کالم/مضامین

*عنوان: جناح کا سفید انقلاب ۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: جناح کا سفید انقلاب ۔۔۔۔

*کالمکار : جاوید صدیقی*

پاکستان اس خطہ پاک و ہند میں اسی وقت بن گیا تھا جب پہلا مسلمان نے یہاں قدم رکھا پھر اس عزم و نظریہ کو تقویت اور تازہ روح اولیاء اللہ و اسلافین نے بناء مسالک صرف دین محمدی ﷺ کے فروغ کیلئے اپنی اپنی دینی و معاشرتی خدمات احسن انداز سے نبھائیں کہ آج بھی خوبصورت و سنہری الفاظ میں یاد رکھا جاتا ھے۔ اس خطہ پاک و ہند میں مسلم سپہ سالاروں نے بھی کئی سو سال حکومت کیں اور اسلامی تعمیرات و دیگر معاملات ثبوت کے طور پر موجود ھیں پھر ایک وقت وہ بھی دیکھا کہ اسی خطہ میں تحریک خلافت ابھری اور دین محمدی ﷺ کے نفاذ کیلئے بے پناہ قربانیاں پیش کیں جس کی کمان اور سربراہی انتہائی قابل ذہین بہادر اور بہترین ایمان کے مالک برادران مولانا جوہر علی اور مولانہ شوکت علی تھے۔ انگریزوں کی قید کی صعوبتیں جھیلیں اور جام شہادت نوش کیا لیکن یہ سلسلہ نہ تھما پھر تحریک پاکستان کا آغاز ھوا جس کی کمان اور سربراہی قائداعظم محمد علی جناح نے ادا کی آپ اور آپکے رفقائے کاروں اور مسلمانان ہند کا خواب تھا کہ ایسی ریاست ایسا ملک بنے جہاں رسول خدا ﷺ کا دین اور نظام مصطفیٰ رائج ھو۔ پاکستان دنیا کی دوسری خالصتاً اسلامی ریاست ھے جو نظریہ اسلام پر وجود میں آیا اول ریاست مدینہ تھی ھے اور رہیگی۔ پاکستان کی ترقی خوشحالی امن و سلامتی تہذیب و اخلاق اور شفاف ماحول اس وقت تک ممکن ہی نہیں جبتک کہ یہاں پاکستان میں نظام مصطفیٰ ﷺ رائج ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے زندگی کے آخری لمحات میں اس بابت تحریری وصیت نامہ لکھا تھا کہ اس ملک میں قرآن پاک کا نظام "نظام مصطفیٰ ﷺ” رائج کیا جائے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے اس وصیت کے متعلق اس قوم اور چیف جسٹس صاحبان کو ڈاکٹر انجینئر سائنسدان سید صادق علی صاحب نے بتایا تو انھوں نے توجہہ نہ دی پھر ڈاکٹر صاحب نے ملک و قوم کے اس کیس کو جو قائداعظم محمد علی جناح کی وصیت ھے اس بابت سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد میں پیٹیشن دائر کی جس پر چیف جسٹس صاحبان نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ جبتک عوام اس پٹیشن کا حصہ نہیں بنتے فرد واحد کیلئے پوری قوم کا کیس نہیں سنا جائیگا اس پیٹیشن کو دو سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ھے مگر وہ ہمت نہیں ہارے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے شب و روز محنت کررھے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر انجینئر سائنسدان سید صادق علی صاحب نے اس مشن کا نام جناح کا سید انقلاب دیا ھے اس بابت ڈاکٹر انجینئر سائنسدان سید صادق علی کا نظریہ مقصد اور عزم یہ ھے۔ *”جناح کا سفید انقلاب”* پاکستان کی تاریخ میں پہلی ایسی تحریک معرض وجود میں آئی ہے جس نے ملکی مسائل اور مشکلات کا روائتی رونا دھونا یا نشاندھی کرتے ہوئے کوئی سیاسی یا ذاتی مفادات کے حصول کے بجائے ایک پرامن انقلاب کا راستہ اختیار کرتے ہوئے آئین و قانون اور قرآن مجید کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان کو اس بھنور سے نکالنے کا حل پیش کیا ہے۔ جس میں نہ کوئی دھرنا، نہ ہڑتال، نہ احتجاج یا ریلی وغیرہ کے ذریعے اپنے مطالبات منظور کرانا جیسے کوئی بھی اقدامات شامل ہیں۔ اس تحریک کا لائحہ عمل بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریے کیمطابق پاکستان کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ایک آئینی پٹیشن دائر کی گئی ہے۔ 