ٹاٸٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: عاشق کی نظر سے ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
اللہ نے روٸے زمین پر انبیاء کرام اور رسولوں کو اپنے بندوں کو بندگی کا سلیقہ و کرینہ سیکھانے کیلٸے بھیجا اور آخر میں اپنے چہیتے لاڈلے محبوب ترین انتہاٸی پیارے سرداروں کے سردار امام الانبیاء ختم الرسول حضور کاٸنات
محمد مصطفی نور خدا نور مجسم روح الامین سید السادات احمد مجتبٰی محمد الرسول اللہ ﷺ وہ واحد بندے اور نبی و رسول ہیں جنہیں عرش کا مہمان بنایا جنہیں رب نے جہاں در جہاں کاٸنات در کاٸنات دکھاٸے اور سارے جہاں کو آپ کی غلامی میں دیدیا۔ اللہ کی محبت اور قرب الہیٰ بناء غلامی عشق رسول ہرگز ہرگز ممکن نہی۔ آج یہ گناہگار سیاہ کار بندہ خدا اور رسول خدا کے غلاموں کے غلام کے پاٶں کی مٹی کے برابر نہیں جس کی کوٸی وقعت نہیں قدر نہیں مگر عشق رسول ﷺ کی ہلکی سی تپش نے عشق میں ہلا ڈالا کہ اپنے آقا محمد الرسول اللہ ﷺ پر کڑوروں درود و سلام کے ہدیہ پاک کے بعد ان تمام عاشقوں کی خدمت میں یہ کالم پیش کررھا ھوں جو دل میں عشق رسول کی تپش بساٸے ھوٸے ہیں اور بھڑکانہ چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔معزز قارٸین!! جامع مسجد دہلی بھارت میں آپ کسی بھی دروازے سے اندر داخل ہوں گے تو آپ کو وضو بنانے کیلٸے پانی کا حوض نظر آئے گا. حوض کے مغربی اور شمالی کونے پہ آپ دیکھیں گے کہ اس کونے کے مقام کو جالیوں سے محفوظ کردیا گیا ہے. اس مقام کو محفوظ کرنے کی اصل وجہ کیا ہے یہ جان کر نہ صرف آپ حیران ہو جائیں گے بلکہ مارے خوشی کے فرط مسرت سے آپ کی آنکھیں نم ہوکر بارگاہ رسالت میں درود و سلام کے ہدیہ عقیدت پیش کرنے لگیں گی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے نہ صرف عقیدہ اہل سنت پہ استحکام حاصل ہوتا ہے بلکہ اس سے نبی کریم ﷺ کا اپنے چاہنے والوں پہ بعد از وصال کرم کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب شہنشاہ شاہ جہاں نے دہلی کی جامع مسجد کی تعمیر کو مکمل کرا لیا تو ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا میں گڑ گڑا کر رسول اکرم ﷺ سے توسل کرتے ہوئے التماس کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! براہ کرم آپ اس مسجد میں تشریف لائیں اور اس کو شرف قبولیت سے نوازیں اپنے قدم ناز سے اس مسجد کو بابرکت بنائیں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اور اس مسجد کو آپ کے توسط سے قبول کرے۔ شاہ جہاں کی دعا و التماس بارگاہ رسالت میں قبول ہوئی اور نہ صرف شاہ جہاں خواب میں بلکہ اس وقت کے دہلی کے اولیاء کرام نے بحالت کشف دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ بنفس نفیس دہلی کے جامع مسجد تشریف لائے ہیں اور اس مقام پہ بیٹھ کر آپ ﷺ نے وضو کیا۔ شاہ جہاں اپنے مسکن سے فوری طور پر اسی وقت اپنے چند احباب کے ساتھ بھاگے بھاگے مسجد میں پہنچے اور فوری طور پر جہاں تک تازہ تازہ وضو کرنے کے اثرات پائے گئے وہاں نشان لگا کر محفوظ کردیا. کہا جاتا ہے کہ اسی وقت کے دہلی کے درویش و اولیاء کرام بھی حاضر ہوگئے تھے. صبح بادشاہ شاہ جہاں نے اس مقام کو سنگ مر مر سے گھیر کر محفوظ کروا دیا۔ بعد میں مزید تحفظ کیلئے اس پہ جالی لگادی گئی. موجودہ انتظامیہ نے اب پرانی جالی کو بدل کر نئی اسٹیل کی جالی لگوا دی ہے. آپ بھی جب جائیں تو اس مقام کی زیارت ادب و احترام کے ساتھ کریں اور اپنے عقیدے کو مزید مستحکم کریں. تمام نمازیوں اور زاٸرین سے ملتمس ھوں کہ اپنی دعاٶں میں مجھ گناہگار کو ضرور یاد رکھٸیے گا۔۔۔۔!!
