BBC Urdu TV

*عنوان : المجرمین پاکستان۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان : المجرمین پاکستان۔۔۔۔!!*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

مسلم امہ پر دور خلافت سے ابتک غیر مسلموں نے ہمیشہ انتشار بدعنوانی عدم توازن عدم استحکام عدم اخوت عدم بھائی چارگی عدم اعتماد عدم ایثار و قربانی اور عدم صبر و شکر کی فضاء کو قائم رکھنے کیلئے دولت شہرت عورت املاک مال و دولت اختیارات اور عہدوں سے نوازا جاتا رھا ، تاریخ ہمیں بتاتی ھے کہ مخلصین سپہ سالار ہوں یا حکمران ان کے آستینوں میں اپنے سانپ چپھاتے رہے ہیں جو گمراہ دھوکہ اور فریب سے مسلم ریاستوں مسلم حکومتوں کو برباد کرنے کیلئے اپنا مکروہ کردار کرتے چلے آرھے ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! کسی نے کیا خوب لکھا ھے میری نظر سے گزری سوچا آپ کی خدمت میں پیش کردوں موصوف لکھتے ہیں کہ پاکستان بننے سے قبل تاریخ ہمیں بتاتی ھے کہ انگریز دارالعلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا، اکابرین دیوبند کو وظائف دیتا تھا. اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔ اسلام کی آمد سے اب تک پندرہ سو سالوں میں پوری دنیا میں اتنے پِیر، دَستگیر، وَلی، محدث، مجدد، قطب، مُفسر، مناظر، مقرر پیدا نہیں ہوئے، جتنے انگریز کے سو سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے ہیں۔ کوئی اُڑتا رہا، کوئی لمحے میں غائب ہو کر مدینہ پہنچ جاتا ھے، کوئی غوث اعظم کے نام پر لطائف گھڑتا ھے، کوئی لال شہباز قلندر کو پرواز کرواتا رہا ھے۔ کسی نے نبی آخر الزمان محمد مصطفیٰ ﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی، کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا۔ یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں اور آج بھی یہی تسلسل سے جاری و ساری ھے۔ انگریز کی بنائی رجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہیں۔ آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے. جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائیگی تو ایک قوم "المجرمین پاکستان” کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائیگی۔ معزز قارئین ۔۔۔۔۔!! مؤرخ لکھے گا کہ قومِ عاد، قوم ثمود اور قومِ لُوط اور قبل از اسلام جاہلیت کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے، یہ پاکستانی ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی، مگر مانتی اپنے اپنے آلہ کاروں کو۔ قرآن کو اپنی کتاب مانتی تھی، پر عمل کیلئے انسانی ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابوں پر یقین تھا یعنی آئین و دیگر، پاکستانی ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کیلئے دی جاتی تھی۔ پاکستانی ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ، خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے، مگر وہ قوم، عقیدت مندوں کو غربت و افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔ پاکستانی قوم کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی تک نہیں تھی۔ مؤرخ لکھے گا کہ اس پاکستانی قوم کا انصاف بکتا تھا، طاقتور کیلئے علیحٰدہ قانون اور غربأ کیلئے الگ قانون تھا۔ پاکستانی قوم کے قاضی انہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔ پاکستانی قوم کے بارے میں لکھا جائیگا، پاکستانی قوم کے سیاستدان خود غرض، نا اہل اور بےحس تھے مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور ان کیلئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔ پاکستانی ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بد دعائیں کرتی تھی مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔ پاکستانی
ایسی قوم تھی اور ہیں جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے اور ہیں جبکہ محنت کرکے کھانے والے کمی کمین کہلاتے اور ہیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ابھی بھی وقت ھے کہ خود کو بدلیں اور متحد ھوکر ایک قوم اور ایک امت بن جائیں یقین جاںئیے آپ خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بن جائیں گے آپ کے اتحاد و اتفاق سے پاک سرزمین ہریالی و سرسبز ھوجائے گی کیونکہ آپ سب کا اتحاد ہی اس بدنما بدترین نظام حکومت نظام ریاست کو تبدیل کرسکتا ھے۔ پاکستان بقول وصیت قائد اعظم محمد علی جناح کا نظام حکومت نظام مصطفیٰ پر رائج ھوگا یہی ہماری منزل تھی یہی ہمارا مقصد یاد رکھیں ہر ایک فرد (پاکستانی) سے بعد موت پوچھا جائیگا کہ تمہیں آزادی اور ملک و ریاست دین محمدی ﷺ کا نفاذ رائج کرنے کیلئے پیدا کیا تھا تم نے اپنی ذمہداری کس حد تک نبھائی۔ اس بابت پاکستانی جنرلز سے اللہ ضرور جواب طلب کریگا کیونکہ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد سے جنرل ایوب خان پھر جنرل یحیٰی، جنرل ٹکا خان اور تاحال جنرلز حکومتیں بناتے رھے ہیں۔۔۔۔!! ھمارے جنرلز کو چاہئے کہ وہ اپنا کردار مسلم سپہ سالار خالد بن ولید، نورالدین زنگی، سلطان صلاح الدین، سلطان محمود غزنوی، سلطان عبد الحمید، حیدر علی، ٹیپو سلطان و دیگر ولی کامل سپہ سالار و جانثاران مصطفیٰ تھے، آج کے ھمارے جنرلز ٹھنڈے دل سے نماز کے بعد تنہائی میں سوچیں کہ وہ اللہ واحد لاشریک کے بندے اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں تو پھر عہد کرلیں اوت طے یقین کیساتھ توکل اللہ پر کرلیں کہ جینا مرنا صرف رب العزت کیلئے اور وہی رازق و خالق ھے تو خدا کی قسم دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت آپ کا، رہاست کا اور اس وطن عزیز پاکستان کا بال بھی بھیگا نہیں کرسکتے اب فیصلہ آپ پر ھے کہ قرآن و سنت کے مطابق نظام مصطفیٰ ﷺ کو رائج کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا گے یا ان یہود و نصاریٰ اور اسلام دشمن کے بنائے ہوئے نظام جمہوریت کیساتھ اپنا کردار نبھائیں گے۔ اب وقت آنپہچا ھے کہ ملک کی سلامتی و بقاء کیلئے نظام کی تبدیلی ناگزیر ھوچکی ھے۔۔۔!!

Exit mobile version