*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*
*عنوان: ایف بی آر کی اصلاح سب سے زیادہ اور پہلے ضروری ہے۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصلاح محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ معاشی استحکام، کاروباری تحفظ، عوامی اعتماد اور ریاستی بقا کا بنیادی تقاضا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عام شہری، تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری افراد قانون کے تحت اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں تو پھر ٹیکس وصول کرنے والے ادارے اور ان کے اہلکار عوام کے سامنے جواب دہ کیوں نہ ہوں؟ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پاکستان کے مالیاتی نظام کا ایک اہم ستون ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری قومی محصولات کی منصفانہ وصولی، ٹیکس نیٹ میں توسیع، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ لیکن جب ایک باقاعدہ ٹیکس فائلر کو غیر ضروری نوٹسز، پیچیدہ آن لائن طریقۂ کار، غیر واضح تقاضوں، تاخیر اور ممکنہ غیر منصفانہ جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صورتِ حال ادارہ جاتی اصلاحات کا سنجیدہ مطالبہ بن جاتی ہے۔
*آخر ٹیکس دینا جرم کیوں محسوس ہونے لگے؟*
ایک عام شہری یا چھوٹا تاجر جب اپنی محدود آمدنی میں سے ٹیکس ادا کرتا ہے، گوشوارے جمع کراتا ہے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے واضح رہنمائی، بروقت معلومات اور منصفانہ طریقۂ کار فراہم کرے۔ اگر کسی گوشوارے میں غلطی ہو تو پہلے اس کی نوعیت واضح کی جائے، متعلقہ شہری کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جائے اور فیصلہ قانون، شواہد اور انصاف کے مطابق کیا جائے۔ ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر ہر کارروائی قانونی جواز، شفافیت اور متناسب سزا کے اصولوں کے تابع ہونی چاہیے۔ کسی افسر کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی صوابدید کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے کسی شہری کو غیر ضروری ذہنی یا مالی اذیت میں مبتلا کرے۔پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق سلوک اور تحفظ کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 قانون کے سامنے تمام شہریوں کی برابری کا اصول بیان کرتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 77 کے تحت وفاقی ٹیکس قانون کے اختیار سے ہی عائد کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ٹیکس وصولی ہو یا اس کے نفاذ کا عمل، دونوں کو قانون اور انصاف کی حدود میں رہنا چاہیے۔
*ایف بی آر میں اصلاح کا مطلب صرف کمپیوٹرائزیشن نہیں، ذہنیت کی تبدیلی بھی ہے۔*
پاکستان میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کرنے اور انسانی مداخلت کم کرنے کے اعلانات اپنی جگہ، لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب عام ٹیکس دہندہ ان اصلاحات کے مثبت نتائج اپنی عملی زندگی میں محسوس کرے۔ محض نئے پورٹل، نئے قواعد اور نئے نوٹسز متعارف کرانا کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ نظام آسان، قابلِ فہم، جواب دہ اور قابلِ اعتماد بھی ہو۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ایف بی آر میں تقرریوں، ترقیوں اور تعیناتیوں کے لیے پیشہ ورانہ اہلیت، دیانت داری اور کارکردگی کو بنیادی معیار بنائے۔ افسران کی کارکردگی کا جائزہ صرف ٹیکس وصولی کے اعدادوشمار سے نہیں بلکہ شکایات کے ازالے، قانونی فیصلوں کے معیار، غیر ضروری مقدمات میں کمی، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ رویے کی بنیاد پر بھی لیا جائے۔ اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانی یا ہراسانی کی قابلِ تصدیق شکایت سامنے آئے تو غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح کسی ملازم پر الزام محض الزام کی بنیاد پر ثابت شدہ جرم تصور نہ کیا جائے؛ اسے بھی منصفانہ سماعت اور دفاع کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
*قومی خزانے کا بوجھ صرف عام آدمی کیوں اٹھائے؟*
