*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان : چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا غیر آئینی فیصلہ …*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں قادیانی کو کافر قرار دیا گیا ھے اور انہیں کسی بھی اسلامی اشاعت فروغ اور دین محمدی ﷺ سے مشابہہ عمل کو جرم قرار دیتے ھوئے سختی سے روکنا کا حکم رکھا گیا ھے لیکن حالیہ چند برسوں میں خاص طور پر جمہوری پارلیمانی حکومتوں میں یکے بعد دیگرے ان ملعون خبیثوں قادیانیوں کی دین محمدی ﷺ میں چھیڑ چھاڑ جاری رہی ھے، سیاسی حکمرانوں کی نرمی اور پولیس و عدالت کی بے حسی و لالچ نے انکے حوصلہ بلند کردیئے۔ ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے مسلکوں نے اس بابت بھرپور رد عمل پیش نہیں کیا اپنے اپنے اختلافات پر توجہ دی یہی سبب ھے کہ موجودہ سپریم کورٹ کے جسٹس کو غیر آئینی غیر دستوری فیصلہ صادر کرنے میں قطعی ہچکچاہٹ کا سامنا نہیں تھا، دین محمدی ﷺ سے کھلواڑ انہیں بہت بھاری پڑیگا اور دنیا دیکھے گی کہ اللہ انہیں عبرت کا نشان کس طرح بناتا ھے اور عشق رسول ﷺ کا دم بھرنے والوں سے بھی حساب لیا جائیگا کہ تمہارا عمل عشق کہاں تھا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! اپنے کالم کو بڑھانے سے قبل قرآن پاک و حدیث جس میں کھلی روشن دلیل بیان ھے ۔۔۔۔ اَنَا المُقَفِّی قَفَّیْتُ النَّبِیّینَ وَاَنَا قَیِّمٌ ترجمہ : میں ہی سب سے پیچھے آنے والا ہوں (یعنی دنیا میں سب انبیاء کے بعد آنے والا ہوں اور میں آخری نبی ہوں)، میں سب نبیوں کے بعد آیا ہوں (یعنی مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا) اور میں قیم ہوں … اَنَا الْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ بُعِثْتُ بِالْجِهَادِ وَلَمْ اَبْعَثْ بِالزُّرَّاعِ ترجمہ : میں ہی پیچھے آنے والا ہوں اور میں حاشر ہوں مجھے جہاد کیلئے بھیجا گیا کھیتیوں کیلئے نہیں … اَنَا الْعَاقِبُ ترجمہ : میں ہی عاقب ہوں (اور عاقب وہ کہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں) … اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ترجمہ : میں خاتمُ النّبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے… اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ ترجمہ : میں آخری نبی ہوں فخریہ نہیں کہہ رہا… اَنَا آخِرُ الْاَنْبِيَاءِ ، وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ ترجمہ : میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امّت ہو … معزز قارئین!! اب ھم اس بابت دیکھتے ھیں کہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سپریم کورٹ اسلام آباد نے قادیانی ملعونوں کو پاکستان میں قرآن کی من مانی تشریح اور ترجمہ کی اجازت دے دی کچھ سال پہلے چناب نگر میں قادیانی ملعونوں کا ایک پریس پکڑا گیا تھا جس میں مرزا ملعون کی تفسیر قرآن کو چھاپہ جارہا تھا، جس پر پریس کے مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی چھ فروری سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی بروز جمعرات کو جب پورا پاکستان الیکشن کے معاملات میں مگن تھا سپریم کورٹ نے اس ملعون کی پٹیشن پر فیصلہ سنا کر اسکے خلاف ایف آئی آر کو ختم کرکے اس کو بری کرنے کا حکم دے دیا مزید یہ بھی حکم دیا کہ قادیانیوں کو دیگر کافروں کی طرح پاکستان میں اپنے مذہب پر عمل کرنے اور ترویج کرنے کی اجازت ہے اس ضمن میں وہ اپنی کتب شائع اور اسکا اجراء بھی کرسکتے ھیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! ماہر قانون راؤ عبدالرحیم کا کہنا ھے کہ قادیانی یعنی خود کو کہلوانے والے احمدیوں کی شر انگیزیاں عروج پر ھیں، عدالتی ناکامی، قانونی کرپشن اور پنجاب حکومت کی مسلسل بےحسی کی وجہ سے قادیانیوں کے منفی عمل بڑھ چکے ھیں۔۔۔ معزز قارئین!!اسلامی جمہوریہ پاکستان سے غلط قرآنی تراجم سنہ دو ہزار تیرہ اورچودہ عیسوی سے پوری دنیا کی مختلف زبانوں میں ایکسپورٹ کرکے مسلمانوں کو بھٹکایا اور قادیانی بنایا جارہا ہے۔ عدالتی حکم کے باوجود یہ نسخے برابر تقسیم ہورہے ہیں۔ عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی یعنی اس جرم کے باوجود کوئی ایف آئی آر نہ کاٹی گئی۔ افسوسناک یہ کہ جے آئی ٹی نے درخواست گزاروں اور تمام ثبوت فراہم کرنے والوں ہی کو جھٹلا دیا مگر پھر ایف آئی اے سے اسکی تصدیق ہوگئی کہ یہ قادیانی کمیونٹی ہی سے برابر اور کھلے عام چھپ رہا اور تقسیم ہورہا ہے۔ ڈی آئی جی شاہد جاوید نے اس تفتیش ہی کو دبا دیا اور رکوادیا۔ اس دوران غلط ترجمہ والے قرآنِ مجید مفت تقسیم کئے جانے لگے۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی تصدیق کی کہ یہ تمام غلط کام ہورہے ہیں، اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ہائی کورٹ کے حکم پر دو مرتبہ بلا کر اس ساری شر انگیزی کو رکوانے کا مطالبہ کیا گیا مگر آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ھوسکا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! عالمی سطح پر قادیانیوں کی مذہبی آزادی کا پروپیگنڈہ کرنے والے وہی تخریب کار عناصر ہیں جو ہم جنس پرستی کے شیطانی ایجنڈہ کو پاکستان میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان میں مخنث افراد کو خواجہ سرا کی بجائے ٹرانس جینڈر لکھوانا شروع کیا گیا اور پھر سب کو اجازت دے دی گئی کہ وہ اپنی منشاء کے مطابق اپنی جنس تبدیل کروا سکتے ہیں اور خود کو ٹرانس جینڈر کہلوا سکتے ہیں یاد رکھیں کہ مرد و عورت کے علاؤہ تیسری جنس مخنث افراد ہیں جن کو ہمارے معاشرے میں خواجہ سرا اور خسروں کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن ٹرانس جینڈر کوئی جنس نہیں ہے بلکہ ایک جنس سے دوسری جنس میں بذریعہ میڈیکل خود کو تبدیل کروانے کے عمل کو ٹرانس جینڈر کہتے ہیں جو سراسر غیر شرعی اور غیر اسلامی عمل ہے اور ایسے لوگوں کو جو کسی دوسری جنس کی شبہات اختیار کریں اللّٰہ اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ پاکستانی علماء اور عوام کو جاگتے رہنا چاہئے اور اپنے ایمان کو بچانا چاہئے اور ہر ایسے عمل کی بھرپور مخالفت کرنی چاہئے جو اسلام میں جائز نہ ہو جس سے شریعت پر قدغن لگتا ہو۔ اپنی آئندہ نسل کو بچائیے اور بغیر کسی امتیاز کے ایسے قوانین اور عناصر کیخلاف بھرپور آواز ضرور اٹھائیں۔ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پی پی پی، پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این سمیت چھوٹی جماعتیں بھی شریک جرم ٹرانس جینڈر بل پاس کروانے میں ہم کردار ادا کررھی تھیں اور آج بھی ٹرانس جینڈر کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہیں اور انکی بہتری کیلئے اقدامات اٹھانا چاہتی ہیں۔ اس میں پاکستانی میڈیا کا کردار انتہائی خبیث و غلیظ رھا ھے بلکہ یوں کہنا بجا ھوگا کہ غیر مسلموں خاص کر قادیانیوں کے بہترین آلہ کار و سہولتکار بنے رھے اور بنتے جارھے ھیں ان حالت میں علماء دین و مشائخ اور دینی جماعتوں کیساتھ ساتھ عوام کو بھی جاگتے رہنا اور جانتے رہنا چاہئے۔۔۔۔ معزز قارئین!! مفتی اعظم پاکستان کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو پیغام میں کہا ھے کہ آپ عام مقدمات میں بار بار آئین کا حوالہ دیتے ہیں لیکن قادیانیوں کے بارے میں آپ آئین کو بھول جاتے ہیں۔ آپ کے فیصلوں اور ریمارکس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ دستوری اعتبار سے طے شدہ کو غیر طےشدہ قرار دے رہے ہیں۔ آپ کا یہ عمل ریاست پاکستان میں انتشار بے امنی اور لاقانونیت کو فروغ دیگا اس بابت آئینی و مذہبی غور و فکر کی ضرورت ھے، یہ پاکستانی عوام سب کچھ برداشت کرسکتی ھے لیکن ایمان اور دین کے معاملہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت سے نبردآزما ھونے کیلئے ہمہ وقت تیار کھڑی رہتی ھے اسی لئے اپنے فیصلہ پر فی الفور نظر ثانی کرلیجئے کہیں دیر نہ ھوجائے…!!
