BBC Urdu TV

*عنوان: پیٹرول کے نرخ کم کس طرح کیے جائیں؟*

*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*

*عنوان: پیٹرول کے نرخ کم کس طرح کیے جائیں؟*
*کالمکار : جاوید صدیقی*

پیٹرول محض ایک ایندھن نہیں بلکہ آج کی معیشت اور روزمرہ زندگی کا بنیادی محرک ہے۔ گھر کے چولہے سے صنعت کے پہیے تک، زرعی مشینری سے ٹرانسپورٹ، تجارت سے مارکیٹنگ اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل تک بے شمار شعبے پیٹرولیم مصنوعات سے براہِ راست یا بالواسطہ جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی عام آدمی کی زندگی میں مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا کردیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کے نرخ مستقل بنیادوں پر کم کیسے کیے جاسکتے ہیں؟ اس کا جواب محض قیمت کم کرنے کے حکومتی اعلان میں نہیں بلکہ ایک جامع معاشی پالیسی، غیر ضروری اخراجات میں کمی، توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی پیداوار میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر حکمران طبقے اور صاحبِ ثروت طبقات کی قربانی میں پوشیدہ ہے۔قیامِ پاکستان کے ابتدائی دور میں ایسے اہلِ ثروت افراد بھی موجود تھے جنہوں نے اپنی ذاتی دولت اور املاک قومی مفاد کے لیے پیش کیں۔ آج ضرورت اس جذبۂ ایثار کو نئے تقاضوں کے ساتھ زندہ کرنے کی ہے۔ اگر ملک کے انتہائی دولت مند طبقات، بڑے کاروباری گروپس، صنعتکار، جاگیردار، زمیندار اور صاحبِ اختیار افراد واقعی قومی بحران سے نکلنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنی دولت کے ایک حصے کو رضاکارانہ قومی سرمایہ کاری اور پیداواری منصوبوں کے لیے وقف کرنے کی مثال قائم کرنی چاہیے۔پاکستان کو خیرات نہیں، پیداوار چاہیے؛ قرض نہیں، خود کفالت چاہیے؛ نعروں نہیں، عملی قربانی چاہیے۔ قومی وسائل کو ایسے منصوبوں میں لگایا جائے جہاں شہر، قصبے اور دیہات میں چھوٹی اور درمیانی صنعتیں قائم ہوں، نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے، زرعی و صنعتی پیداوار بڑھائی جائے، مقامی سطح پر اشیائے ضروریہ تیار ہوں اور درآمدی انحصار کم کیا جائے۔ جب ملک میں پیداوار بڑھے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، زرمبادلہ بچے گا اور معیشت کا پہیہ مضبوط ہوگا تو مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی حقیقی بنیاد بھی پیدا ہوگی۔ پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے لیے حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ قیمت میں شامل ٹیکسز، لیویز، درآمدی لاگت، ڈالر کی قدر، عالمی خام تیل کی قیمت اور دیگر عوامل عوام پر کس حد تک اثرانداز ہو رہے ہیں۔ جہاں ممکن ہو، حکومت کو عوامی ریلیف کے لیے بوجھ کم کرنا چاہیے اور جہاں مالی مجبوری ہو وہاں اس کی شفاف وضاحت عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ لیکن ایک سوال اشرافیہ سے بھی ہے: جب عوام دہائیوں سے قربانیاں دے رہے ہیں تو کیا قربانی صرف عوام ہی کا مقدر ہے؟ اگر کفایت شعاری مطلوب ہے تو اس کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات، شاہانہ مراعات، پروٹوکول اور ایسے اخراجات جن کا براہِ راست عوامی فلاح سے تعلق نہیں، ان پر سنجیدگی سے نظرثانی ہونی چاہیے۔ قومی خزانہ کسی ایک طبقے کی ملکیت نہیں؛ یہ پورے پاکستان کے عوام کی امانت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ محض صوبوں کی تقسیم یا موجودہ سیاسی نظام کے تسلسل سے عوام کے بنیادی معاشی مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے۔ اصل ضرورت قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی، احتساب، پیداواری معیشت اور مساوی مواقع کی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن مہنگائی، بے روزگاری، توانائی اور معاشی مشکلات کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پورے ملک کے مسائل ہیں۔ آج عوام کو تقریریں نہیں، ریلیف چاہیے۔ پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ اور پائیدار کمی کے لیے حکومت کو فوری طور پر ایک شفاف پالیسی سامنے لانی چاہیے، جس میں قیمت کے تمام اجزا، حکومتی محصولات، درآمدی لاگت اور عوام پر پڑنے والے بوجھ کی واضح تفصیل موجود ہو۔ اور اگر حکمران، سیاست دان، صاحبِ ثروت طبقات اور بااثر حلقے واقعی پاکستان کو مضبوط، خودمختار اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ اصول تسلیم کرنا ہوگا: قربانی ہمیشہ کمزور سے نہیں مانگی جاتی؛ مضبوط کو بھی اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔عوام ستر، اسی برس سے اپنی استطاعت کے مطابق قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ اب وقت ہے کہ اقتدار، دولت اور اختیار رکھنے والے طبقات بھی قومی ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کریں۔پاکستان کو نعروں سے نہیں، ایثار، دیانت، پیداوار، انصاف اور عملی قربانی سے بدلا جاسکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ پیٹرول کی قیمت سمیت عوام پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے فیصلہ کن، شفاف اور پائیدار اقدامات کیے جائیں کیونکہ عوام کی برداشت کو ہمیشہ آزمائش میں ڈالنا کسی بھی معاشرے کے لیے دانشمندانہ راستہ نہیں۔

Exit mobile version