اہم خبریںکالم/مضامین

عنوان: شیطان کی ناجائز اولادیں یوں تو میں نے اپنےقارئین کیلئے بیشمار

*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*
*عنوان: شیطان کی ناجائز اولادیں۔۔۔!!*

یوں تو میں نے اپنےقارئین کیلئے بیشمار

موضوعات پر قلم اٹھایا ہے لیکن سب سےزیادہ سکون اور اطمینان مجھے اسلام دشمنوں کے

خلاف قلم کی تحریر سے ملتا ہے کیونکہ میری زندگی بے معنی بےمقصد رہ جائے گی گر میں نے دین اسلام کیلئے اپنا کردار ادا نہ کیا ہو، میں نے ہمیشہ دعا کی ہے کہ الله مجھے کافر قادانیوں اور یہودی زائنسٹ کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہادت کی موت عطا فرمائے آمین ثما آمین، مجھے فخر ہے اور میں علل اعلان کہتا ہوں میں یہودی زائینسٹ اور کافر قادیانیوں کا کھلا دشمن ہوں، ہر وہ طبقہ جو میرے آقا حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے وہ حرام کی اولاد ہے، حرامی ہے، حرامی ہے، حرامی ترین ہے اور یہی طبقہ شیطان کی ناجائز اولادیں بھی ہیں ۔۔۔معزز قارئین!! یہ میری تحریر مکمل تحقیق اور تجزیاتی بنیاد پر محیط ہے، میں نے یہاں طبقے کا لفظ اس لیئے استعمال کیا ہے کہ غیرمسلم ممالک میں قادیانی کافر طبقہ خود کو مسلمان کہلوانے پر دباؤ ڈالتا ہے اور پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں ایسے بھی شخصیات ہیں جو دین اسلام سے کوسوں دور ہیں ان میں کچھ سیاسی شخصیات، کچھ نوکر شاہی شخصیات، کچھ تاجر شخصیات، کچھ دانشور حضرات، کچھ ادیب حضرات، کچھ قاضی اور کچھ میڈیا پرسن گوکہ دولت عیش عشرت کی لالچ کے عوض لوگوں نے اپنا ایمان برباد کرکے رکھ دیا ہے، طویل مطالعے اور غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ انتہائی جدیدیت ذہن یعنی ماڈرن ازم کے ذہنوں نے صرف اور صرف دین اسلام سے دور رہنے کو کامیاب قرار دیا ہے جبکہ اس طرح کے ذہن رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسرائیل، کینیڈا، سوزرلینڈ، جاپان، آسٹریلیا اور چائنا جیسے ترقیاتی ممالک میں بھی مذہب کو اولیت، اہمیت اور فوقیت دی جاتی ہے، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آئین میں قادیانوں کے خلاف قانون تو ضرور ہے مگر اس پر سزا کی مد میں کوئی کاروائی دیکھنے میں نہیں آتی، پی پی پی اور پی اپم ایل کی سابقہ حکومتوں میں قادیانی کافروں کے کارفرماؤں نے اس قدر اپنے اثر رسوغ کو بڑھادیا تھا کہ حج سمیت دیگر حلف نامے میں چھیڑ چھاڑ کی گئی لیکن ان ذمہ داروں کے خلاف نہ عدات نے از خود نوٹس لیا اور نہ ہی موجودہ حکومت نے کاروائی کیلئے اپنا کردار اپنایا۔۔۔ معزز قارئین!! مجھےحیرت و تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے محافظ کیونکر اس بابت خاموشی اختیار کرتے ہیں، آخر انہیں کس نے روکا ہے کیونکہ ہم فخر کرتے ہیں اور ہمیں مان ہے کہ ہمارے محافظ وطن عزیز سے جس قدر والہانہ محبت کرتے ہیں اس سے کئی سو گناہ نبی کریم ﷺ کے عاشق ہیں، پاکستانی عوام کو یقین ہے کہ ناموس رسالت ﷺ پر عوام کے ساتھ ساتھ ہمارے محافظ بھی کھڑے ہیں، آج بھی شہید ممتاز قادری جیسے غلام وجود ہیں یہ قادیانیوں کافروں کی بہت بڑی غلطی ہوگی کہ وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرسکیں انہیں میں بآور کرانا چاہتا ہوں کہ اگر اب کوئی چالاکی کی تو مدینہ ثانی عمران خان کچل کر رکھ دیگا اور ان کی تمام زمین سرکاری تحویل میں کرلے گا یہی نہیں ان سب کو ملک بدر کردیگا اور چینیوٹ کو ان سے پاک کردیگا اس عمل میں پی ٹی آئی کے تمام کارکنان مع عہدیداران بھی ساتھ ہونگے۔۔۔معزز قارئین!! پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں عاشق رسول اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور کسی طور قادیانی کافروں کی شر انگیزی کو برداشت نہیں کرسکتے زیادہ دور کی بات نہیں عاشق رسول ﷺ شہید ممتاز قادری کو سلام کہ جس نے گستاخ رسول ﷺ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو جہنم رسید کیا، یاد رکھئے گستاخ رسول آسیہ بی بی کو بیرون ملک بھیجنے کیلئے جن جن نے کوششیں کی تھیں وہ شدید گناہ کے مرتب ہوئے ہیں روز قیامت کیا چہرہ دکھائیں گے۔۔۔۔معزز قارئین!! میں یہاں ایک سچا واقعہ بیان کرتا ہوں ہمارے مسلمان کو روحانی سکون ملےگا۔۔۔!! ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﻟﮍﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﮔﺰﺭﺍ۔ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ
ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﻮﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﺘﮏ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﻠﺲ ﺍﺣﺮﺍﺭ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﮐﻮ ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺩﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻄﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﺎﮦ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﯿﺎﺕ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖﺍﻭﮐﺎﮌﮦ ﭼﻠﮯﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯿﺲ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﯿﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﮟ۔ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺣﻮﺍﻟﮯ
ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺮﺯﺍ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ
ﮐﯿﺎ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ
ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﯾﻨﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﭽﺎ ﮐﮭﭻ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ، ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺎﺭﯼﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻭﮦ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ
ﻭﮐﯿﻞ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ
ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺳﺐ ﯾﻮﻧﮩﯽ
ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﻭﮐﯿﻞ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﺍٓﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﻤﺒﯽﭼﻮﮌﯼ ﺑﺤﺚ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍٓﭖ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ! ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﯽﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ ﮐﮧﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ
ﺳﮑﺘﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ
ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ
ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ، ﺍٓﺧﺮ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﮔﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦﮔﺎﻟﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕﻧﮩﯿﮟ ، ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺳﻨﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺩﯾﮟ :
کیا اسنے کہا تھا کہ تیرے مرزے دی۔۔۔۔ ؟ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﺎﻧﺲﻣﯿﮟ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﺌﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﮔﺎﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﯽ ھﮯ، ﺟﻮ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ، ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻭﺭﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺳﻨﻮ، ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ اکیاون ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﮟ۔ ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺩﺑﯽ ﺩﺑﯽ ﮨﻨﺴﯽ
ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻓﻖ ﺗﮭﺎ ﺍﺏ ﭘﮭﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﯽ ھﮯ۔؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ۔ﺍﺏ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺟﺞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻞ ﮐﯽ
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ
ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ھﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻞ ﺗﮏ ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ،ﺟﺞ ﻧﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮐﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮﺑﺘﺎﯾﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻞ ﮨﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔معزز قارئین!! شیطان جھوٹا اور اس کے نطفے جھوٹے یہی وجہ ہے کہ تمام مرزائی قادیانی کافر حرام سے جننے ہوئے ہیں اور ان کی اعانت کرنے والے کسی بھی طرح کرتے ہوں چاہے زبان سے، چایے رقم سے، چاہے عورت سے، چاہے اختیار سے، چایے گفتگو سے، چاہے قلم سے، چاہے تحریر سے، چاہے سیاست سے گو کہ کسی بھی ذریعے سے یہ سب کے سب حرامی اور حرام زادے ہیں۔۔۔۔۔ الله مجھے ان حرام زادوں سے لڑنے کا حوصلہ اور طاقت عطا فرما آمین ثما آمین

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You