ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: خونی اسلامی انقلاب ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
یہ قابلِ غور اور قابلِ فکر عمل ھے کہ جہاں بائیس کروڑ سے زائد انسان بستے ھوں اس سرزمین میں کھانے پینے رہنے اور چلنے پھرنے کی چند ایک لوازمات تو موجود ہیں جن سے بسیرا ھے لیکن آپ شائد یقین نہ کرسکیں کہ اس خطے میں انسان جنہیں ھم شہری کہہ تو سکتے ہیں مگر ہیں نہیں کیونکہ اگر انہیں شہری تسلیم کرلیا تو پھر دنیاوی اور دینی احکامات اور قانین کے مطابق حقوق دینے پڑ جائںں گے اسی سبب اس سرزمین کو جیتے جاگتے انسانوں شہریوں کو جانور سے بھی بدتر سمجھا اور رکھا جاتا ھے۔ اس سرزمین پر چند ہزار طاقتور لوگوں کا سخت ترین قبضہ ھے جو انکی نسلوں تک پھیلا ھوا ھے یہ جانور سے کم تر انسان ان کے ظلم و بربریت کے باوجود ان ہی کے گن گاتے پھرتے ہیں ان طاقتور لوگوں کے مردہ لوگوں کو جئے جئے کہتے پھرتے ہیں برسوں سے آج تک یہی کیفیت وارد ھے۔ اگر اس خطے کے گاؤں دیہات اور قصبات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہاں کے طاقتوروں کے سامنے بیٹھنے اور کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ طاقتوروں کے کتے گھوڑے و دیگر پالتو جانور ان غلام انسانوں سے کہیں بہتر زندگی بسر کرتے ہیں یہ وہ خطہ ھے جو دنیا کے سامنے ایٹمی طاقت بن گیا لیکن اپنے شہریوں کو آزادانہ خوشحال صحت مند تعلیم یافتہ اور باشعور تہذیب یافتہ زندگی نہیں دے سکا کیونکہ اس خطے میں بھڑیوں خونی درندوں اور طاقتوروں کا ہی قانون چلتا ھے اور یہی منصف بھی بن جاتے ہیں یہ طاقتور جہاں چاہتے ہیں اپنی عدالت لگا لیتے ہیں اور جو چاہے فیصلہ کردیتے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ انکے فیصلوں کو رد کرسکے۔ اس خطہ کو غیر مسلم سامراجیوں سے لاکھوں دیندار سچے مخلصین کی جانی و مالی قربانی سے حاصل کیا مگر چند سال بعد ھے اس خطے سے شدید نفرت کرنے والے غداروں اور غیر مسلم طاقتوں کے سہولتکاروں نے قبضہ کرکے یہ صورت حال پیدا کردی ہیں۔ اس خطہ کو اب ایک خونی اسلامی انقلاب ہی دھو سکتا ھے تب ہی اس میں خطہ انسان آباد ھوسکیں گے۔ ذرا سوچئے گا ضرور کہ آیا خونی اسلامی انقلاب ہی حل ھے کیا کوئی اور یہ آپ میرے معزز قارئین بہتر جواب دے سکتے ہیں میں تو صرف اس بائیس کروڑ سے زائد انسانوں کی بقاء و سلامتی اور خوشحالی کیلئے دعا ھی کرسکتا ھوں اور منتظر ھوں کہ وہ با عمل سچا نیک اور انتہائی طاقتور انسان کب نمودار ھوگا جو اس گند کو صاف کردے۔ یاد رھے ایران میں آیت اللہ خمینی نے خونی انقلاب سے ایران کو پاک و شفاف کردیا تھا تو پھر اس خطے میں ممکن کیوں نہیں۔۔۔۔!!
