کالم/مضامین

عنوان: کیا یہی ھے جناح کا پاکستان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: کیا یہی ھے جناح کا پاکستان

لاکھوں سچے مخلص دیندار ایماندار بھارتی مسلمانوں جانی مالی قربانی کے عطیہ سے 14 اگست سن 1947 عیسوی کو قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ الله علیہ کی قیادت میں مشیران و رفقائےکاران کی انتھک محنت کے بعد دنیائے عالم میں خالصتاً دوسری اسلامی ریاست وجود میں آئی کیونکہ پہلی ریاست آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے نام سے بنائی تھی۔ نئی نسل کو بآور کرانا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ہوں یا نواب لیاقت علی خان و دیگر تحریکِ پاکستان کے عہدیداران و کارکنان مالی طور پر بہت زیادہ مستحکم تھے لیکن اس سرزمین کی خاطر انھوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور نواب لیاقت علی خان کے دور میں ہر محکمہ و ادارہ و شعبہ اپنی حدود کے تحت جانفشانی کیساتھ مصروف عمل تھا اور پاکستان تیزی سے ترقی کیجانب بڑھ رہا تھا۔ نامساعد حالات کے باوجود ہر ایک ایمانداری نیک نیتی خلوص و سچائی کیساتھ عمل پیرا تھا۔ دشمنانان پاکستان کو یہ گوارا نہ تھا کہ پاکستان میں عدل و انصاف کیساتھ نظام آگے بڑھے اسلیئے قائد اعظم محمد علی جںاح کے انتقال کے بعد آپکے جانشین نواب لیاقت علی خان کو پنڈی کے ایک جلسہ میں شہید کردیا اور یوں اپنے سہولتکاروں کو پاکستان کے اقتدارمیں داخل کردیا۔۔۔۔ معززقارئین!! بیرسٹر محمد علی جناح دنیا کے ان چند وکلا میں سے تھے جو ہمیشہ کیس جیتتے تھے اور ان کی قابلیت و مہارت کے ڈنکے جہاں بھر میں مشہور تھے یہی وجہ ہے کہ اس دور کے مہنگے ترین وکلا میں شمار کیئے جاتے تھے اور دوسری جانب نواب لیاقت علی خان کی دولت کا ذکر کریں تو ہر روز نیا لباس زیب تن کرتے وہ بھی صرف ایک بار۔ یہ شخصیات خاندانی امراء تھیں لیکن آج سن بیس سو اکیس عیسوی میں پاکستان کو دیکھتا ہوں تو خون کے آنسو بہتے ہیں نہ جی سکتا ہوں نہ مرسکتا ہوں۔ کہنے کو تو مدینہ ثانی کا لقب دیا گیا ہے اس ریاست پاکستان کو لیکن حقیقت اسکے مکمل برعکس ہے الله ہماری کوتاہیوں غلطیوں اور سرزشوں کو معاف فرمائے آمین یارب الآمین ۔۔۔ معزز قارئین!! اب ذکر کرتے ہیں کہ موجودہ پاکستان یعنی مدینہ ثانی میں ہوکیا رہا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ قائد اعظم اور نواب لیاقت علی خان کے بعد سے جو پاکستان مخالف قوتوں اور ملک دشمنوں نے اسلام مخالف اور ناانصافی عدم تحفظ اور غیر مساوات کے سلسلے شروع کردیئے تھے آج موجودہ حکومت میں کہاں تک پہنچے ہم دیکھتے ہیں کہ آج سرکاری ملازمین کی ریٹائرڈ اشرافیہ( جرنیل، ججز و وفاقی سیکریٹریز ) یا پھر مختلف کیڈرز اور گروپس میں انکے مساوی عہدوں پر کام کرنے والے سابقہ سرکاری افسران کو حکومت وقت دوبارہ بھرتی کرکے انہیں ٹیکس دہندگان کی جیبوں سے بھاری اور مکمل تنخواہیں ادا کر رہی ہے جبکہ سرکاری خزانے سے انہیں پنشن الگ سے ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حاضر سروس جرنیل،سپریم کورٹ کےججز بشمول چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی سیکریٹریز کو نقصان ہورہا ہے کیونکہ انکے ریٹائرڈ ہوجانے والے ساتھیوں کو مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد بھی ذمہ داریاں عائد کردی جاتی ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں ایسے کئی اہم عہدے ہیں جن پر ریٹائرڈ ہوجانے والے افسران کو دوبارہ بھرتی کرکے ٹیکس دہندگان کی جیبوں سے ادائیگیاں کی جارہی ہیں حالانکہ ملک کو شدید مالی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی سرکاری افسران اشرافیہ پر اس دریا دلی کا سبب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی کے جائزے کی ضرورت ہے اور حکومت اس معاملے کو پے اینڈ پنشن کمیشن کو بھیج سکتی ہے۔ کئی معاملوں میں اعتراف کیا جاتا ہے کہ ایسے ریٹائرڈ افسران ہیرا پھیری کرکے یا اپنے تعلقات استعمال کرکے دوبارہ بھرتی ہوجاتے ہیں۔
تجویز دی گئی ہےکہ سرکاری خزانے کو بچانے کیلئے اور ریٹائرمنٹ کے سرکاری افسران کی دوبارہ بھرتی ہوجانے کی جی توڑکوششوں کے تدارک کیلئے اگر کسی ریٹائرڈ سرکاری افسر کو دوبارہ بھرتی کیا جائے تو اُسے صرف اسی عہدے کی تنخواہ دی جائے اور جب تک ریٹائرمنٹ کے بعد کی مدت ملازمت پوری نہیں ہوجاتی اُسکی پینشن روک دی جائے۔ سرکاری دستاویزات دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو وفاق میں اہم عہدہ حاصل ہے اور وہ ماہانہ چوبیس؍ لاکھ روپے سرکاری خزانے سے وصول کررہے ہیں۔ اُن جیسے کئی لوگ وفاق اور صوبائی حکومتوں میں دوبارہ بھرتی کیئے گئے ہیں اور انہیں سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے جج کے مساوی تنخواہ دی جارہی ہے اور ماہانہ پینشن الگ وصول کر رہے ہیں۔ بھاری تنخواہ اور بھرپور پینشن کے علاوہ یہ ریٹائرڈ افسران ریٹائرڈ سپریم کورٹ ججز کےعہدے کے ساتھ اپنے موجودہ عہدوں کی مراعات سے بھی لطف اندوز ہورہے ہیں۔ وفاق میں اہم عہدے پر موجود سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو جملہ تیرہ؍ لاکھ تیرہ؍ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے جس میں بارہ؍ لاکھ انتالیس؍ ہزار روپے بنیادی تنخواہ، چھ؍ ہزار روپے ٹیلی فون الائونس جبکہ اڑسٹھ؍ ہزار روپے گھر کا کرایہ (ہاؤس رینٹ) شامل ہے۔ اسکے علاوہ، انہیں پنشن کی مد میں نو؍ لاکھ اٹھائیس؍ ہزار روپے ملتے ہیں جس میں آٹھ؍ لاکھ پندرہ؍ ہزار ایک سو تینتیس؍ روپے پنشن جبکہ چھپن؍ ہزار چار سو پینسٹھ؍ روپے خصوصی اضافی پنشن، میڈیکل الائونس برائے پنشنر کی مد میں پینتالیس؍ ہزار سات سو ننانوے ؍ روپے جبکہ گیارہ؍ ہزار چار سو پچاس؍ روپے کا میڈیکل الائونس برائے سن دو ہزار پندرہ بھی شامل ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ریٹائرڈججز اور انکے اہل خانہ کو دوبارہ بھرتی کیئے جانے کے بعد ان کی موجودہ ملازمتوں میں بھی طبی سہولتیں حاصل ہیں لیکن اس کے بعد بھی پنشنر کی حیثیت سے انہیں بھاری بھر کم میڈیکل الائونس ملتا ہے۔ ریٹائرڈ ججوں کو ڈرائیور کی سہولت حاصل ہے اور انہیں پیٹرول کی مد میں بھی ماہانہ رقم اور دیگر مراعات وغیرہ بھی حاصل ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ بھرتی کیئے جانے پر بھی انہیں ان مراعات سے زیادہ ہی مل رہا ہے۔ انہیں سرکاری رہائشگاہ حاصل ہے اور اگر کوئی یہ سہولت حاصل نہ کرنا چاہے تو اسےہاؤس رینٹ (گھر کا کرایہ) دیا جاتا ہے لیکن دونوں معاملات میں انہیں یہ حق حاصل ہے کہ گھر کی تزئین و آرائش کیلئے سرکاری خزانے سے رقم وصول کریں اور ساتھ ہی ان گھروں کے بل (یوٹیلیٹی) بھی حکومت ہی ادا کرتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کی مد میں ریٹائرڈ جج کو سرکاری یا نجی استعمال کیلئے اٹھارہ سو؍ سی سی کار بمعہ ڈرائیور اور چھ سو؍ لٹر پٹرول ماہانہ دیا جاتا ہے اور یہ خرچہ بھی حکومت ادا کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو ٹیلیفون کی سہولت حاصل ہے جس کیلئے انہیں ماہانہ دو ہزار فون کالز کی سہولت حاصل ہے، ان کے گھر کا بجلی اور گیس کا بل حکومت ادا کرتی ہے، انہیں دو سو لٹر پٹرول ماہانہ دیا جاتا ہے، مفت پانی، ایک گارڈ، ایک ڈرائیور اور ایک اردلی کی سہولت حاصل ہے اور اگر وہ یہ سہولت حاصل نہ کرنا چاہیں تو انہیں ڈرائیور اور اردلی کی تنخواہ اور الائونسز کے مساوی رقم ادا کی جاتی ہے۔ ریٹائرڈ سیکریٹریز اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے معاملے میں دیکھیں تو اگرچہ ان کی پنشن ریٹائرڈ ججوں کے مقابلے میں کم ہے لیکن زیادہ تر کیسز میں یہ ریٹائرڈ جرنیل اور ریٹائرڈسیکریٹریز اہم عہدوں پر نظر رکھے ہوتے ہیں تاکہ دوبارہ بھرتی ہوکر بھاری تنخواہیں بھی وصول کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت میں اہم ترین سرکاری اداروں جن میں ریگولیٹری اتھارٹیز، خودمختار اورنیم خودمختار ادارے، وفاقی و صوبائی پبلک سروس کمیشنز، پلاننگ کمیشنز، نیب، سی پیک اتھارٹی، ایسے کمرشل اداروں جو دفاعی شعبہ جات وغیرہ میں آتے ہیں، ان میں اکثر و بیشتر ریٹارڈ سرکاری افسران کو دوبارہ بھرتی کیاجاتا ہے حتیٰ کہ ایسے عہدوں کی تنخواہیں اور مراعات اس قدر شاندار کردی جاتی ہیں جو حاضر سروس سیکریٹری یا پھر جرنیل کو ملنے والی مراعات سے بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ ریٹائرڈ افسران نہ صرف اپنے حاضر سروس ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں بلکہ پنشن کے بھی مزے لیتے ہیں۔۔۔۔معزز قارئین!! گزشتہ چند ماہ قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کو احساس بیدار ہوگیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے گروپ انشورنس کی مد میں ماہوار کٹوتی کی جاتی ہے اور اسکا اختتام ریٹائرڈمنٹ پر ہوتا ہے قانونی و اخلاقی طور پر اسٹیٹ لائف اور صوبائی وزیراعلیٰ محکمہ خزانے کو پابند کرہے کہ وہ ہر ملازم کو ریٹائرڈمنٹ کے ساتھ گروپ انشورنس کی ادائیگی لازمی کرائے لیکن بہت التجا گزارشات کے باوجود سندھ حکومت اس بابت اندھی گونگی بہری ہوجاتی ہے۔یاد رہے کہ چیف جسٹس صاحب نے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل بنایا کیونکہ اس عمل سے کم ترین تنخواہ دار سرکاری ملازمین کے کچھ آنسو پونچھ جائیں گے بحرکیف یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ موجودہ پاکستان میں کہیں کسی بھی مقام پر نہ عدل ہے نہ انصاف۔ نہ تحفظ ہے اور نہ ہی انسانیت گو کہ انکارکی پھیلی ہوئی ہو البتہ یہاں حرام عام ہوچکا ہے اور حلال دفن کردیا گیا ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ ہی جمہوریت ہے اور نہ ہی اسلام خواہ تو ہم بہت ہیں کہ ہم بنائیں قائداعظم کا پاکستان لیکن اس کیلئے ہمیں نظام تبدیل کرنا ہوگا اب دیکھنا ہوگا کہ کون ہے جو نظام تبدیل کرے بناء نظام تبدیل کیئے ہم نہ تو امن و سکون سے رہ سکتے ہیں اور نہ ہی مالی جسمانی اور عسکری طور پر مستحکم رہ سکتے ہیں الله پاکستان کا حامی و ناظر رہے آمین ثما آمین

کالمکار: جاوید صدیقی

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You