ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: عمر بن عبدالعزیزؒ اور پاکستان ۔۔!!
بنو امیہ کا سب سے حسین بادشاہ سلمان بن عبدالملک سب سے حسین تھا بیالیس سال کی عمر کی جوانی میں جب اس کی میت کو قبر کے قریب کیا گیا تو لاش ہلنے لگی تو ان کے بیٹوں نے کہا ہمارے ابو زندہ ہیں۔ سکتہ طاری ہوگیا۔ ابھی زندہ ہیں۔۔ عمر بن عبدالعزیزؒ فرمانے لگے ارے بھتیجو۔!! زندہ نہیں ہے قبر کا عذاب جلدی شروع ہوگیا ہے چھپاؤ جلدی چھپاؤ عمر بن عبدالعزیزؒ جس تخت پر بیٹھے اس پر سلمان تھا اس پر ولید تھا اس پر عبدالملک تھا ان تینوں نے اپنے من اور خواہشات کو کی اطاعت کی اور نفس کو راضی کیا جبکہ عمر بن عبدالعزيزؒ نے اپنے صرف اپنے رب کو راضی کیا۔ جب عمر بن عبدالعزيزؒ کا وقت آیا تو انہوں نے رضا بن ہیبہ سے فرمایا کہ میں نے عبدالملک بن مروان جو ان کے چاچا سسر تھے ان کی بیٹی فاطمہ سے شادی ہوئی تھی۔ میں نے ان کو یعنی عبدالملک بن مروان کو قبر میں اتارا پھر کفن کی گرہ کھول کر دیکھا تو ان کا چہرہ قبلہ سے ہٹ چکا تھا اور رنگ کالا سیاہ پڑچکا تھا۔ عبدالملک بن مروان گورا چٹا تھا گال سرخ تھے آخر کالا پھر میں نے ولید کو قبر میں اتارا اس کا بیٹا اس نے دس سال حکومت کی اس نے اکیس سال حکومت کی ولید بن عبدالملک میں نے اس کے کفن کی گرہ کو کھولا تو اس کا رنگ سیاہ ہوچکا تھا قبلہ کی طرف سے چہرہ ہٹ چکا تھا پھر سلمان کے کفن کو کھولا تو اس کا بھی چہرہ قبلہ سے ہٹ چکا تھا رنگ سیاہ پڑچکا تھا اب میں جارہا ہوں مجھے دیکھنا پہلے تینوں نے حکومت کی پوجا کی۔ عمر بن عبدالعزیزؒ نے صرف اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کی۔ انہوں نے ایک بڑا عجیب خطبہ دیا جب خلیفہ بنے۔ اے لوگو۔۔۔!! بچپن میں شعر و شاعری کا شوق تھا تو میں شاعر بنا۔ تھوڑی سی اٹھان ہوئی تو علم کا شوق ہوا میں نے علم حاصل کیا۔ جوان ہوا تو فاطمہ بنت عبدالملک سے عشق ہوا۔ میں نے ان سے نکاح کیا۔ اب اللّٰہ نے مجھ کو حکومت دے دی ہے۔ اب تم دیکھو گے میں اس سے اپنے اللّٰہ واحد لاشریک کو راضی کروں گا۔۔۔معزز قارئین!! ہمارے حکمران تو ووٹ سے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں پانچ سال کے بعد۔۔
ان کے وراثت میں حکومت آرہی ہے اور تین براعظم پر حکومت بھی ہے اور ایسا رعب و دبدبہ ہے بنو امیہ کا کہ کوئی ان کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا۔ ان کے دور اقتدار میں تین براعظم میں زکواة لینے والا کوئی نہ بچا۔ ان تین براعظم میں سوال کرنے والا کوئی نہ بچا۔ تینوں براعظم میں ظالم کوئی نہ بچا۔ ان براعظموں میں مظلوم کوئی نہ بچا لیکن خود کیسا رہا۔ دیکھئے کہ گھر آئے۔ فاطمہ۔!! بڑے اچھے دن گزرے ہیں۔ اب امتحان ہے میں تیرا حق نہ ادا کرسکوں گا۔ طلاق لینی ہے تو میں حاضر ہوں۔ ساتھ دینا ہے تو پہلے اپنے حق معاف کرو۔ سیاسی لحاظ سے فاطمہ جیسی عورت تاریخ میں نہیں آئیں۔ سات نسبتوں سے یہ شہزادی ہیں۔ فاطمہ کہنے لگیں۔ اے عمر۔۔!! میں نے سکھ کے دن آپ کے ساتھ گزارے ہیں۔ دکھ میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔ جائیں میں نے سارے حق معاف کیئے پھر عمر بن عبدالعزیزؒ کی راتیں اور دن کیسے گزرے۔ مصلے پر روتے روتے وہیں سو جاتے اور مصلے پر روتے روتے وھیں سے اٹھتے۔ اپنی حکومت کو اللہ کی رضا کے لئے استعمال کیا۔ کیسے استعمال کیا۔فاطمہ کا سارا زیور بیت المال میں ڈال دیا۔ تنخواہ پر آگئے۔ عید کا موقع آیا۔ بچوں نے ماں سے کہا ہمیں کپڑے لے کردو۔ فاطمہ کے پاس عمر کے تین براعظموں کے خلیفہ کے بچے آرہے ہیں۔ امی جان ابا سے کہیں عید آرہی ہے ہمیں عید کے کپڑے لے دیں۔ ابا تشریف لائے۔ خزانے لبا لب بھرے ہوئے ہیں گندم کے ڈھیر کی طرح کہا امیر المومنین بچے کپڑے مانگ رہے ہیں کہا فاطمہ میرے پاس تو پیسے نہیں کہاں سے کپڑے لے کردوں؟؟ فاطمہ نے کہا پھر بچوں کا کیا کریں کہا مجھے بھی نہیں پتا کیا کروں۔ اس سے پہلے تین حکمرانوں نے لوٹ مار کے بازار گرم کیئے۔ ظلم کے بازار گرم کیئے اور آج اسی تخت پر ایک شخص بیٹھا ہے جو اللّٰہ کو راضی کرنے میں لگا ہوا ہے تو فاطمہ نے کہا آپ ایسا کریں اگلے مہینے کی تنخواہ ایڈوانس لے لیں۔ اس سے ہم بچوں کے کپڑے لے لیتے اور میں مزدوری کرکے گھر کا خرچ چلا لوں گی پھر عمر بن عبدالعزیزؒ نے بلایا اپنے وزیر خزانہ مزآہم اپنا غلام ہاں بھائی مزاہم ہمیں بچوں کے کپڑے چاہئیں۔ آگر آگلے مہینے کی تنخواہ ایڈوانس مل جائے۔ وہ کہنے لگے۔ اے امیر المومنین۔ آپ مجھے لکھ کر دے دیں۔ آپ اگلے مہینے تک زندہ رہیں گے میں آپ کو تنخواہ دے دیتا ہوں۔ آپ نے سر جھکا لیا۔اٹھے گھر آئے۔ اپنی بیوی سے کہا فاطمہ بچوں سے کہہ دو ان کا باپ انکو کپڑے نہیں لے کر دے سکتا۔ عید کا دن آگیا۔ بنو اممیہ کا خاندان ملنے آرہا ہے۔ سارے سردار۔ سرداروں کے بیٹے۔ اعلیٰ ملبوسات۔ سب ملنے آرہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو بچے بھی ملنے آرہے ہیں۔امیر المومنین کی حیثیت سے۔ بچے باپ کو ملنے آرہے ہیں اور ان کے جسموں پر پرانا لباس ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک طرف دیکھا تو سرداروں کے بیٹے اور زرق برق پوشاکیں۔ ایک طرف اپنے بچوں کو دیکھا جسموں پر پرانا لباس۔۔۔معزز قارئین!! ارے اس باپ سے پوچھو جو سب کچھ کرسکتا ہو لیکن پھر بھی اللّٰہ کی رضا کی خاطر مٹھی بند کر لی کہ نہیں میں نے حرام کی طرف نہیں جانا۔ بچوں کو دیکھا تو انکھیں ڈگمگا گئیں فرمایا میرے بچو آج تمہیں اپنے باپ سے گلہ تو ہو گا کہ آج ہمارے باپ نے ہمیں کپڑے ہی نہیں لے کر دیئے ان کے ایک بیٹے تھے عبدالملک وہ آپ سے بھی چار ہاتھ آگے تھے وہ آپ سے پہلے ہی اللّٰہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ کہنے لگے ۔۔ ابا جان۔۔ آپ کو عید مبارک ہو۔ آج ہمارا سر بلند ہے ہم شرمندہ نہیں ہیں آپ کو مبارک ہو۔ ہمارے باپ نے قومی خزانے میں بددیانتی نہیں کی۔ ہم شرمندہ نہیں ہیں۔ انسانوں کو کپڑوں میں نہیں تولا جاتا۔ ایک دن عمر بن عبدالعزیزؒ اپنی بیگم فاطمہ سے کہنے لگے۔ فاطمہ کچھ پیسے ہیں میرا انگور کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔
فاطمہ رونے لگیں اور کہنے لگیں۔ امیر المومنین خزانے بھرے پڑے ہیں۔کیا ایک درہم کا بھی حق نہیں کہ لے کرآپ انگور کھا لیں۔فاطمہ کی بات سن کر تڑپ کر بولے۔ فاطمہ میں جہنم نہیں برداشت کر سکتا۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگ انتہا کے جاہل اور گمراہ تھے لیکن اسی قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء ختم الرسل سب سے معتبر و اعلیٰ سربراہ تھے آپ نے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کی بنیاد ڈال کر امتِ محمدی کو نظامِ ریاست کا سلیقہ و کرینہ دیدیا۔ دنیائے اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلم ریاستیں مسلم حکمرانوں سے اچھے اعمال سے پھلی پھولیں اور گرپٹ عیاش حکمرانوں سے ریاستوں کا وجود ختم ہوگیا گر ہم اپنے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان پر نظر ڈالتے ہیں تو حیرت و تعجب میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہمیں عملاً اسلامی نظام و اطوار نظر نہیں آتے البتہ دین الہیٰ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو تقسیم در تقسیم مسالک میں کر رکھا ھے۔ پاکستان کا حکمران جبتک مکمل مذہبی اسلامی باعملی نہیں آئیگا تب تک یہ ملک جھلستا بکھرتا ٹوٹتا رہیگا ہماری اور ہمارے ملک کی بقا کیلئے عمر بن عبدالعزیزؒ جیسا ہی حکمران حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بناسکتا ھے یہ سب کے سب پاکستانی سیاستدان جھوٹے کاذب اور منافق ہیں۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
