کالم/مضامین

عنوان: بھٹو۔۔ تاریخی تلخ حقیقت

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: بھٹو۔۔ تاریخی تلخ حقیقت

ریاستِ پاکستان اور بلخصوص صوبہ سندھ کی زبوں حالت دیکھ کر سوچنے لگا کہ وفاق ھو یا صوبہ سندھ سب سے زیادہ بھٹو اور اس کا خاندان برسرِ اقتدار رھا لیکن کیا وجہ ھے کہ ان کی حکومتوں میں دیانتداری ایمانداری عدل و انصاف میانہ روی مساوات جیسے عناصر دور دور تک کہیں نظر نہی آتے اسی کھوج اور تجسس میں تحقیق اور تاریخِ حقائق کی جانب بڑھا تو مجھے ایک تلخ حقیقت دکھائی دی جو آپ کی خدمت میں پیش کررہا ھوں ممکن ھے بیشتر اس کا انکار بھی کریں انکار کی صورت میں حقیقت ضرور عیاں کریں تاکہ میری معلومات اور تحقیقی زاویہ درست کرنے میں مددگار ثابت ھوسکے۔۔۔۔۔معزز قارئین!! بھٹو آج بھی کیوں زندہ ہے’ ذوالفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کیلئے ان پر تہمت تک لگائی اور ان کے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا کہ: "اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟ ” کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سنکر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگارہی ہے جسکو یہ مادر ملت یعنی "قوم کی ماں” کہتے ہیں، قائد ملت کی بہن پر یہ تہمت اس جمہوری چیمپئن کے چہرے پر وہ سیاہ داغ ہے جو کبھی بھی نہیں مٹ سکے گا۔ سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کی جنگ کے حوالے سے انتہائی لبرل اور فوج مخالف سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کے مطابق یہ بھی بھٹو کی اقتدار ھوس کا ہی نتیجہ تھا ان کے الفاظ یہ ہیں: "طارق علی کافی مشہور اسٹوڈنٹ لیڈر تھے، انہوں نے اس وقت ذوالفقار بھٹو سے سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کی جنگ کے بارے میں پوچھا جب وہ ایوب خان کو چھوڑ چکے تھے کہ یہ جنگ آپ نے کیوں کی تھی؟ اور آپ نے کی تھی یا انڈیا نے؟ بھٹو نے جواب دیا: کہ ہم نے کی تھی مجھے یقین تھا کہ اگر ہارتے ہیں تو ایوب خان گرجائیگا، ایوب خان گرے گا تو میرا راستہ کھل جائیگا اگر جیت گئے تو ہیرو بن جائیں گے کیونکہ میں ہی وزیر خارجہ تھا، دونوں صورتوں میں میری جیت تھی۔”محض اپنا راستہ صاف کرنے کیلئے ذولفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگادیا،اگر پاک فوج اپنی جانوں پر نہ کھیلتی تو شائد ہم لاہور سے محروم ہو جاتے۔ شیخ مجیب جب اگرتلہ سازش میں پکڑا گیا اور ایوب خان اس کو غداری کے جرم میں سزا دینے لگا تو اس کو چھڑانے کیلئے بھٹو نے ملک گیر مہم چلائی اور بدترین حالات میں انتخابات کا مطالبہ کردیا، لیکن جب شیخ مجیب نے انتخابات میں کلین سویپ کیا اور بھٹو کے مقابلے میں دگنے ووٹ لے لئے تو بھٹو نےاقتدار اس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور اسکو غدار قرار دیا اور یہ مشہور نعرہ لگایا: "اُدھر تم اِدھر ہم” اسکے باوجود جب کچھ لوگوں نے شیخ مجیب کے ڈھاکہ میں بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی بات کی تو بھٹو نے دھمکی دی کہ:”جو ڈھاکہ گیا میں اسکی ٹانگیں توڑ دونگا۔” بنگال الگ ہوا،بچے ہوئے پاکستان پربھی بھٹو کی جمہوری حکومت نہ بن سکی اور بھٹو تین سال تک کیلئے سول "مارشل لا” ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔ اس حوالے سے روئیداد خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ: "بھٹو نے مجھے رات کو دس بجے بلایا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ جاگ رہے ہونگے، میں نے کہا کہ کتاب پرھ رہا ہوں، کہنے لگا یہ یحیٰی نے کیا کردیا، اس نے مجھ سے پوچھے بغیر ڈھاکہ اجلاس کی تاریخ طے کرلی، یہ تاریخ غلط فکس کی گئی ہے، اِس کو چینج کراؤ، میں نے کہا کیسے؟ بنگالی تو مان گئے ہیں، بھٹو نے کہا بہت آسان ہے، ڈھاکہ میں ایک لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کراؤ، ٹِیر گیس ہوگی، لاٹھی چارج ہوگی، کچھ لوگ مریں گے، تاریخ تبدیل ہوجائے گی۔”
