*عنوان: انصاف و سچائی کا یقینی ہونا۔۔۔!!*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
ایک زمانہ تھا جب اشیا کی درست پیمائش اور وزن کے تعین کے لیے ترازو اور لوہے کے مختلف وزن، یعنی بٹے، استعمال کیے جاتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ آج کمپیوٹرائزڈ نظام اور جدید پیمائشی آلات نے ناپ تول میں درستگی اور شفافیت کے نئے معیار قائم کر دیے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں نظم و ضبط، حساب و کتاب، آڈٹ، احتساب، تجارت، ترسیلات اور ذخیرہ اندوزی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں شفافیت، مساوات اور حقوق کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ جب معاملات کو اصولوں، ضابطوں اور شواہد کے مطابق چلایا جا سکتا ہے تو پھر انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور عدم مساوات کیوں؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت بھی ہے، آئین بھی، قانون بھی اور آزادیٔ اظہار بھی، لیکن ایک عام شہری کے لیے انصاف کا حصول آج بھی ایک بڑا سوال ہے۔ مقدمات کی طوالت، اخراجات اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث متعدد سائلین برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ بعض تو انصاف کی امید لیے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، جبکہ ان کے مقدمات فیصلوں کے منتظر رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے درستگی، شفافیت اور جواب دہی کے معیار بہتر بنا رہی ہے تو ہمارے عدالتی نظام میں انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں ناگزیر نہ سمجھے جائیں؟ انصاف کا تقاضا ہے کہ فیصلے کسی کی طاقت، دولت، اثر و رسوخ یا ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے آئین، قانون، غیر جانب داری اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ مظلوم کو انصاف نہ ملنا صرف ایک فرد کی محرومی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ جب طاقت ور قانون سے بالاتر دکھائی دے اور کمزور انصاف کے لیے دربدر ہو تو معاشرتی ناہمواری، بے یقینی اور احساسِ محرومی بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس قانون کی یکساں عمل داری شہریوں میں اعتماد، ریاست میں استحکام اور معاشرے میں امن کو فروغ دیتی ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل، زرخیز زمینوں، معدنی ذخائر، جغرافیائی اہمیت اور انسانی صلاحیتوں سے مالامال ملک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کے منصفانہ استعمال، بدعنوانی کی روک تھام، مؤثر احتساب اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ محض وسائل کی موجودگی خوش حالی کی ضمانت نہیں؛ اصل کامیابی ان کے شفاف، منصفانہ اور عوامی مفاد میں استعمال سے ممکن ہے۔ میری نظر میں پاکستان کی حقیقی ترقی کا راستہ انصاف اور سچائی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر تمام عدالتوں کے معزز جج صاحبان، جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس صاحبان آئین و قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ فیصلوں، مقدمات کے بروقت تصفیے اور ہر شہری کے مساوی حقوق کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں تو عوام کا اعتماد بحال کرنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ یاد رکھیے!! انصاف کسی پر احسان نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ سچائی کسی منصب کی محتاج نہیں اور قانون کی بالادستی کسی فرد کی مرضی کی پابند نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کی ترقی، خوش حالی اور استحکام کا حقیقی راستہ یہی ہے کہ انصاف کو یقینی، سچائی کو معتبر اور قانون کو سب کے لیے یکساں بنایا جائے۔ کیونکہ جس معاشرے میں انصاف زندہ ہو، وہاں امید بھی زندہ رہتی ہے۔
