BBC Urdu TV

*عنوان: موجودہ تباہی کاریاں آخری وقت کا حصہ ہیں*

*عنوان: موجودہ تباہی کاریاں آخری وقت کا حصہ ہیں*

*تحریر: جاوید صدیقی معروف جرنلسٹ کراچی *

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور آخری وقت کی ہولناکیوں کا ذکر کثرت سے کیا ہے، جن میں شدید ترین زلزلے، کائنات کا بکھرنا، اور ہولناک تبدیلیاں شامل ہیں۔ قرآن ان واقعات کو مسلمانوں کو بیدار کرنے اور آخرت کی تیاری کی یاددہانی کے لیے بیان کرتا ہے۔ آخری وقت کی ہولناک مادی نشانیوں اور قیامت کی ہولناکیوں کے اہم ترین مناظر درج ذیل ہیں:
1۔ زمین کا زلزلہ اور پھٹ جانا
شدید زلزلہ: زمین کو اس طرح ہلایا جائے گا جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہلایا گیا (سورہ الزلزال)۔
ریزہ ریزہ ہونا: زمین کو کوٹ کوٹ کر چورا کر دیا جائے گا (سورہ الفجر)۔
خزانے اگلنا: زمین اپنے اندر کے تمام بوجھ اور مردے باہر نکال پھینکے گی (سورہ الزلزال)۔
2۔ آسمان اور اجرامِ فلکی کی تباہی
آسمان کا پھٹنا: آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی رنگت بدلے ہوئے تیل یا چمڑے جیسی ہو جائے گی (سورہ الانشقاق، سورہ الرحمن)۔
ستاروں کا بکھرنا: تمام ستارے اور سیارے اپنے مداروں سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے اور ان کی روشنی ختم ہو جائے گی (سورہ الانفطار)۔
سورج کا بے نور ہونا: سورج کو لپیٹ دیا جائے گا اور وہ بالکل تاریک ہو جائے گا (سورہ التکویر)۔
3۔ پہاڑوں کا روئی بننا
دھنی ہوئی اون: مضبوط اور بڑے پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور وہ اڑتی ہوئی رنگ برنگی اون کی طرح ہو جائیں گے (سورہ القارعہ)۔
سراب بن جانا: پہاڑ چلا دیے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ بالکل ریت کا ڈھیر یا سراب بن کر رہ جائیں گے (سورہ النبا)۔
4۔ سمندروں کی ہولناکی
آگ لگنا: سمندروں کو بھڑکا دیا جائے گا اور وہ آگ کے شعلوں میں بدل جائیں گے (سورہ التکویر)۔
ابل پڑنا: سمندر پھاڑ دیے جائیں گے اور ان کا پانی ایک دوسرے سے مل کر طوفان کی شکل اختیار کر لے گا (سورہ الانفطار)۔
5۔ انسانی نفس پر اثرات
رشتہ داروں سے فرار: ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور بچوں سے جان چھڑانے کے لیے بھاگے گا (سورہ عبس)۔
خوف کا عالم: حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے، دودھ پلانے والی مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ لوگ مدہوش نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا (سورہ الحج)۔
آج کثرت سے بڑھتی تباہی کاریاں، بڑھتے سیلاب و طوفان اور زلزلوں میں شدت و کثرت انہیں نشانیوں میں سے ایک ہیں، وقت آخر داخل ہوچکا ھے رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امت پر اس قدر فضل و کرم اور رحمت فرمائی کہ وہ آخیر وقت کے فتنہ و فساد اور تباہی کاریاں سے بچ سکیں اور اپنے اعمال و ایمان کی حفاظت کرسکیں۔ مسلمانوں کو ہی رب العزت نے قرآن مجید کی آیات کے ذریعے ہوشیار، اور خبردار کیا ھے پر افسوس پاکستان سمیت مسلم امہ دنیا کی محبت، دنیا کے فریب اور دنیا کی رہن بیماری میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں اسی وجہ سے دولت پرستی ، ہوس پرستی ، حسن پرستی، نفس پرستی اور دین محمدی سے دور اور غافل ہوتے جارہے ہیں تو یہ ان مسلمانوں کی اپنی ہی بد اعمالی، بدنصیبی اور بدقسمتی ہوگی کیونکہ ایسے مسلمان سے رب العزت ایمان کی دولت چھین لے گا وہ بناء ایمان موت کی آغوش میں چلا جائیگا۔ ایسے مسلمانوں کو آخری کلمہ تک پڑھنا نصیب نہیں ہوگا۔ اللہ بڑا غفور رحیم ھے کہ اس نے اپنی غفاریت و رحمانیت پیش کردی کہ سنبھل جاؤ، سدھر جاؤ، اکڑ، ضد، تکبر، خوش فہمی سے نکل کر قدرتی حالات پر غور و تفکر کرو تاکہ سنبھل سکو وگرنہ بعد معافی کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے کیونکہ ابلیس بھی اپنی نافرمانی اور تکبر کی بناء پر لعنتی بنا اور اسکا آخری ٹھکانہ جہنم ٹھہرا۔ یاد رکھو کسی نیم ملا اور جعلی پیر کے چکر میں مت آنا۔ انھوں نے ہی کئی شاٹ کٹ راستے گمراہی کے دکھا کر امت کو برباد کرکے رکھ دیئے ہیں۔ ایک اللہ واحد سے طلب کرو اور با عمل شرعی زندگی گزارو جو قرآن و حدیث سے ہمیں ملتی ہیں۔

Exit mobile version