عنوان: مقروض ریاست میں شاہانہ مراعات کیوں؟
تحریر: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی
جو ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہو، جہاں عوام مہنگائی، بے روزگاری، بھاری ٹیکسوں اور ناقابلِ برداشت یوٹیلیٹی بلز کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں حکمرانوں اور بااختیار طبقات کی شاہانہ مراعات آخر کس اصول کے تحت جائز قرار دی جا سکتی ہیں؟
ریاست کا خزانہ عوام کی امانت ہے، کسی حکمران، وزیر، مشیر، افسر، جج یا کسی بھی بااختیار طبقے کی ذاتی جاگیر نہیں۔ جب عام شہری اپنی محدود آمدنی میں گھر کا چولہا جلانے، بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو، تو ریاستی وسائل سے بھاری تنخواہیں، خصوصی الاؤنسز، مفت بجلی و گیس، سرکاری گاڑیاں، ایندھن اور دیگر مراعات دینے کے نظام کا منصفانہ جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا؟
اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول عدل، دیانت اور حقوق العباد کا تحفظ ہے۔ کسی بھی عہدے کی بنیاد پر عوامی وسائل سے غیر ضروری آسائشیں حاصل کرنا اس وقت ایک سنجیدہ اخلاقی سوال بن جاتا ہے جب عام شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہو۔ محنت کرنے والے ہر فرد کی اجرت اور حقوق کا تحفظ ضروری ہے، لیکن کسی بھی خدمتگار یا ملازم کی اجرت کو ہر حال میں مزدور کے برابر قرار دینے کے بجائے اس کے کام، ذمہ داری، مہارت اور طے شدہ معاوضے کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ اصل تقاضا یہ ہے کہ کسی کی محنت کا استحصال نہ ہو اور کسی کو محض منصب کی بنیاد پر ناجائز مالی فائدہ نہ دیا جائے۔
پاکستان اگر قرضوں پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے تو اسے حکومتی اخراجات، سرکاری مراعات اور مالی استثنا کے پورے نظام پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ پارلیمان کے ارکان، وزراء، مشیران، اعلیٰ سرکاری افسران، عسکری قیادت، عدلیہ اور دیگر بااختیار طبقات کے مالی معاملات میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ریاستی عہدہ کسی کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔ ٹیکسوں کے معاملے میں بھی اصول واضح ہونا چاہیے: جو ٹیکس قانون کے تحت واجب الادا ہے، وہ ہر متعلقہ فرد اور ادارے سے وصول کیا جائے۔ اسی طرح بجلی، گیس، پانی اور دیگر سہولتوں کے بلوں کی ادائیگی کے لیے بھی شفاف اور منصفانہ نظام ہونا چاہیے۔ جہاں قانون کے تحت کسی سرکاری سہولت یا استثنا کی اجازت ہو، وہاں اس کی ضرورت، لاگت اور عوامی مفاد کا کھلا جائزہ لیا جائے۔
یہ مطالبہ کسی ایک سیاسی جماعت، ادارے یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف ہے۔ اگر کفایت شعاری کا بوجھ صرف عوام اٹھائیں اور مراعات یافتہ طبقات اپنے معمولات میں کوئی تبدیلی نہ لائیں تو معاشی انصاف کا تصور ادھورا رہ جائے گا۔
پاکستان کی معاشی خودمختاری کے لیے ضروری ہے کہ قومی وسائل کا استعمال عوامی مفاد میں ہو، غیر ضروری مراعات ختم کی جائیں، ٹیکس کا نظام منصفانہ بنایا جائے اور ہر ادارہ اپنے اخراجات کے لیے جواب دہ ہو۔
قرضوں میں جکڑی ریاست کو نمائشی شاہ خرچی نہیں، مالی نظم و ضبط درکار ہے۔ عوام سے قربانی کا مطالبہ کرنے والوں کو اپنے طرزِ زندگی، مراعات اور اخراجات میں بھی عملی مثال قائم کرنا ہوگی۔
ریاست اور قوم کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو، قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جائے اور عوامی وسائل کو عوام کی فلاح پر خرچ کیا جائے۔
