BBC Urdu TV

*عنوان: قربِ قیامت کے فتنے اور رہن کی بیماری*

*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*

*عنوان: قربِ قیامت کے فتنے اور رہن کی بیماری*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

پاکستان ایک اسلامی ریاست ھے یہاں کے عام لوگوں سے لیکر حکمران اور مقتدران اپنا اپنا احتساب کریں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کیا انکے اعمال و کردار موجودہ فتن و فساد سے محفوظ یا اسی فتن و فساد کا کہیں حصہ یا آلہ کار تو نہیں تو پھر ایکبار سب سے پہلے دیکھ لیجئے سمجھ لیجئے جان لیجئے کہ قرآن و احادیث آخیر زمانے کے فتنہ و فساد کے متعلق کیا کہتا ھے۔ یہ جاننا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض عین ھے۔ معزز قارئین!!
اسلامی تعلیمات، قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں قیامت کے قریب رونما ہونے والے فتنوں اور علامات کا ذکر نہایت واضح انداز میں ملتا ہے۔ احادیث میں علاماتِ قیامت کو عمومی طور پر چھوٹی اور بڑی علامات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی بڑی نشانیوں میں دجال، دخان، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یاجوج و ماجوج، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دیگر غیر معمولی واقعات کا ذکر فرمایا ہے۔
*بڑے فتنے اور علامات دجال کا فتنہ:*
دجال کا فتنہ احادیثِ مبارکہ میں انتہائی سنگین فتنے کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے امور ظاہر ہوں گے جو لوگوں کے ایمان اور بصیرت کا امتحان ہوں گے۔ اس لیے مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان، توحید اور قرآن و سنت سے مضبوط وابستگی قائم رکھے۔
*یاجوج و ماجوج کا خروج:*
احادیث میں یاجوج و ماجوج کے خروج کو قیامت کی بڑی علامات میں شمار کیا گیا ہے۔ ان کا ظہور آخری زمانے کے بڑے واقعات میں سے ہوگا۔دابۃ الارض:قرآنِ کریم میں دابۃ الارض کا ذکر موجود ہے، جبکہ احادیث میں اسے بڑی علاماتِ قیامت میں شمار کیا گیا ہے۔
*دخان:*
دھوئیں کا ظاہر ہونا بھی ان بڑی علامات میں شامل ہے جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا:احادیث میں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کو بھی بڑی نشانیوں میں بیان کیا گیا ہے۔
*معاشرتی اور اخلاقی فتنے:*
بعض علامات ایسی ہیں جو معاشرتی اور اخلاقی بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہونے کے بارے میں احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے علم کے اٹھ جانے، جہالت کے پھیلنے اور قتل و غارت گری میں اضافے جیسے فتنوں سے آگاہ فرمایا۔
*علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا پھیلنا:*
صحیح احادیث میں آتا ہے کہ علم علماء کے اٹھ جانے کے ساتھ کم ہوگا اور ایسے لوگ رہ جائیں گے جو علم کے بغیر لوگوں کی رہنمائی کریں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
*قتل و غارت گری کی کثرت:*
احادیث میں آخری زمانے کے قریب ’’ہرج‘‘ یعنی قتل و غارت گری کی کثرت کا ذکر ملتا ہے۔
*حرام مال اور سود:*
معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز سے بے نیازی، ناجائز طریقوں سے مال کمانا اور سودی معاملات کا پھیلاؤ انسان کے ایمان اور اخلاق دونوں کے لیے خطرناک ہیں۔ مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے رزق اور معاملات میں حلال و حرام کی حدود کا خیال رکھے۔
*امانت اور ذمہ داریوں کا ضائع ہونا:*
جب ذمہ داریاں اہلیت، دیانت اور امانت کے بجائے مفادات اور تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگیں تو معاشرتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ اسلام امانت کو اہل لوگوں کے سپرد کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
*فتنوں کی شدت:*
