کالم/مضامین

عنوان: خبیث سوچ کے دانشور

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: خبیث سوچ کے دانشور

اکثر و بیشتر پڑھے لکھے خبطی دانشور مفکر لکھاری اور اینکرز نجانے کس کی ایماء اور خوشی کیلئے وطن عزیز کی افواج تو کبھی ایٹمی طاقت کو اپنی خبیث اور منفی سوچ کا شکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے چند ہی لوگ ہیں جو انگلیوں میں گنے جاسکتے ہیں ان کا ہمیشہ سے وطیرہ رہتا ھے کہ اپنی ناپاک سوچ سے سیدھے سادھے لوگوں کو وطن عزیز کی سالمیت و بقاء کے خلاف ورغلائیں اور بلاوجہ کبھی افواج پاکستان کو منفی تنقید کرکے ہرزہ سرائی کریں اور کبھی ایٹمی قوت کو فضول کہہ کر اس کی اہمیت کو زائل کرنے کی کوشش کریں یہاں یاد کراتا جاؤں کہ ملک پاکستان دنیائے اسلام کی واحد ریاست ھے جو ایٹمی طاقت سے مامور ھے۔ چند خبیثوں کو برداشت نہیں کہ پاکستان عالم دنیا میں مضبوط سے مضبوط تر ھوتا جارہا ھے اس میں ہماری افواج کا سب سے زیادہ موثر کردار ھے ہم اپنی افواج کو جتنا سلام پیش کریں کم ھے۔۔۔۔معزز قارئین!!
آزادی کی سانس نہیں تو کچھ نہیں۔ اس وقت دنیا میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کے بعد کچھ لوگ صحت کی سہولتوں پر سوال اٹھا ریے ہیں۔ بھارت میں موجودہ لہر کی تباہ کاریوں کے بعد زر خرید لنڈے کے دانشور اور امن کی آشا والے پاکستان کو ایک بار پھر مشورہ دیتے نظر آریے ہیں کہ ایٹم بم اور ہتھیاروں کے بجائے صحت عامہ پر خرچ کرو ایسے بھوسہ دماغوں کو یہ جواب ہے کہ

"‏‎ایٹم بم نہیں ہوتا تو ہم غلام بنے ہوتے اور آزاد ہوا میں سانس نہیں لے پاتے۔ غلامی کے وینٹلیٹر میں سانس لینے سے بہتر موت ہے” ‏‎کسی نے کسان سے پوچھا ” آپ کے پڑوسی کیسے ہیں فصل کا نقصان تو نہیں کرتے ". اس نےکہا ” نہیں تو! بڑے ایماندار لوگ ہیں "پوچھا تو پھر گن کیوں رکھی ہوئی ہے ” کہا تاکہ ایماندار رہیں "۔

حضور ہم نے ایٹم بم بنایا ہے تاکہ وہ ہمیں نشانہ نہ بنائیں. ہم نے تو رد عمل میں بم بنائے ہیں یہ مشورہ آپ بھارت کو بھی دے سکتے ہیں کہ ایٹمی پلانٹس میں آکسیجن سلنڈر بھرنا شروع کردیں. فوج نے ٹینک اور جہاز بنانے تھے، وہ انھوں نے بنالئے.جن لیڈروں نے اسپتال، اسکول اور کالج بنانے تھے، انکے لندن میں محل ہیں اور ان کے نوکروں چاکروں کے جعلی اکاؤنٹ سے اربوں روپے بھی نہیں اربوں ڈالر نکلتے ہیں. یاد رھے ‏کہ‎ بھارت نے پہلے ایٹم بم بنایا تھا اور جواب میں پاکستان کو مجبوراً بنانا پڑا۔ بھارت نے تو ستر کی دہائی میں ایٹمی دھماکہ کر بھی لیا تھا جب پاکستان میں دور دور تک ایٹم بم کا نشان بھی نہیں تھا۔ ‏‎میرے پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اسلحہ کو تیار رکھیں اور ساتھ انسانیت کی خدمت کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیئے۔ دشمنوں کے غلہ پر پابندی اٹھانے کے احکامات جاری کیئے گئے۔ ” ایسی زندگی جہاں غلامی میں قدرتی یا مصنوعی سانس لیجائے موت ہزار درجہ بہتر ہے سانس ہے تو آزادی کی ورنہ کچھ بھی نہیں” ۔۔۔

معزز قارئین!! ٹیپو سلطان کا فقرہ شیر کی ایک زندگی گیڈر کی ہزار زندگی سے بہتر ھے یعنی جیئیں تو ایسے جیئیں کہ جس میں عزت بھی ھو اور وقار بھی آزادی بھی ھو اور عزتِ نفس بھی۔ الله پاکستان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے آمین

کالمکار: جاوید صدیقی

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You