ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: نامرد کی قلعی کھل گئی
میرے شاہ فیصل کالونی کے رہائشی اور ماہانہ نعت میگزین کے ایڈیٹر ان چیف پیارے دوست زکریہ اشرفی نے محمد ابو دحداح صابری صاحب کی ایک تحریر واٹس اپ پر شیئر کی تو یقین جانئے انھوں نے ہمارے معاشرے کے مردوں کی مردانگی نکال دی اور بتادیا کہ مرد کی مردانگی کیا ھوتی ھے وہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش کرتا ھوں۔۔میرا شوہر نامرد ہے، مجھے خلع چاہئے۔ تنسیخ نکاح کا عام سا کیس تھا، اچھی خاصی پڑھی لکھی فیملی تھی۔دو پیارے سے بچے بھی تھے کیوٹ اور معصوم سے لیکن خاتون بضد تھی کہ اس کو ہر حال میں خلع چاہئےجبکہ میرا موکل مدعا علیہ شوہر شدید صدمے کی کیفیت میں تھا۔ ِجج صاحب اچھے آدمی تھے انہوں نےکہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے، مدعا علیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے *اندھا کیا چاہے دو آنکھیں* کے مصداق فوری حامی بھر لی جبکہ مدعیہ (بیوی) کےوکیل نے اس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتون بات چیت کیلئے راضی ہوگئیں ۔وہ دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:- ” ہاں خاتون ! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے”؟۔ ” وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہیں”. میں اس کی بے باکی پر حیران رہ گیا، میرے منہ سے ایک موٹی سی گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی البتہ منہ میں تو دے ہی ڈالی، ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اس خاتون کی کچھ بات ہی الگ تھی اسکے شوہر نے ایک شکایت بھری نظر اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا، میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے تو میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھااور تیز تیز سوال کرنا شروع کردیئے جب اس سے پوچھا :-” کیا اپنے مرد سے اسکا گزارہ نہیں ہوتا”؟ تو کہتی ہے کہ:-
"ماشاءالله دوبچےہیں ہمارے، یہ جسمانی طور پہ تو بالکل ٹھیک ہیں”۔” تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے”؟ وکیل صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں، زمینداری کرتے ہیں، ہم دو بہنیں ہیں، میرے والد ہمیں کبھی *” دھی رانی”* سے کم بلایا ہی نہیں اور میرے شوہر مجھے *” کتی "* کہہ کے بلاتے ہیں یہ کون سی مردانہ صفت ہے وکیل صاحب۔ مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلطی ہوجائے یہ میرےپورے میکےکو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں۔آپ ہی بتائیں جی اسمیں میرے میکے کا کیا قصور ہے یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دیجائے۔ وکیل صاحب ! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں اور یہ غصے میں مجھے *” کنجری”* کہتے ہیں وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پکارتے ہیں- یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نہ- وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزورنہیں ہیں” ؟ میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا اس کا شوہر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا ” اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نہ، مجھ پر اس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی ” ؟ ” آپ کو کیا لگتاہےآپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں۔ میں خوش ہوتی ہوں؟ اتنے سالوں سے آپ کا کیا گیا یہ ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اسکا کون حساب دے گا؟ ” خیر جیسے تیسے منت سماجت کرکے سمجھا بجھا کے انکی صلح کروائی میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دیگا وہ دونوں چلے گئے۔ میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچ بچار کرتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اس خاتون کو اس کے پہلے جواب پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں،شاید میں بھی نامرد ہوں اور شائد ہمارے معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! اس تحریر کے مطالعہ کے بعد میں گہری سوچ میں پڑگیا کہ حقیقت میں جنس مرد کو مرد کا احساس شناخت اور طاقت دینے والا جو راہ منزل اور راستہ ھے وہ مذہب اسلام ھے جہاں نفس سے مردانگی وار۔ جہاد میں مردانہ طاقت کیساتھ تلوار بازی اور ذہنی قوت کا بہترین مردانہ استعمال۔ جنس مرد کو الله نے سربراہی کے منصب پر اسی لیئے رکھا ھے کہ وہ قوائد و ضوابط پر سختی سے کاربند رہے۔ مرد کو مردانگی اسی لیئے دی گئی کہ وہ اپنے غصے پر مکمل کنٹرول کرسکے۔ مرد وہی ہوتا ھے جو موقع اور ضرورت پر طاقت کا مظاہرہ اپنے برابر طاقت سے کرسکے۔ جنس نسواں سے زور آزمائی یا گالی گلوچ دینے والے حقیقت
میں نامرد اور نفسیاتی جاہل پاگل انسان ھوتے ہیں خاص طور پر وہ مرد جو منصب اقتدار طاقت اور وافر دولت سے بہک جائیں وہ نہ صرف نامرد بلکہ خسرے کہلاتے ہیں اب آپ ہی ٹٹولیئے اور حساب لگائیے کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کی تعداد کتنی رہ گئی اور نامرد یعنی خسرے کتنے ہوگئے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