احادیث میں ایسے دور کا بھی ذکر ملتا ہے جب انسان اپنے ایمان کے معاملے میں شدید آزمائش کا شکار ہوگا، یہاں تک کہ صبح ایمان پر اور شام کو ایمان سے محرومی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ایسے فتنوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔۔۔معزز قارئین!! جب ہم اپنے معاشرے کے موجودہ حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو متعدد ایسی اخلاقی اور معاشرتی خرابیاں دکھائی دیتی ہیں جن کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں فتنوں کے ضمن میں ملتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص موجودہ واقعے یا زمانے کو قطعی طور پر قیامت کی فلاں نشانی قرار دینا ایک الگ اور حساس معاملہ ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں جذبات کے بجائے قرآن و سنت کے مستند حوالوں سے رہنمائی لینی چاہیے۔ اکثر ہم لوگوں کو زمانے کو برا بھلا کہتے، حالات کا شکوہ کرتے اور اپنے مسائل کا ذمہ دار وقت کو ٹھہراتے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ قرآنِ کریم میں والعصر کہہ کر زمانے کی قسم بیان ہوئی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ زمانہ خراب ہے یا زمانے میں بسنے والے انسانوں کے اعمال خراب ہو رہے ہیں؟ وقت اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کے مقرر کردہ نظام کے تحت رواں دواں ہے۔ انسان کے اعمال ہی ہیں جو معاشرے کو خیر یا شر کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن و سنت ہمیں بار بار اپنی اصلاح، تقویٰ، عدل، امانت، صبر، سچائی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف متوجہ کرتا ھے اور پھر ایک پوشیدہ فتنہ… یہاں میرے نزدیک ایک انتہائی اہم پہلو سامنے آتا ہے۔
*انسان کی اندرونی اصلاح:*
باہر کے فتنوں سے بچنے کی بات کرنا آسان ہے، مگر اپنے نفس، اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنے لالچ، حسد، بغض، تکبر اور دنیا کی محبت کا محاسبہ کرنا سب سے مشکل کام ہے۔اگر ’’رہن کی بیماری‘‘ سے مراد انسان کے ذہنی، اخلاقی اور باطنی انحراف کی وہ کیفیت ہے جس میں وہ حق کو پہچاننے کے باوجود خواہش، مفاد یا تعصب کے ہاتھوں مغلوب ہوجاتا ہے، تو یہ بیماری واقعی خطرناک ہے؛ کیونکہ فتنہ ہمیشہ باہر سے نہیں آتا، بعض اوقات انسان کے اندر موجود کمزوری ہی اسے فتنے کا شکار بناتی ہے۔ اسی لیے کسی دوسرے کو فتنہ زدہ قرار دینے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ کیا ہمارا ایمان مضبوط ہے؟ کیا ہماری کمائی حلال ہے؟ کیا ہماری زبان سچ بولتی ہے؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم امانت میں خیانت تو نہیں کرتے؟ کیا ہم ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں؟ کیا ہم دین کو اپنی خواہش کے مطابق سمجھتے ہیں یا اپنی خواہش کو دین کے تابع کرتے ہیں؟ یہ سوال ہر مسلمان کے لیے اپنے آپ سے پوچھنا ضروری ہے۔ فتنوں سے حفاظت کے لیے نبی کریم ﷺ نے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب دی۔ دجال کے فتنے سے حفاظت کے حوالے سے سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرنے کی فضیلت بھی صحیح مسلم میں بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا صرف یہ سوچنا کافی نہیں کہ قیامت قریب ہے یا نہیں؟ اصل فکر یہ ہونی چاہیے کہ: اگر قیامت آج آجائے تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہیں؟ فتنوں کی تعداد گننے سے زیادہ ضروری اپنے ایمان کا محاسبہ ہے۔ زمانے کو الزام دینے سے زیادہ ضروری اپنے کردار کو درست کرنا ہے، اور دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ظاہری و باطنی فتنے سے محفوظ فرمائے، ایمان پر ثابت قدم رکھے، حلال و حرام کی تمیز عطا فرمائے، دجال اور تمام فتنوں کے شر سے پناہ دے، ہمارے دلوں کو ہدایت، تقویٰ اور اخلاص سے منور فرمائے اور آخرت کی جواب دہی کے لیے تیار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!

Exit mobile version