BBC Urdu TV

عنوان: محمد کریم سے عمران خان تک

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: محمد کریم سے عمران خان تک۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

تاریخ کے طالبعلم جانتے ہیں کہ ماضی میں فرانس نے مصر پہ حملہ کردیا تھا اس وقت نپولین فرانس کا بادشاہ تھا۔ محمد کریم اپنے ملک کیلئے جتنا لڑسکتا تھا لڑا لیکن بدقسمتی سے فرانس نے اس کو شکست دیدی اور مصر پر قبضہ کر لیا۔ نپولین بونا پارٹ کے فوجیوں نے محمد کریم کو زنجیروں میں جکڑ کر اسکے سامنے پیش کردیا۔ نپولین نے کہا تم نے میرے بہت سے فوجی مارے ہیں لیکن جس دلیری اور بہادری سے تم نے اپنا ملک بچانے کی کوشش کی ھے میں تمہیں ایک موقعہ دینا چاہتا ہوں تم نے میرے جتنےفوجی مارے ہیں انکا فدیہ دے دو میں تمہیں چھوڑ دونگا۔ فرانس کے فوجی محمد کریم کو زنجیروں میں جکڑ کر مصر کے بڑے بڑے تاجروں کے پاس لے گئے۔ محمد کریم کا خیال تھا کہ وہ اس کی بھرپور مدد کریں گے کیونکہ اس نے ان کی آزادی کیلئے ایک طویل جنگ لڑی تھی لیکن مصر کے تاجروں نے اس سے منہ پھیر لیا اور فدیہ کیلئے رقم دینے سے انکار کردیا۔ شام کو محمد کریم کو نپولین کے سامنے پیش کیا گیا تو اس کا سر افسوس اور ندامت سے جھکا ہوا تھا۔ نپیولین نے کہا میں تمہیں سزائے موت اس لیئے نہیں دونگا کہ تم نے میرے بہت سے فوجی مارے ہیں بلکہ تمہیں سزائے موت اس لیئے دونگا کہ تم ایک جاہل قوم کیلئے لڑتے رھے ھو۔ آج جب میں عمران خان کو دیکھتا ہوں تو مجھے مصر کا محمد کریم یاد آجاتا ھے۔ عمران خان بھی ایک جاہل قوم کیلئے لڑ رہا ھے وہ ایک ایسی قوم کیلئے لڑرہا ھے جس کے نزدیک قوم کا سارا پیسہ چوری کر لینا
پینتیس سال حکومت ملنے کے باوجود قوم کو غریب سے غریب تر بنا دینا کوئی جرم نہیں یہاں آج بھی”میاں دے نعرے وجن گے” اور "زرداری سب پر بھاری” کے فلک شگاف نعرے لگانے والوں کی کمی نہیں اور تو اور یہاں دس سال تک کشمیر کمیٹی کا چئیرمین رہنے والا اور کشمیر کا نام تک نہ لینے والا ملا فضل الرحمن کشمیر کے نام پر اپنا نام نہاد آزادی مارچ شروع کرکے کشمیری کاز کو سبوتاژ کرنے والا قائد تحریک کہلاتا جارہا ہے۔ کیا ہم واقعی اتنے جاہل ہیں کہ اس شخص کو اپنا مسیحا جانے گے جو ہمیشہ اسلام کو اسلام آباد کیلئے استعمال کرتا ھے اور وہاں پہنچ کرقومی مجرموں کا ساتھی بن جاتا ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج اتوار ھے تین اپریل سنہ دو ہزار بائیس آج جو کچھ ہوا پوری قوم نے دیکھا لیکن ان بدنیت بددیانت بے ایمانوں جوٹوں کاذبوں کو شرم نہیں آئی کہ ان کی خواہش اور ان اپوزیشن کے مطابق نئے الیکشن کی جانب بڑھے۔ یہ موقع یہ وقت درست نہیں تھا ڈپٹی اسپیکر کو آئین کے آرٹیکل 5 کو استعمال کرنے کا تو کیا امریکہ کے کہنے اور ان کے غلاموں کی منشاء کے تحت ملک و ریاست گروی رکھ دیتے اور سب سے حیرت کی بات تو یہ ھے کہ سپریم کورٹ بار کے صدر بھون نے اپنی وفاداری ایسی دکھائی کہ چیف جسٹس پر مسلسل دباؤ ڈالا کہ آج بروز اتوار کو کورٹ میں سمت کیلئے مجبور کردیا کہ وہ ازخود نوٹس لیتے ھوئے سماعت فرمائیں۔ بحرحال اب دیکھنا یہ ھے کہ ھماری قوم میں کتنے فیصد حب الوطنی باقی ھے کیا ایک پلیٹ بریانی پر اپنے ضمیر کا سودا کر بیٹھیں گے یا پھر ایک غیور قوم کی طرح ہر حملہ کا بھرپور جواب دیں گے۔ پاکستان اور تحفظِ پاکستان ھم سب کا فرضِ عین ھے بہت ھوگئی کرپٹ حکمرانوں کی بدمعاشیاں اور لاقانونیت اب وقت ھے اپنے اور اپنے مستقبل کیلئے کہ جیئں گے تو باعزت با وقار اور وطن کیلئے۔ وطن کی سلامتی و بقاء کیلئے ہر محاذ پر جنگ لڑیں گے اور اپنے ووٹوں سے سچے ایماندار اور باظرف باضمیر رہبر و رہنما منتخب کریں گے انشاءالله۔۔۔۔

قائداعظم زندہ باد, پاکستان پائندہ باد ۔۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version