*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: اللہ، احساس والا دل عطا کردے۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
میں ہر موضوع ہر عنوان ہر اشو پر کالم تجزیئے تحریر خبر اور نیوز اسٹوری اس لئے لکھتا ھوں کہ مجھے مختلف جگہوں مقامات سے احساسات کیفیات جذبات حقائق سچائی کے موتی مل سکیں جسے اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے ایک مثبت خوبصورت سا خاموش ساکن پیغام چھوڑتا جاؤں جو احساسات سے ہوکر روح میں پیوست ضرور ہو۔ آج بھی ایک روح پرور جگر اور دل چیرنے والی تحریر پیش خدمت ھے جو سوشل میڈیا میں موجود تھی۔ اس تحریر کو پیش کرنا کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ شائد صاحب اقتدار کی نظر پہنچ جائے اور اگر وہ انسان ہیں تو ضرور وہ دل کا درد محسوس کریں گے۔۔۔۔ معزز قارئین!! تحریر کچھ اس طرح سے تھی ”وہ ناشتہ کر رھی تھی مگر اس کی نظر امی پر جمی ھوئی تھی، ادھر امی ذرا سی غافل ھوئی. ادھر اس نے ایک روٹی لپٹ کر اپنی پتلون کی جیب میں ڈال لی. وہ سمجھتی تھی کہ امی کو خبر نہیں ھوئی مگر وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ ماؤں کو ہر بات کی خبر ھوتی ھے. وہ اسکول جانے کیلئے گھر سے باہر نکلی اور پھر اسکا تعاقب شروع ھوگیا. تعاقب کرنے والا ایک آدمی تھا وہ اپنے تعاقب سے بے خبر کندھوں پر اسکول بیگ لٹکائے اچھلتی کودتی چلی جارھی تھی. جب وہ اسکول پہنچی تو دعا شروع ھوچکی تھی. وہ بھاگ کر دعا میں شامل ھوگئی. بھاگنے کی وجہ سے روٹی سرک کر اسکی جیب میں سے باہر جھانکنے لگی. اسکی سہیلیاں یہ منظر دیکھ کر مسکرانے لگیں مگر وہ اپنا سر جھکائے، آنکھیں بند کئے پورے انہماک سے جانے کس کیلئے دعا مانگ رھی تھی. تعاقب کرنے والا اوٹ میں چھپا اسکی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ھوئے تھا۔ دعا کے بعد وہ اپنی کلاس میں آگئی۔ باقی وقت پڑھنے لکھنے میں گزرا مگر اس نے روٹی نہیں کھائی. گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی اسکول سے چھٹی کا اعلان ھوا. تمام بچے باہر کی طرف لپکے. اب وہ بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی مگر اس بار اس نے اپنا راستہ بدل لیا تھا. تعاقب کرنے والا اب بھی تعاقب جاری رکھے ھوئے تھا پھر اس نے دیکھا وہ بچی ایک جھونپڑی کے سامنے رکی، جھونپڑی کے باہر ایک بچہ منتظر نگاھوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا. اس بچی نے اپنی پتلون کی جیب میں سے روٹی نکال کر اس بچے کے حوالے کردی. بچے کی آنکھیں جگمگانے لگیں .اب وہ بے صبری سے نوالے چبا رہا تھا. بچی آگے بڑھ گئی مگر تعاقب کرنے والے کے پاؤں پتھر ہوچکے تھے وہ آوازوں کی باز گشت سن رہا تھا جوکہ اسکی بیوی نے صبح اسکو کہا تھا. لگتا ھے کہ اپنی منی بیمار ھے کیوں، کیا ھوا ؟؟ اس کے پیٹ میں کیڑے ھیں. ناشتہ کرنے کے باوجود ایک روٹی اپنے ساتھ اسکول لے کر جاتی ھے. وہ بھی چوری سے یہ اسکی بیوی تھی. کیا آپ کی بیٹی گھر سے کھانا کھا کر نہیں آتی؟؟ کیوں، کیا ھوا؟؟ روزانہ اسکی جیب میں ایک روٹی ہوتی ھے یہ کلاس ٹیچر تھی وہ جب اپنے گھر میں داخل ھوا. تو اس کا سر فخر سے بلند تھا اسے اپنی منی پر پیار آرھا تھا، اتنی سے عمر میں اتنی بڑی سوچ غریب بچوں کیلئے احساس اور درد ابو جی ابو جی کہتے ھوئے منی اسکی گود میں سوار ہوگئی. کچھ پتا چلا، اسکی بیوی نے پوچھا.
ہاں پیٹ میں کیڑا نہیں ھے. درد دل کا مرض ھے۔ ابو کا دل بھر آیا، منی کچھ سمجھ نہیں پائی تھی. اللہ ہم سب کو بھی احساس والا دل عطا کردے آمین ۔معزز قارئین۔۔!! میں نے اس دنیا میں سنہ انیس سو پینسٹھ میں آنکھ کھولی اس عرصہ میں وطن عزیز پاکستان میں کئی بدلتے سیاسی مذہبی معاشرتی اور معاشی حالات دیکھے مگر ان بیس سالوں میں حالات یکے بعد دیگرے بدترین سامنے آئیں ہیں شائد جہنم میں ہی اس قدر بدترین ہوں۔ اب بدلتے بدترین حالات کے براہ راست ریاستی اور مذہبی ٹھیکیداران، حکمران، سیاستدان، پارلیمنٹیرین، اور نوکر شاہی طبقہ رھا ھے دوسری جانب عوام کی ایک کثیر تعداد بھی اس بگڑتے حالات کی ذمہدار بھی ھے۔ اب ہر سو مافیاء ہی مافیاء ہے گویا پاکستان اس وقت غلیظ خبیث کمین دجالی و ابلیسی بدترین سمندر میں ڈوب چکا ھے اور یہ زیر سمندر کب تک رہیگا یہ کوئی نہیں بتاسکتا کیونکہ اس سمندر کی صفائی نا ممکن مگر سمندر سے باہر نکلنے کی امید ایک بڑی قربانی اور اجتماعی توبہ استغفار کیساتھ ساتھ صراط المستقیم پر قائم اور کاربند رہنا شرط اول ھے۔ اگر اب بھی احسن بدلاؤ کی طرف نہ لوٹے تو بچکی کچی انسانیت کو ختم ہوجائے گی۔۔۔۔!!
