BBC Urdu TV

عنوان: تاریخ میں چند مسلمان حکمرانوں کے مکروہ کردار

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: تاریخ میں چند مسلمان حکمرانوں کے مکروہ کردار

ایک ہمارے دوست عبدالقیوم بلوچ نے مجھے اپنے ملک اور بلخصوص عرب امارات کے حکمرانوں کیجانب سے مایوس اور افسوس کے رجحان کو محسوس کیا تو انھوں نے کہا کہ آپ ماضی کیطرف تو دیکھیں کہ ہمارے ماضی میں ایسے حکمران گزرے ہیں جن کی عیاشیوں کے تذکرے آج سے مختلف نہیں گویا انکی ہی تقلید کی جارہی ھو۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ مشہور خلیفہ ہارون الرشید کولونڈیاں بہت پسند تھیں، ہارون الرشید کے بعد خلیفہ بننےوالا مامون الرشید ایک لونڈی کی ہی اولاد تھا. ہارون کو اپنے چھوٹے بیٹے معتصم سے بہت پیار تھااس نے معتصم بالله کو پڑھانے کیلئے ایک نہایت پڑھا لکھا غلام بھرتی کیا جو چوبیس گھنٹے معتصم کیساتھ رہتا مگر معتصم ایک لفظ تک پڑھ نہ سکا۔ آخرکار غلام مر گیا تو معتصم نے کہا شکر ہے کتاب سے جان چھوٹی. یہ معتصم بالله اعلانیہ ہم جنس پرست تھا. اس نے خوبصورت اور چکنے لڑکوں کی پوری ٹیم رکھی ہوئی تھی. راہ چلتے بھی لڑکوں پر نظر رکھتا اور جو پسند آجاتا اسے شاہی محل میں مہمان بنالیتا. سلطان محمد فاتح بھی ہم جنس پرست اور لڑکوں کا شوقین تھا. ایران کا شاہ عباس بھی شوقین مزاج تھا، یہاں تک کہ ایران کے مشہور مصور رضا عباس نے ایک تصویر میں شاہ کو لڑکے کیساتھ رومینٹک موڈ میں بنایا ہے. برصغیر میں محمود و ایاز کے قصے زبان زد عام ہیں، سلطان محمود غزنوی کو ایاز سے محبت ہو گئی تھی اور اس جوڑی کو اہل فارس لیلیٰ مجنون پکارتے تھے اور محمود کو کہا جاتا کہ ایسا غلام جو اپنے غلام کا غلام ہو گیا۔ محمد شاہ رنگیلا کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا. وہ الف ننگا دربار میں آجاتا تھا وزیروں مشیروں کو بھی کپڑے اتارنے کا حکم دے دیتا وہ بھرے دربار میں پیشاب کردیتا اور تمام دربار واہ واہ بادشاہ سلامت کے نعرے لگاتے۔ اس نے اپنے پسندیدہ گھوڑے کو بھی وزیر کادرجہ دے رکھا تھا، گھوڑے کوبھی شاہی خلعت پہنائی جاتی اور گھوڑا بھی دربار میں حصہ لیتا. ہندوستان کا ایک اوربادشاہ قطب الدین مبارک شاہ ہم جنس پرست تھا. وہ ایک ہندو لڑکے پر عاشق تھا. بادشاہ ایک دن دلہن بنتا تھا اور ہندو لڑکا دلہا. دربار میں دونوں کا باقاعدہ نکاح ہوتا تھا، رخصتی ہوتی اور ولیمہ بھی ہوتا تھا اور سارے عمائدین سلطنت ’’جوڑے‘‘ کو باقاعدہ سلامیاں دیتے تھے. دوسرے دن وہ لڑکادلہن اور بادشاہ دلہا بنتا تھا اور اس تقریب میں بھی تمام درباری اورشرفاء شریک ہوتے تھے. سید نصیر شاہ اپنی کتاب اسلام اور جنسیات میں لکھتے ہیں:- مسلمان سلاطین نے بڑے بڑے ‘حرم’ بنا کر لاتعداد عورتوں کے باڑے بنا رکھے تھے۔ خلیفہ المتوکل کے پاس چار ہزار لونڈیاں تھیں. اسپین کے عبد الرحمان سوم کے حرم میں چھ ہزار تین سو کنیزیں تھیں جو شاہی عیش سامانیوں کیلئے جمع کی گئی تھیں۔ عثمانی خلفا کے حرم میں کنیزوں کی تعداد تین سو سے بارہ سو تک رہتی تھی۔ برصغیر میں بھی مسلمان بادشاہوں کے حرم میں سینکڑوں عورتیں ہوتی تھی۔ جلال الدین اکبر اور جہانگیر کے حرم میں تین تین سو لونڈیاں موجود تھیں. یہ عورتیں بے حثیت اور بے قدر ہوتیں۔زرا سا شک ہونے پر انکا گلہ گھونٹ کر یا زہر دے کر مار دیا جاتا تھا۔ ان کنیزوں کا کوئی والی وارث رشتہدار نہیں ہوتا تھا۔ سلاطین عثمانیہ میں کنیزوں کو بوری میں ڈال کر سی دیا جاتا اور سمندر میں پھینک دیا جاتا تھا۔ جب دل بھرجاتا، نئی کنیزوں کی کھیپ لانی ہوتی، تب بھی پچھلی کنیزوں کو قتل کردیا جاتا۔ کنیزیں وہ عورتیں ہوتیں، جو ‘اسلامی’ جنگوں میں دوسری قوموں کی اٹھا کر لے آئی جاتی، یہ بدنصیب اور مصیبت زدہ عورتیں اپنے پیچھے بار بار یاد آنے والا ماضی اپنے عزیز و اقارب اور اپنے محبت بھرےتعلقات چھوڑ کر آتیں۔ منڈیوں میں بکتیں، ذلت آمیز سلوک کا سامنا کرتیں انکی حیثیت کھلونوں جیسی ہوتی جس سے جنس کے مارے مسلمان امراء کھیلا کرتے۔ خاندانی بیویوں اور کنیزوں کی چپقلش ہوجاتی۔ تب بھی ان کو قتل کروا دیا جاتا۔ ایک بار خلیفہ ہارون الرشید کسی مغنیہ پر فریفتہ ہوگیا تو ملکہ زبیدہ نے اسکی توجہ ہٹانے کیلئے دس دوشیرہ کنیزیں خلیفہ کو بطور تحفہ پیش کیں۔ جب جنگیں نہ ہونے کیوجہ سے کنیزوں کی سپلائی رک جاتی، تو غلاموں اور کنیزوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والے عورتوں اور بچوں کو آس پاس کے قبائل سے پکڑ لاتے. کنیزوں کے بچوں کو گھڑ سواری، تیر اندازی، فن سپاہ گری میں طاق کیا جاتا اور اٹھائی گئی عورتوں کو بناؤ سنگھار، گلوکاری، رقص و موسیقی سکھائی جاتی اور پھر ان کو نئے آقاؤں کے پاس بیچ دیا جاتا۔ انہی کنیزوں کے کئی بچے بعد میں بادشاہ اور امراء بنے محمود غزنوی غلام کا بیٹا اور کنیز ماں کے بطن سے تھا۔۔۔۔ معزز قارئین!! مانا کہ یہ تاریخ مسلم حکمرانوں کی ھے مگر ان کے فعل مکمل دین کے برخلاف تھے یہی وجہ ھے کہ نظام ریاست اور نظام حکومت درحقیقت خلفائے راشدین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت لیکر سو فیصد قرآن و احادیث پر استوار کیا۔ خلفائے راشدین ادوار میں دنیا کا بہترین اور کامیاب ترین نظام حکومت پہناں ھے۔ مسلم دنیا اس وقت ایک شفاف پاکیزہ کامیاب ریاست بن سکتی جب وہ نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نافذ ھو کیونکہ نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خود نبی آخر الزماں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے رائج کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید تمام خلفائے راشدین نے اپنے اپنے دور حکومت میں کی۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام ریاست اور دینِ اسلام مسالک سے آزاد امامِ زمانہ حضرت مہدی علیہ السلام لائیں گے باقی منافقت اور جھوٹ بول بول کر مسلمانوں کو صرف دلاسا ہی دیتے رہیں گے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی طور پر دینِ اسلام کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا رہیں یہی ہماری نجات کا باعث بن سکے گا الله ہمیں صراط المستقیم پر قائم و دائم رکھے آمین یا رب العالمین۔۔۔!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version