ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: حریت رہنما مقبوضہ کشمیر سید علی شاہ گیلانی زندہ جاوید۔۔!!
بروز بدھ یکم ستمبر سنہ دو ہزار اکیس بروز بدھ پچیس محرم الحرام چودہ سو بیالیس ہجری کو حریت رہنما مقبوضہ کشمیر سید علی شاہ گیلانی دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔۔۔۔۔ إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون ۔۔۔۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔۔۔ معزز قارئین!! مقبوضہ جموں کشمیر کے سینئر رہنما اور تحریک حریت کے بانی سید علی شاہ گیلانی ایک بہادر سچے نڈر بےباک مخلص ایماندار اور ولی صفت انسان تھے آپ نے تمام عمر پاکستان سے والہانہ محبت بسائے رکھی یہی نہیں بلکہ جلسے جلوس میں کہا کرتے تھے وہ اور ہر مقبوضہ کشمیری اور تحریک حریت کے کارکن پاکستانی ہیں اور پاکستان انکا ھے۔ انھوں نے حریت تحریک کے پلیٹ فارم سے بیشمار مجاہد اور رہنما پیدا کیئے اپنی آخری سانس تک بھارت کے ظالمانہ اور غاضبانہ رویئے کے خلاف آواز بلند کرتے رہے لیکن دنیا بھر کی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں بھارتی ظالم کے سامنے چپ سادھ لی ھے یہ دنیا کے این جی اوز کے منافقانہ رویئے عیاں ھوچکے ہیں لیکن کفار و مشرکین کے ڈھیٹ پن اور بے حسی کے باوجود سید علی گیلانی نے حق و سچ کی آواز کو کبھی بھی دبنے نہ دیا۔۔ معزز قارئین!! مرد مومن مرد حق اور مرد حر سید علی گیلانی کے متعلق آپ کو بتاتا ھوں کہ سید علی شاہ گیلانی انتیس ستمبر سنہ انیس سو انتیس عیسوی کو پیدا ھوئے اور یکم ستمبر سنہ دو ہزار اکیس عیسوی کو طویل اسیری میں رہتے علالت کے باعث چورانوے سال کی عمر میں پہنچ کر وفات پائی، جموں و کشمیر کے سیاسی رہنما تھے، آپ کا تعلق ضلع بارہ مولہ کے قصبے سوپور سے تھا۔ ابتدائی تعلیم سوپور میں حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے اورینٹل کالج لاہور چلے گئے، جہاں وہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کے خیالات اور علامہ اقبال کی شاعری سے بے حد متاثر ہوکر لوٹے۔ سید علی گیلانی نے علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے ترجمے پر مشتمل تین کتابوں اور خود نوشت سوانح عمری سمیت تقریباً ایک درجن کتابیں بھی تصنیف کیں۔ کشمیر واپسی پر انھوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔شعر و سخن سے شغف اور حُسنِ خطابت کی وجہ سے بہت جلد جماعت کے اہم رہنما کے طور مشہور ہوگئے۔ انھوں نے سنہ انیس سو باہتر عیسوی، سنہ انیس سو ساتتر عیسوی اور سنہ انیس سو ستاسی عیسوی میں جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا۔ مقامی اسمبلی میں وہ مسئلہ کشمیر کے حل کی وکالت کرتے رہے،تاہم ستاسی رُکنی ایوان میں جماعت کو چند سیٹیں ہی ملتی تھیں لہذا اُن کی سیاست اسمبلی کے اندر حاشیے پر ہی رہی۔آپ علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح تھے۔ انھوں نے اپنے دور اسیری کی یاد داشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کیں جس کا نام "روداد قفس” ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔ تحریک حریت کے بانی سینئر رہنما سید علی گیلانی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جنہیں بزرگانِ دین کی دعاؤں کا ساتھ رہا اور جنہیں الله نے عالمِ اسلام میں عزت و وقار اور مراتب سے نوازا۔ سید علی گیلانی زندہ جاوید ہیں اور انکا مشن پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ھوگا اور حریت پسند مجاہدین انشاء الله وہ وقت دور نہیں جب بھارتی سورما جنہم واصل ھوتے ہوئے کشمیر کی آزادی دیکر اپنی جان بچائیں گے۔ بزدل بھارتی سورما دیوار پر نقش تحریر پڑھ چکے ہیں کہ جس طرح امریکہ ذلیل و رسوا ھوکر افغانستان سے بھاگا بہت جلد بھارت بھی مقبوضہ جموں کشمیر سے بھاگے گا وگرنہ بھگایا جائیگا۔
میری دعا ھے کہ الله اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے بزرگ رہنما سید علی گیلانی سمیت تمام شہدئے کشمیر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
کالمکار: جاوید صدیقی