پاکستان ایک طویل عرصے سے قرضوں، مالیاتی خسارے، مہنگائی اور محدود معاشی گنجائش جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ دوسری جانب عام شہری کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے، کاروباری لاگت بڑھتی ہے، بجلی اور گیس کے بل گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈالتے ہیں اور چھوٹے کاروبار کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ اگر عوام کو کفایت شعاری، اضافی محصولات اور قربانیوں کا درس دیا جاتا ہے تو حکومتی اداروں، منتخب نمائندوں، اعلیٰ سرکاری عہدے داروں اور مراعات یافتہ طبقات کے اخراجات کا بھی شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے۔ سرکاری گاڑیوں، غیر ضروری سفری اخراجات، سرکاری رہائش، اضافی مراعات اور دیگر مالی سہولتوں کے بارے میں واضح معیار مقرر ہونا چاہیے۔ جہاں غیر ضروری اخراجات موجود ہوں وہاں کمی کی جائے اور قومی وسائل کو عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ یہ مطالبہ کسی فرد یا طبقے سے ذاتی عناد کی بنیاد پر نہیں بلکہ مساوی احتساب اور قومی مفاد کے اصول پر ہونا چاہیے۔ ریاستی عہدہ اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی لاتا ہے؛ لہٰذا عوام سے قربانی مانگنے والوں کو اپنے طرزِ عمل سے مثال قائم کرنی چاہیے۔
*فائلر کو سہولت، نادہندہ کو قانون اور طاقت ور کو جواب دہی!*
پاکستان کو ایسا ٹیکس نظام درکار ہے جس میں دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنے والے شہری کی حوصلہ افزائی ہو، ٹیکس چوری کرنے والے کے خلاف مؤثر کارروائی ہو اور کسی طاقت ور شخص کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر دستاویزی معیشت، چھپائی گئی آمدنی اور قانون کے دائرے سے باہر رہنے والی قابلِ ٹیکس سرگرمیوں پر توجہ دی جائے۔ اس کے ساتھ چھوٹے تاجروں، تنخواہ دار افراد اور قانونی طور پر ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے طریقۂ کار سادہ بنایا جائے۔ اس ضمن میں ایف بی آر کو کم از کم درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے چاہئیں: ٹیکس گوشواروں اور آن لائن پورٹل کے پیچیدہ مراحل کو آسان بنایا جائے اور اردو سمیت قابلِ فہم رہنمائی فراہم کی جائے۔ غیر ضروری نوٹسز، غیر واضح مطالبات اور تاخیر سے متعلق شکایات کا ڈیٹا شائع کرکے ان کا ادارہ جاتی جائزہ لیا جائے۔ ٹیکس آڈٹ اور جرمانوں کے عمل میں شفافیت، واضح قانونی بنیاد اور منصفانہ سماعت کو یقینی بنایا جائے۔ ریفنڈز اور شکایات کے ازالے کے لیے مقررہ مدت، قابلِ نگرانی نظام اور جواب دہ افسران کا تعین کیا جائے۔ بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف آزادانہ تحقیقات اور مؤثر احتساب کیا جائے۔ ٹیکس پالیسی سازی میں تاجروں، صنعت کاروں، ماہرینِ معیشت، ٹیکس وکلا اور چھوٹے کاروباروں کے نمائندوں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔ حکومتی اخراجات اور مراعات میں کفایت شعاری کے ساتھ ٹیکس دہندگان کو یہ اعتماد دیا جائے کہ ان کی ادا کردہ رقم قومی مفاد میں خرچ ہو رہی ہے۔ یہ تجاویز محض نعرے نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی بنیاد بن سکتی ہیں جس میں ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد بحال ہو۔
*حکومت، پارلیمان اور ریاستی اداروں کے نام سوال!*
آخر کب تک عام آدمی ہی ہر معاشی مشکل کا پہلا ہدف بنتا رہے گا؟ کب تک چھوٹا تاجر پیچیدہ ضابطوں میں الجھا رہے گا؟ کب تک ٹیکس دہندہ اپنے جائز حقوق کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہوگا؟ اور کب ریاستی اداروں کی کارکردگی کا احتساب بھی اسی سنجیدگی سے ہوگا جس سنجیدگی سے عوام سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کیا جاتا ہے؟یہ سوال کسی ایک حکومت، کسی ایک جماعت یا کسی ایک افسر تک محدود نہیں۔ یہ پاکستان کے معاشی مستقبل کا سوال ہے۔ ایف بی آر کی اصلاح کو محض انتظامی کارروائی سمجھنے کے بجائے قومی معاشی اصلاحات کے مرکزی حصے کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سمیت تمام متعلقہ ریاستی و حکومتی ذمہ داران سے گزارش ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے ٹیکس نظام کی شفافیت، ادارہ جاتی احتساب، غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی اور عوام کے ساتھ منصفانہ سلوک کو ترجیح دی جائے۔ تاہم ایف بی آر کی اصلاح کی بنیادی ذمہ داری وفاقی حکومت، وزارتِ خزانہ، ایف بی آر کی قیادت اور پارلیمان پر عائد ہوتی ہے؛ انہیں اپنے آئینی اور قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ یاد رکھیے! ریاست صرف محصولات جمع کرنے سے مضبوط نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہریوں کو یقین ہو کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا، قانون سب کے لیے یکساں ہوگا اور قومی خزانے کا استعمال شفاف ہوگا۔ پاکستان کسی ایک طبقے کی جاگیر نہیں، یہ ہم سب کا وطن ہے۔ عوام کو باعزت زندگی، معاشی تحفظ اور انصاف فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
*میرا یعنی جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی کا واضح مؤقف ہے:*
ایف بی آر کی اصلاح، ٹیکس دہندگان کے احترام، اشرافیہ کے غیر ضروری مراعاتی بوجھ میں کمی اور یکساں احتساب کے بغیر پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!!