روئیداد خان کے مطابق بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ ڈھاکہ میں اجلاس ہو، کیونکہ بھٹو سمجھ گئے تھے کہ جب تک مشرقی پاکستان، پاکستان کا حصہ ہے وہ کبھی وزیراعطم نہیں بن سکتے، کیونکہ وہ کبھی مجیب سے نہیں جیت سکتے۔ اس لئے مارچ سے ستمبر تک بھٹو نے کچھ نہیں کیا، جب پاک فوج ملک بچانے کیلئے دیوانہ وار لڑرہی تھی، اگر اس وقت بھٹو سیاسی بھاگ دوڑ کرتے اور مجیب کو راضی کرلیتے تو شائد یہ سانحہ نہ ہوتا پھر جب انڈیا نے حملہ کیا اور ملک ٹوٹنے کی نوبت آگئی تو وہ اس کو اقوام متحدہ میں روکنے کے بجائے کاغذات پھاڑ کر اجلاس چھوڑ کر آگئے، اس نے بنگالیوں کو "سور کے بچو” کہہ کر مخاطب کیا، اس کی وہ تقریر آج بھی سنی جاسکتی ہے۔ پاکستان ٹوٹ گیا، بھٹو نے جناح کے پاکستان کو قتل کردیا اور غداری کا مرتکب ھوا، محض اس لئے کہ اس کو اقتدار مل سکے، بلآخر بھٹو کو اقتدار مل گیا، عوام کو پہلی بار ضروریات زندگی کی اشیاء جیسے آٹا اور چینی کے حصول کیلئے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا اور ان کو مہنگائی کے معنی معلوم ہوئے۔ احمقانہ معاشی فیصلوں اور کمزور سفارت کاری نے ایسے معاہدات کروائے کہ پاکستان کو اپنے کئی سال کی چاول کی فصل شہنشاہ ایران کی ضمانت پر گروی رکھوانی پڑی اور شملہ معاہدے میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن قرار دیا گیا، دوسرے لفظوں میں اپنے پانیوں کو انڈیا کے حوالے کرنا پڑا۔ وولر بیراج کے معاملے میں انڈیا کو نہ روکا جاسکا، ہاں جنرل ضیاء کے پیدا کئے گئے مجاہدین نے بعد میں اس پر حملے کرکے اس کی تنصیبات کو کئی بار تباہ کیا، بعد میں بھی حالات کچھ اچھے نہ رہے، بھٹو نے جس سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا اسکے متعلق انکی اہلیہ نصرت بھٹو نے برملا اعتراف کیا تھا کہ یہ مارکسزم سے اخذ کیا گیا ہے، جس نے کروڑوں کو خدا کی ذات کا منکر کردیا اور آج بھی کررہے ہیں، اسکے نتیجے میں "نجی صنعتیں قومیائی میں لی گئیں” جس سے نہ صرف ملک سے سرمایہ نکل گیا بلکہ صنعتیں اور بعض ادارے ایسے تباہ ہوئے کہ آج تک دوبارہ نہیں اٹھ سکے ہیں (یہی نہیں بلکہ اس کی پارٹی نے اہلیت قابلیت کو تار تار کرکے سیاسی بھرتیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا)۔ شراب کھلی عام پی جانے لگی، پاکستانی میڈیا پر پہلی بار بےحیائی اُس دور کے لحاظ سے نظر آنے لگی، یہاں تک کہ کراچی میں دنیا کا سب سے بڑا کیسینو بننا شروع ہوا جس کا مہیب ڈھانچہ شائد آج بھی کلفٹن کے ساحل پر موجود ہو، جمہوری حکومت کے اس شاندار کارنامے کے بعد وہاں جو کچھ ہوتا اس سے کم از کم اسلامی دنیا میں پاکستان کے "وقار” میں زبردست اضافہ ہوتا۔ بھٹو کے خلاف ایم آر ڈی اور نو ستارہ تحریکوں نے زور پکڑا اور آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کرلیا، تو بھٹو نے اعلان کیا کہ "میرے ہاتھ میں علی رضی اللہ عنہ کی تلوار ہے ۔” سمجھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب تھا، ملکی سیاست میں پہلی بار فرقہ وارانہ رنگ بھردیا گیا، یہ رنگ نہیں بلکہ زہر تھا، اس کا یہ اثر ہوا کہ ظفر علی شاہ روڈ پر جیالوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کی داڑھی نوچی، انکا جبہ پھاڑا اور ان کی پگڑی لیر لیر کرکے لے گئے، سو یہودی ایک مودودی کے نعرے لگے، بھٹو صاحب کے مصلوب ہونے پر یہ فرقہ وارانہ رنگ اور شدید ہوگیا اور آج تک قائم ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بھٹو کے اس نعرے کا اثر یہ ہے کہ آج بھی ملک کی تیس فیصد آبادی فرقے کی بنیاد پر ووٹ ڈالتی ہے ، میری یہ بات کچھ لوگوں کو سخت لگے گی لیکن یہ سچ ہے کہ "بھٹو نے امریکی مخالفت کے باوجود ایٹمی پروگرام پر کام جاری رکھا جسکی جنرل ضیاء الحق نے اس سے زیادہ تیز رفتاری سے تکمیل کی لیکن ان حالات میں ملکی سالمیت جس خطرے سے دوچار تھی اس کو ایٹم بم بھی نہیں بچا سکتا تھا۔” سنہ انیس سو ستتر عیسوی کے انتخابات میں کھلی دھاندلی پر پورا ملک سراپا احتجاج تھا اور بہت سی جانوں کے ضیاع اور فسادات کے بعد بھٹو کو پاکستان قومی اتحاد کے دوبارہ الیکشن کے مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے لیکن جب دستخط کا موقع آیا تو بھٹو عین وقت پر مسلم ملکوں کے دورے پر چل دیئے اور مخالفین بھٹو کی اس چال یا دھوکے کو سمجھ کر چیخ اٹھے، یہاں تک کہ ملک میں سول وار برپا ہونے کیلئے اسٹیج بلکل تیار ہوگیا یہی وہ لمحہ تھا جب جنرل ضیاء الحق نے ایک فرض شناس سپاہی کیطرح میدان میں آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کی خود اپنے آپکو برباد کردینے کی سمت میں جاری اس مارچ کو روکا جاسکے، اور برطانوی پارلیمانی طرز جمہوریت کی اس بساط کو لپیٹ دیا گیا۔ یہ ہے حقیقت بھٹو زندہ ہے کی، لیکن اس ملک کی قوم میں جب تک شعور نہیں آئیگا، تب تک اس ملک میں غدّار زندہ ہی رہیں گے اور جرنیل چاہے لاکھ مُلک کا بھلا کر جائیں آمر ہی کہلائیں گے۔ الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری قوم کو عقل و شعور عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔۔۔ معزز قارئین!! مجھے بیشتر دانشوروں مفکروں اور محقق نے بتایا کہ جب تک پاکستان پیلپز پارٹی بھٹو کے نظریۂ منافقت سے اپنی جان نہیں چھوڑاتے اس وقت تک یہ خود کو مجرمانہ ذہنیت سے باہر نہیں نکل سکتے مزید برآں آگاہ کیا کہ مشاہدہ اور تجربہ یہی بتاتا ھے کہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری بھٹو بھی صرف سندھ کو ہی ایک پر امن اور خوشحال نہ بناسکے بلکہ روز بروز بد سے بدتر کرڈالا ھے۔ سندھ کے دیگر شہروں کی کیا بات کی جائے جاوید صدیقی صاحب آپ کراچی کو دیکھ لیں جو بدترین حالت ان پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے اقتدار ادوار میں کیں وہ کسی مارشل لا اور ایمرجنسی دور میں بھی اس کا عشر اشیر نہ رہی۔ مارشل لا اور ایمرجنسی دور میں چوری ڈکیتی رہزنی ٹارگٹ کلنگ رشوت ستانی اور لا قانونیت کا معاملہ دیکھنے کو بھی نہیں ملتا تھا۔ ملک کی قسمت اور حالات بدلنے کیلئے عوام کو خود بدلنا ھوگا اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ھوئے اپنے ووٹ کو صحیح درست سچے ایماندار اور حقدار کو دیکر ملک کو بچائیں ضروری نہیں کہ پارٹی کو ہی ووٹ دیں جو بہتر ھے جہاں ھے کی بنیاد پر دیں۔ دنیا بھر میں غم و غصہ اور احتجاج کا مظاہرہ اپنے ملک و شہر کی املاک کو نقصان پہنچا کر ہرگز نہیں کیا جاتا اور جو اس پر اکساتا ھے وہ ملک و قوم کا وفا دار نہیں۔ ایسے احتجاج اور مطالبہ سے خود کو علیٰحدہ کرلیں۔ الله وطنِ پاکستان کا ہمیشہ حامی ناظر رہے آمین یارب العالمین!! پاک آرمی زندہ باد’ پاکستان پائندہ باد ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You