149/2022 جس میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ قائد اعظم نے 10 جولائی 1947 کے دن اپنے ہاتھوں سے جو تحریر لکھی تھی وہ مجوزہ تحریر پاکستان کے عوام کیلئے نہ صرف نصیحت بلکہ انکی وصیت کا درجہ رکھتی ہے، اس وصیت پر فوری عمل کرایا جائے، جس میں واضح طور لکھا ہوا ہے کہ پارلیمانی نظام ایک خطرناک نظام ہے، اصل نظام صدارتی نظام اسلامی ہے جس سے ملک میں خوشحالی آئیگی۔ قائد اعظم کے اگلے احکامات اسٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب کے خطاب میں موجود ہیں جس میں انہوں نے بلا سود معاشی نظام کے قیام پر زور دیا تھا، جس پر آج تک عمل نہیں ہوسکا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن 149/2022 ڈاکٹر انجینئر سائنسدان سید صادق علی صاحب نے اپنے لئے نہیں بلکہ پاکستان کی عوام کیجانب سے قائد اعظم کی وصیت پر عمل درآمد کیلئے دائر کی ہے۔
دو سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ مجوزہ پٹیشن کی سماعت مقرر کرنے سے کترا رہی ہے، جس کیلئے *”جناح کا سفید انقلاب”* کے پلیٹ فارم سے عوام الناس کو دعوت عام دی جا رہی ہے کہ اس آئینی پٹیشن میں فریق بننے کیلئے اپنے کوائف کے ساتھ پاکستان کے کسی بھی شہر میں قائم سپریم کورٹ کے رجسٹرار دفتر میں درخواست جمع کرائیں تا کہ سپریم کورٹ کو یہ باور کرایا جاسکے کہ پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ اس پٹیشن کی سماعت کی فوری سماعت کی جائے اور قائد اعظم کی وصیت پر عمل درآمد کرایا جائے۔ بانی و چئیرمن *”جناح کا سفید انقلاب”*جناب ڈاکٹر انجینئر سائنسدان سید صادق علی صاحب پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ان نقاط کی نشاندھی کی اور قائد اعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قانونی جنگ کا فیصلہ کیا اور مجوزہ آئینی پٹیشن دائر کی۔ ڈاکٹر صاحب ایک ریسرچ سائنٹسٹ اور پی ایچ ڈی اسکالر ہیں ان کے تحریر کردہ ریسرچ پیپرز کی بنا پر سی پیک کا منصوبہ تیار ہوا، انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ میں جرمنی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی بجلی کی پیداوار کیلئے ایک نئی ٹربائن ایجاد کی جو کہ انگلینڈ میں دنیا کی پہلی منفرد ٹربائن کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ بلا سود معاشی نظام پر مکمل ریسرچ کی جس کا تحقیقی مقالہ انگلینڈ میں جمع ہوچکا ہے۔ جس پر انشاءاللہ پی ایچ ڈی کی دوسری ڈگری عنقریب جاری ہوجائے گی۔ آپ کی جیون ساتھی کینسر کی مریضہ ہیں ڈاکٹر صاحب انکے علاج کے سبب انگلینڈ میں مقیم ہیں لیکن ملک و قوم کیلئے بھی وقت دیتے ہیں اور اپنی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ھے کہ ہماری قوم کو اس سیاسی مافیاء نے مکمل طور پر آٹا چینی دال چاول مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلوں کے چکر میں ایسے گھیرے رکھا ھے کہ وہ اپنے مستقبل اور روشن و خوشحالی کی جانب نہ سوچیں اور نہ توجہ کریں لیکن میرا ایمان ھے کہ یہ عوام ضرور بلضرور اس سسلن مافیاء کی چالوں کو سمجھ لیں گے بھانپ لیں گے اور انکی کسی بھی مکاری چالاکی اور سازش کا شکار نہیں ہونگے مجھے یقین ھے کہ ہماری قوم صرف اور صرف اس وطن اس ریاست اور اپنی بقاء و سلامتی اور روشن مستقبل کیلئے پائیدار عملی جامع پہنائے گی انشاءاللہ۔۔۔۔!!

{"fte_image_ids”:[],”remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:[],”source_ids”:{},”source_ids_track”:{},”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”total_editor_actions”:{},”photos_added”:0,”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You