BBC Urdu TV

*عنوان : پی پی پی قومی جماعت تھی اور رہنی چاہئے*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان : پی پی پی قومی جماعت تھی اور رہنی چاہئے*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت پاکستان آصف علی زرداری کو سندھ بلخصوص کراچی میں بہترین انتظامی امور خاص طور پر سیکیورٹی بنیاد پر امن و سکون اور یقینی تحفظ پہنچانے کیلئے سخت ترین اقدامات اٹھانے کی ضرورت ھے۔ سیاست اور سیاسی تعلقات و روابط ایک طرف رکھتے ہوئے عوام کی فلاح و ترقی، جان و مال کا تحفظ سیکیورٹی اداروں کی شفافیت ایمانداری دیانتداری خلوص اور مکمل پروفیشنل ازم سے مشروط کرنے کی اشد ضرورت ھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی میں ایک سے بڑھ کر ایک ذہین قابل اہل اور ہر شعبہ سے ماہرانہ سوچ و افکار مشاہدے و تجربہ کار رکھنے والے موجود ہیں ان جیسے لوگوں سے کام آپ ہی لے سکتے ہیں یاد رکھئے کہ مجرم سے رعایت و نرمی ہی جرائم کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ھے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت پاکستان آصف علی زرداری کو سندھ بلخصوص کراچی میں تمام تھانوں کی از سر نو تشکیل کرنی چاہئے تھانوں میں تعیناتی بناء رشوت بناء فروخت صرف اور صرف اہلیت و قابلیت اور ماہرانہ صلاحیت پر مرکوز رکھنی چاہئے۔ تھانوں میں تعینات سپاہی سے لیکر افسر تک کسی بھی قسم کے نشہ میں ملوث خارج جاب ہونا چاہئے۔ شراب بھنگ چرس افیون ہیروئن گھانچہ اور گٹکا وغیرہ سے پاک ہی ملازمت کا اہل قرار دیا جائے۔ تھانوں میں تفتیشی اہلکار و افسران کو تھانوں میں موجود رہتے ہوئے الگ آزاد خودمختار شعبہ تصور کیا جائے جو ہر طرح کے دباؤ سے مبرا ھو تاکہ انکی تفتیش ننانوے فیصد درست سمت میں صحیح ثابت ہو جو جج کیلئے کیس میں انتہائی معاون ثابت ھو۔ دوسری جانب عدالتوں میں بھی پروفیشنل ازم ہونا شرط رکھ دیا جائے۔ پیشکار سے جج اور جسٹس تک تمام ملازمین و افسران رشوت دباؤ اور لالچ سے عاری ہوں تاکہ انصاف کے تقاضے مکمل کئے جاسکیں اور ایک عام شہری کو بھی بروقت آسان سستا اور بہترین انصاف مل سکے۔ مظلوم کی حالت درجہ اہلیت دولت کے بناء صرف اور صرف سچائی اور حقیقت پر مظلوم ٹہرایا جائے اور انصاف بہم پہنچایا جائے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت پاکستان آصف علی زرداری کو سندھ بلخصوص کراچی میں نعروں دعوؤں اور کھوکھلے وعدوں سے دل اور ذہنوں میں ہرگز مقام نہیں مل سکتا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف سندھ بھر کیلئے بلکہ پاکستان بھر کی عوام کیلئے عوامی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی بنائی تھی جو اپنے بہترین امور کی وجہ سے ملک گیر وفاقی جماعت بن کر ابھری یہی اصول شہید بینظیر بھٹو نے بھی رکھا تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا ویژن بہت بلند اور اعلیٰ تھا جو اب کمزور پڑ چکا ھے اس جانب آپ دونوں کی توجہ اور سنجیدگی ضروری ھے۔ پاکستان ہو یا صوبہ سندھ آصف علی زرداری کی منطق اور سوچ کے مطابق سیاست میں زیرو پوائنٹ غصہ جبکہ سو فیصد تحمل ہی کامیابی کی علامت ھے اور اسی فارمولہ پر قائم رھنا چاہئے کیونکہ مخالف اکسا کر جذبات ابھارکر غلطی پر غلطی کرا سکتا ھے اور اسی غلطی سے اپنے مزموم مقاصد بھی حاصل کرسکتا ھے سندھ اور کراچی کا سب سے بڑا مسلہ عدم تحفظ اور مافیاء کا راج ھے صرف ہر مافیاء کو جڑ سے ختم کردیں تو تحفظ از خود ہوجائیگا۔ یاد رکھئے سندھ اور کراچی میں بسنے والے سب ریاستی اداروں کی ذمہداری میں ہیں جب ریاستی ادارے میں ہی نقاص بڑھ جائیں گے تو پھر مجرم اور مافیاء ہی سرگرم ہوتے چلے جائیں گے اس لئے میرا ماننا اور میرا مشورہ یہی ھے کہ سندھ بلخصوص کراچی سے مجرموں اور مافیاؤں کا مکمل خاتمہ کردیا جائے سندھ اور کراچی میں ہر شہری ہر مکان ہر مقام ہر جگہ کے چپہ چپہ کا ڈیٹا مرتب کرنا اب شدید ضرورت بن چکا ھے تاکہ مجرم اور مافیاء قانون سے چھپ نہ سکیں اور غیر قانونی عوامل شروع نہ کرسکیں یہ ہر تھانے اور ایس ایس پیز و ڈپٹی کمشنرز کی بھی ذمہداری ھے کہ وہ اپنے اپنے حدود میں ہر سرگرمی پر نظر رکھیں۔ یاد رکھیئے عوام میں نفرت عصبیت اور دشمنی پھیلانے سے ریاست مضبوط نہیں بلکہ کمزور ترین ہوتی ھے اسی لئے عوام سے نفرت کی سیاست کو خاک میں مٹاکر باہمی اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی اب جتنی ضرورت ھے شاید کبھی اس قدر نہ تھی۔

Exit mobile version