*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : سائنسی تحقیق اور قیامت کی نشانیاں ۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
قیامت بر حق ھے، دین محمدی ﷺ میں قیامت اور اس سے قبل کے حالات کی مکمل تفصیلات و نشانیاں قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں کئی جگہوں پر بیان کی گئیں ہیں، قیامت سے قبل زمین اور فلکیات کے نظام میں تبدیلی اور فناء کا ذکر بھی واضع طور پر کردیا گیا ھے اللہ نے اپنے بندوں بندیوں سے اپنی وحدانیت طاقت اور وجود کا ھونا کھل کر بیان بھی کیا ھے اور کرشمہ دکھا کر ثابت بھی کیا۔ زمین کی کروٹ سے لیکر آتش کے ہولناک پھیلاؤ تک، سمندری طوفان سے لیکر آسمانی طوفانوں سیلابوں تک گوکہ اللہ بار ہا بار متنبع کرتا رھا ھے کہ وہی یکتا واحد لاشریک ھے اور اسی کی عبادت جائز ھے اللہ نے آخری نبی و پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اینا دین تمام کردیا اور یہی دین محمدی ﷺ سچا کھرا اور تاقیامت تک قائم رہیگا۔۔۔۔ معزز قارئین !! قیامت سے قبل باحکم ربانی زمین کی ہیئیت و کیفیت تبدیل ہونا شروع ہوگی جس سے بڑے بڑے زلزلے، طوفان، اور آتش پیدا ہونگے،
ماہرین ارضیات کے مطابق زمین کی اندرونی تہہ جو لوہے اور نکل جیسے عناصر سے بنی ایک ٹھوس اور گرم مرکز پر مشتمل ہے گزشتہ کچھ دہائیوں سے اپنی رفتار میں تبدیلی کا سامنا کررہی ہے۔ کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق سنہ دو ہزار دس عیسوی کے بعد سے اس تہہ کی گردش سست ہونا شروع ہوئی، اور حالیہ سائنسی تجزیے یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ تہہ اب سنہ دو ہزار پچیس عیسوی میں ممکنہ طور پر اپنی مخالف سمت میں گردش کرنے لگی ہے۔ یہ تبدیلی صرف سائنسی نقطہ نظر سے ہی حیران کن نہیں بلکہ اس کے ممکنہ اثرات بھی نہایت اہم ہیں۔ سمندروں کے درجہ حرارت اور پانی کے بہاؤ میں تبدیلی، غیر معمولی موسمی حالات، اور یہاں تک کہ گہرے سمندروں میں رہنے والی مخلوقات کا ساحلوں پر نمودار ہونا، یہ تمام نشانیاں زمین کی اندرونی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔ جب زمین کی اندرونی تہہ مخالف سمت میں گردش کریگی تو اس سے زمین کے مقناطیسی میدان، زلزلوں اور موسموں پر اثر پڑسکتا ہے۔ سائنسی اندازے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ایسے واقعات زمین کی ساختی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب اندرونی سطح مکمل طور الٹی سمت میں گھوم جائے گی تو یہ وہی دور شروع ہوگا جس میں سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق، قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی "سورج کا مغرب سے طلوع ہونا” ہے جیسا کہ مفہومِ حدیث ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک نہیں آئیگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے، پھر جب وہ طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان اسے فائدہ نہیں دیگا جس نے پہلے ایمان نہیں لایا یا اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی نہ کی ہو۔” بحوالہ: (صحیح بخاری) اب جبکہ سائنسی دنیا بھی زمین کی گردش میں غیر معمولی تبدیلیوں کی تصدیق کرچکی ہے، تو کیا یہ وقت نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کر کے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں؟ کیا ہمیں اب بھی اللہ سے نہیں ڈرنا؟ کیا ہم اُس دن کا انتظار کررہے ہیں جب توبہ کے دروازے بند ہو جائیں گے؟ ہمیں چاہئے کہ ہم موجودہ وقت کو غنیمت جانیں، قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور توبہ و رجوع کی طرف لوٹ آئیں، کیونکہ وہ دن بہت قریب ہے جب توبہ کے دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کی معاف کرے، ہمیں اپنی ہدایت اور رحمت سے نوازے، اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
