور غریب عوام دو سو ایک یونٹ والے عذاب سے آزاد ہوجاتے۔ اس سیاسی مفاداتی غیر متوان پروجیکٹ کو بنانا قائم رکھنا عوام کی خدمت نہیں بلکہ نسلوں پر بوجھ ھے جو موجودہ اور مستقبل کی نسلیں بوجھ اتارتے اتارتے اذیت ناک کرب ناک مشکلات و مصیبتوں سے نہ ختم ہونے والا عذاب جھیلتی رہیگی۔ خدارا اس قوم کو بخش دو رحم کھا لو حیرت تو ان پر ھے جو مقتدر ہیں اور انتہائی طاقتور انکی خاموشی اور زیادہ تشویش میں مبتلا کردیتی ھے۔
