*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے خطاب سے اقتسابات*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
پاکستان سمیت مسلم حکومتوں کی کیا پالیسی ہیں وہ بہتر جانیں لیکن ایک صحافی اور صحافت سے تعلق رکھنے والوں کی ذمہداری ہیں کہ وہ ہر سچ و حق کی ترجمانی کریں کیونکہ قلم اور آواز آزاد رہتے ہیں صحافت کبھی بھی قدغن اور غلامی میں نہیں رہ سکتی ، صحافت ایک مجاہد کی طرح ہوتی ھے جو ایمان اور یقین کیساتھ اپنے ہدف اور منزل کی جانب بڑھتی رہتی ھے۔ جنگوں میں ایک جانب دو طرفہ ممالک ہتھیاروں سے مقابلہ کرتی ہیں انہیں کے درمیان دوسری جانب صحافی جنگی اصل صورتحال کی ترجمانی کرتا رہتا ھے۔ آج کا کالم فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کے متعلق ھے جس میں حزب اللہ کا بڑا کردار موجود ھے۔ حالیہ دنوں میں حزب اللہ جماعت کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا تھا اس خطاب کے اقتسابات اپنے معزز قارئین کو پیشِ خدمت ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! سات اکتوبر کو غزہ میں مزاحمت نے جو کچھ کیا وہ مکمل طور پر اس کا حق ہے۔ ہزاروں فلسطینی قیدیوں کے مصائب کے سامنے، غزہ میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کے محاصرے کے سامنے، اور مسجد اقصیٰ کے خلاف دھمکیوں کے سامنے، اور دنیا کی خاموشی اور نظر اندازی کے سامنے، مسئلہ فلسطین… ہم خود کو اس جنگ سے پوری طرح ہم آہنگ پاتے ہیں۔ پہلی بار، اسرائیل دس ماہ کی لڑائی کے بعد بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے اور قتل عام اور عام شہریوں کو قتل کر کے اپنی ناکامی کو چھپاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے اپنے انسانی اور مادی نقصانات کو چھپانے کی کوششوں کے باوجود، غزہ کی پٹی، مغربی کنارے، یا جنوبی لبنان میں، ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کے ” نو ہزار دو سو چوون افراد، بشمول افسران اور سپاہیوں، بشمول تین ہزار جن کے اعضاء کٹ گئے، چھ سو پچاس مفلوج، ایک سو پچاسی مکمل طور پر نابینا، اور کئی ہزار شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہوئے۔ اسرائیلی دشمن کیلئے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپکے ٹینک لبنان اور اسکے جنوب میں آتے ہیں، تو آپکو ٹینکوں کی کمی نہیں ہوگی کیونکہ آپکے پاس کوئی ٹینک نہیں بچے گا۔ شہریوں کو نشانہ بنانا جاری رکھنے پر مزاحمت کو میزائل داغنے اور نئی بستیوں کو نشانہ بنانے پر زور دیا جائے گا جنہیں پہلے نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ اگر فائرنگ بند ہوجاتی ہے، تو لبنانی ریاست مذاکرات اور جواب دینے کی ذمہ دار ہوگی۔ ہم اپنے علاقوں کو دوبارہ اسی طرح بنائیں گے جیسے وہ پہلے تھے اور انہیں پہلے سے زیادہ خوبصورت بنائیں گے۔۔۔معزز قارئین!! اس جنگ میں اسرائیل نے جو وحشیانہ انسان سوز عمل جاری کئے رکھا اس پر امریکہ سمیت دنیا بھر کی انسانی حقوق بلخصوص یو این او کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ھے گویا اسرائیل اور امریکہ نے واضع دنیا بلخصوص اسلامی ممالک کو پیغام دیدیا ھے کہ وہ مالک ہیں اس پوری دنیا کے نہ چین نہ روس اور نہ ہی افریقہ و یورپ اسکے مخالفت میں آکھڑا ہوسکتے ہیں لیکن دنیا میں واحد مجاہد تنظیمیں حزب اللہ اور حماس دنیا کی سپر اور ایٹمی پاور سے جہاد کررہی ہیں۔ حکومتوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسلامی مملکت ایران، اسلامی مملکت افغانستان اور ترکیہ کا کردار قابل تشویش اور مملکت عرب اور امارات کو کردار انتہائی افسوسناک و شرمناک نظر آرھا ھے۔ بیشک اللہ اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو بلند عزت و مقام عطا کرتا ھے۔۔۔۔!!
