کالم/مضامین

عنوان: بے حس حکومت ، بیٹیاں غیر محفوظ

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: بے حس حکومت ، بیٹیاں غیر محفوظ*

زمین و ارض کے تمام محل و وقوع میں نر اور مادہ کا وجود ہے، ان جوڑوں میں جاندار حیاتیات بھی ہیں اورنباتات بھی لیکن تمام تر الله تبارک تعالیٰ کی مخلوقات میں سب سے زیادہ افضلیت و اشرفیت حضرت انسان کو بخشی گئی’ اس کی سب سے بڑی وجہ اسے سوچ، سمجھ، شعور و افکار کی صلاحیت، طاقت اور خوبیوں سے نوازا گیا ہے مزید یہ کہ حکمت، دانائی، بردباری کی بناء پر مزید شفاف بنایا گیا۔ الله تبارک تعالیٰ نے اپنی مقدس الہامی کتاب قرآن الحکیم و الفرقان المجید میں جابجا انسان کی پیدائش کا ذکر کیا ہے اور انسان پر واضع کردیا کہ وہ گندے نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے اسی لیئے اس پر اکڑ، تکبر اور غرور جچتا نہیں دوسرے لفظوں میں حرام کردیا گیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں مرد خود کو اس قدر حاکم جابر تصور کرتا تھا کہ وہ عورت جس میں بہن، بیوی، بیٹی، ماں جیسے مقدس رشتوں کو ذلیل اور کمتر سمجھتا تھا اور اپنے بہمانہ، ظلم و بربریت کے پہاڑ کھڑے کردیتا تھا، زمانہ جاہلیت کا مرد اپنی معصوم بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے ہوئے سفاکی کا مظاہرہ کرتا تھا لیکن قربان ہوجاؤں میں اور میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو دنیا میں اول و آخر نبی پیغمبر بنکر تشریف لائے اور اپنی رحمت سے جاہلیت کا خاتمہ کیا۔ *الصلواۃ و السلام علیک یارسول الله* اپنی امت کو راہ مبین عطا کی، روشن کتاب قرآن الحکیم کا تحفہ بخشا۔ آپ آخری الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ کو ساری کائنات کیلئے رحمت اللعالمین بناکر بھجا۔ دین اسلام نے حیاتِ زندگی کا سلیقہ، کرینہ اور ڈھنگ سیکھایا، حقیقی معنی میں انسان کا مقصدِ حیات اور مقامِ انسانیت کا سبق سیکھایا۔ بہترین معاشرہ، بہترین ریاست اور بہترین حکومت کا عملی مظاہرہ بھی خود نبی پاک حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست مدینہ بناکر اپنی امت کیلئے عملی راستہ پیش کیا، آپ علیہ الصلواۃ و السلام کے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ اجمعین کرام جن میں خلفائے راشدین کا دور حکومت اور بعد کی اسلامی ریاستوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے احکامات کو قائم رکھتے ہوئے اسلامی حکومتیں قائم کیں اور ان میں سزا و جزا کے عمل پر کوئی رعایت نہ بخشی، ایسی ہی حکومتوں نے عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیئے اور تاریخ اسلام آج بھی انہیں سنہری لفظوں میں یاد رکھتی ہے۔۔۔ معزز قائین!! یہ موضوع بڑا طویل ہے لیکن میں سمیٹتے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستان جو دنیا میں دوسری اسلامی ریاست ہے جو خالصتاً نظریہ اسلام پر معروض وجود میں آئی لیکن افسوس کہ پاکستان مخالف قوتیں جس میں قادیانی مرزائی بھی شامل ہیں یہ روز اول سے ہی اس ریاست کو ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے سازشی عناصر متحرک رہے اور پاکستان کی مخلصوں، سچوں، والہانہ محبت کرنے والوں کیلئے ہرطرح کی رکاوٹ قائم رکھیں، بلآخر پاکستان دو لخت کرکے وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ کاروں کے ظلم کے شکنجے میں دکھیل دیا اور خاندانی سیاست کے ذریعے پاکستان کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ سن انیس سو ستر کے بعد سے ابتک نہ رکنے والا عورت ظلم جاری ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پاکستان بھر میں پولیس گردی، تھانوں کی فروخت، ناقص تفتیش کے سبب کیس کو انتہائی کمزور بناکر پیش کیا جاتا رہا ہے اور عدل و انصاف کے تمام راستوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا رہا۔ روز کی بناء پر ظالموں کے ہوس کا شکار ہونے والے عورت جس میں کم ترین عمر کی بچیاں کنواری لڑکیاں اور عورتیں بھی طاقتور دولتمند مردوں کی ہوس کا شکار بنتی چلی آرہی ہیں چند ایک واقعات میڈیا کے علم میں آنے پر صاحب اقتدار کو جگاتے ہیں اسپر صرف انکوائری کمیٹی بناکر خاموش کردیا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن و سنت اور دین سے ہٹ کر اقتدار میں بیٹھنے والے لعنت کے مستحق ہیں ان کے ہوتے ہوئے جرائم در جرائم پھیلیں تو ایسے حکمران نہ صرف بے غیرت ہیں بلکہ بے شرم بے حیا بھی۔۔۔ معزز قارئین!! حالیہ دنوں میں معصوم بچیوں کیساتھ ذیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافے پر کراچی پریس کلب کے باہر سندھ سے تعلق رکھنے والی خواتین کی مختلف تنظیموں نے مظاھرہ کیا جنمیں سندھ گریجویٹ ایسوسی ایشن، سندھ کمیشن دی اسٹیٹس آف وومن، عورت فائونڈیشن، وومن ایکشن فورم کراچی، پاکستان فشر فوک فورم، وومن ایکشن فورم حیدرآباد، سیاسی عورتیں، وومن ڈیمو کریٹک فرنٹ کراچی اور تحریک نسواں شامل تھیں کچھ تنظیموں کی نمائندہ خواتین مظاھرے میں نہ پہنچ سکیں لیکن جوخواتین احتجاج میں شریک تھیں وہ اس ملک کی دیہی آبادی اور مڈل کلاس خواتین کی حقیقی نمائندہ تھیں اس طبقے کی خواتین کا جرأت سے میدان میں آکر جدوجہد کرنا قابل ستائش ہے، سندھ کی یہ بہن، بیٹیاں اپنی دھرتی کیلئے بھی لڑرہی ہیں اور اپنی ماں بولی کو بھی انہوں نے ہی زندہ رکھا ہوا ہے، ہماری یہ بیٹیاں وڈیرہ شاھی اور فرسودہ رسومات سے بھی نبردآزما ہیں اور مولویوں کی جانب سے عورتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی انہی عورتوں کو سہنے پڑتے ہیں، میڈیا سمیت تمام بااثر طبقات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان خواتین کی آواز سے آواز ملا کر معاشرے میں خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف انکا ساتھ دیں، اس احتجاجی مظاھرے سے سندھ عورت تنظیم کی رہنما محترمہ زاھدہ صاحبہ نے انتہائی دھواں دار تقریر کی انکے علاوہ عالیہ بخشل، گلبدن جاوید، امر سندھو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی رشیدہ جونیجو اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔۔۔معزز قارئین!! تجزیئے ، مشاہدے اور تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ اٹھارہ ویں ترمیم مکمل طور پر عوام سے دھوکہ ، بددیانتی اور ظلم و بربریت پر مشتمل ہے ، اٹھارہ ویں کے خاتمے کے بغیر عورت کا تحفظ ناممکن ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اثھارہ ویں ترمیم میں وڈیرہ شاہی ، جاگیردارانہ تحفظ اور تمام تر سیاسی رہنماؤں کا قانونی تحفظ بنادیا گیا ہے گویا عوام کو مرنے مٹنے کیلئے بے سرو ساماں چھوڑ دیا، مجھے حیرت ہے کہ ابتک حکمراں جماعت سپریم کورٹ میں اس اٹھارہ ویں ترمیم کو کیوں نہیں لے گئے اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف بھی عوام کو دھوکے میں رکھے ہوئے ہے۔کیا ہمارے سپہ سالار اس بابت خاموش بیٹھے رہیں گے اور معصوم بیچیوں کیساتھ زیادتی اور قتل پر کمزور کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھیں گے۔۔ یہ درست ہے کہ آئین کے ساتھ رہنا چاہئے اگر کوئی عیار، منافق، چور، ڈاکو، اْچکا ریاست میں دراڑ ڈالنے کی غرض سے آئیں میں اس طرح تبدیلی لائے کہ جس سے عدل و انصاف کا جنازہ نکلے، عوام کی بیٹیاں غیر محفوظ ہوجائیں اور طاقتور بااثر، بااختیار اور سیاسی رہنما عیش و تعائش میں گم سم رہیں، معصوم بچیوں کے جنازے اٹھتے رہیں، مجرم مضبوط سے مضبوط تر ہوتے رہیں، سپہ سالار وطن عزیز پاکستان کو یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ مدینہ کی ریاست قائم کرنے والے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وقتاً فوقتاً سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے ہوئے جہاد کئے۔۔ ظلم و بربریت اور جاہلیت کا خاتمہ کیا اور آپ کے عمل پر چلتے ہوئے مسلم سپہ سالاروں نے دین و دنیا میں مقام بنایا اور الله کے پسندیدہ بندے بن کر تاریخ میں سنہری رقم کرگئے۔۔۔۔!!

*کالمکار: جاوید صدیقی*

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button

I am Watching You