کالم/مضامین

عنوان: پاکستان منقسم، دو سیاسی خاندان

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: پاکستان منقسم، دو سیاسی خاندان*

ہمارے بڑے بھائی کے دوست طارق درانی جنکا تعلق میرپورخاص شہر سندھ سے ہے، مجھ سے گلہ و شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جاوید میاں کیا آپ زمینی حقائق سے پردہ نہیں اٹھائیں گے جو اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں جو چپے چپے پر اپنا اور اپنے خاندان کے کتبے، تختیاں لگانے سے تھکتے نہیں، ایسے بھی کیا ناقابل فراموش کارنامے ہیں جن کی بناء پر انکے تمام خاندان کو بادشاہی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، انھوں نے مجھے بتایا کہ جامشورو میں ایک میڈیکل کالج کا نام بلاول بھٹو زرداری میڈیکل کالج ہے۔ ایک شہر نوابشاہ ہوا کرتا تھا۔ پرانے وقتوں میں سید نوابشاہ نے دو سو ایکڑ زمین اس شہر کو دی تھی جس پر انگریز نے اس کا نام نوابشاہ رکھ دیا۔ آصف علی زرداری صاحب نے ایک مرلہ زمین دیئے بغیر اس کا نام بدل کر بینظیرآباد رکھ دیا۔ اس بینظیرآباد میں ایک کیڈٹ کالج ہے اسکا نام بختاور بھٹو کیڈٹ کالج ہے۔ اسی بینظیرآباد میں ایک یونیورسٹی کا نام بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی رکھ دیا گیا ہے۔ بینظیرآباد ہی میں ایک ڈسٹرکٹ اسکول کا نام بھی بینظیر بھٹو اسکول ہے اور اسکا افتتاح بھی بختاور بھٹو نے کیا تھا۔ اپر دیر میں بھی ایک شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی قائم ہے۔ ایک شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور میں ہے۔ لاڑکانہ میں ایک یونیورسٹی کا نام شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ہے۔ لاڑکانہ میں ایک شہید بینظیر گرلز کالج ہے۔ ایک بینظیر بھٹو ڈگری کالج کراچی میں ہے۔‎ کراچی میں ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی ایک یونیورسٹی قائم کی گئی ہے حد تو یہ ہوئی کہ اس کا نام بھی شہید بینظیر یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ کراچی میں ایک یونیورسٹی کو شہید بینظیربھٹوسٹی یونیورسٹی اور دوسری کو شہید بینظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی کا نام دیا گیا۔راولپنڈی جنرل اسپتال کا نیا نام بینظیر بھٹو اسپتال ہے۔ لیاری میں قائم میڈیکل کالج کو شہید بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کہتے ہیں۔ کراچی میں قائم اے این ایف اسپتال کو بینظیر بھٹو شہید اے این ایف اسپتال کہا جاتا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید ہیں اور قابل احترام ہیں لیکن کیا اس ملک میں وہی واحد شہید ہیں اور واحد قابل احترام ؟ کبھی حساب لگا لیجیے اس ملک میں قائد اعظم، اقبال اور مادر ملت کے نام سے کتنے ادارے ہیں اور شریفوں اور بھٹوؤں کے نام سے کتنے ادارے ہیں ؟ یہ ملک ایک امانت ہے یا ان دو خاندانوں کی چراگاہ؟؟ ہم مہذب دنیا کی ریاست کے باشندے ہیں یا ان خاندانوں کی جاگیر کے مویشی؟ انہیں اپنے قائدین سے اتنی ہی محبت ہے تو قومی خزانے کیساتھ واردات کرنے کے بجائے اپنی جیب سے انکے نام سے ادارے کیوں نہیں بناتے؟ انہیں یہ غلط فہمی کب سے ہوگئی کہ ہم انہیں مال غنیمت میں ملے ہیں، طارق درانی نے مزید کہا کہ حضرت سید عبداللہ شاہ غازی، حضرت سید عبداللہ شاہ اصحابی، حضرت سچل سرمست، حضرت سخی عبدالوہاب غازی، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی اور دیگر علمی، روحانی، سائنسی، انفرادی اور تحریک پاکستان کی شخصیات کیا مٹ گئیں ہیں کہ انہیں فراموش کردیا گیا ہے اور ان کی خدمات پر بھی تختیاں لگانی چاہئیں۔

*کالمکار: جاوید صدیقی*

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You