*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: اسلام میں عورت کی حکمرانی ۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا اسلام نے عورت کو ہر قسم کی حکمرانی، قیادت اور فیصلہ سازی سے منع کیا ہے، یا بعض فقہاء نے مخصوص ریاستی عہدوں پر عورت کی سربراہی کو ممنوع قرار دیا ہے؟ یہ دونوں باتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ اسلام میں عورت کے مقام، اس کی عزت، حقوق، ذمہ داریوں اور سیاسی و معاشرتی کردار کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید، احادیثِ نبوی ﷺ، عہدِ رسالت اور فقہائے اسلام کی آراء کا مجموعی مطالعہ ضروری ہے۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے نہ کسی قرآنی آیت کا مفہوم سیاق و سباق سے الگ کرنا چاہیے اور نہ کسی حدیث کی تشریح میں علمی اختلاف کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ 1۔ قرآن مجید عورت کی حکمرانی کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ سب سے پہلے یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن مجید میں ایسی کوئی صریح آیت موجود نہیں جس کے الفاظ یہ ہوں کہ ’’کسی عورت کو حکمران نہ بناؤ‘‘۔ عورت کی سربراہی کے جواز یا عدمِ جواز پر گفتگو بنیادی طور پر بعض احادیث، قرآنی واقعات اور ان سے اخذ کیے گئے فقہی اصولوں کی روشنی میں ہوتی ہے۔ پہلی دلیل: سورۃ النساء، آیت 4:34، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ مفہوم: مرد عورتوں کے قَوّام ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بعض پہلوؤں سے فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ اس آیت سے کیا استدلال کیا جاتا ہے؟ بعض مفسرین اور فقہاء نے لفظ ’’قَوَّامُون‘‘ سے مرد کی ذمہ داری، کفالت اور خاندانی سربراہی کے اصول کو واضح کیا ہے۔ بعض علماء اس سے وسیع تر سماجی نظم کے بارے میں بھی استدلال کرتے ہیں۔ تاہم اس آیت کا براہِ راست موضوع ازدواجی و خاندانی ذمہ داریاں ہیں۔ اس میں صراحتاً یہ نہیں کہا گیا کہ ہر عورت ہر مرد کے ماتحت ہوگی، یا کوئی عورت کسی ریاست، ادارے، جماعت یا عوامی منصب کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ لہٰذا اس آیت کو عورت کی ہر قسم کی حکمرانی کی ممانعت کی قطعی اور براہِ راست دلیل قرار دینا محلِ نظر ہے۔ ریاستی سربراہی کے مسئلے میں دوسرے دلائل کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
دوسری دلیل: ملکۂ سبا کا قرآنی واقعہ
قرآن مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکۂ سبا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ملکۂ سبا کو قرآن نے ایک ایسی خاتون کے طور پر ذکر کیا ہے جو اپنی قوم پر حکومت کرتی تھی۔
سورۃ النمل، آیت 23 ترجمۂ مفہوم: میں نے ایک عورت کو دیکھا جو ان پر حکومت کرتی ہے، اور اسے ہر طرح کی ضروری چیزیں عطا کی گئی ہیں، اور اس کا ایک عظیم تخت ہے۔
اس کے بعد ملکۂ سبا اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے: سورۃ النمل، آیت 32 ترجمۂ مفہوم: اس نے کہا: اے سردارو! میرے معاملے میں مجھے مشورہ دو؛ میں کسی معاملے کا فیصلہ تمہاری موجودگی اور مشورے کے بغیر نہیں کرتی۔ پھر آیت 34 میں اس کی سیاسی بصیرت کا اظہار ہوتا ہے کہ طاقتور بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اس واقعے کی شرعی اہمیت کیا ہے؟ قرآن نے اس خاتون کے اقتدار کا ذکر واضح طور پر کیا ہے۔ اس کے مشاورت پر مبنی طرزِ حکمرانی اور سیاسی حکمت کو بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں اس کے اقتدار کو محض عورت ہونے کی وجہ سے قابلِ مذمت قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم ملکۂ سبا کا قصہ بذاتِ خود ہر دور میں عورت کی ریاستی سربراہی کے جواز کا قطعی حکم بھی نہیں ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے، اور اس کے بعد ملکۂ سبا کے ایمان لانے کا ذکر بھی آتا ہے۔ چنانچہ اس قصے کو عورت کی حکمرانی کے حق میں ایک اہم قرآنی قرینہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کی دلالت اور حدیثِ ابی بکرہ کے ساتھ اس کی تطبیق میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ تیسری دلیل: مشاورت اور اجتماعی امور
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سورۃ الشوریٰ، آیت 38
ترجمۂ مفہوم: اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ یہ آیت اہلِ ایمان کے اجتماعی معاملات میں مشاورت کی اہمیت بیان کرتی ہے۔ اس میں حکمرانی کے لیے مرد ہونے کی شرط صراحتاً بیان نہیں کی گئی۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ صرف اس آیت سے عورت کی ریاستی سربراہی کا حکم قطعی طور پر ثابت ہوجاتا ہے۔ اس سے اصولِ مشاورت اخذ ہوتا ہے، جبکہ سربراہی کی اہلیت کے مخصوص شرائط کا تعین دوسرے دلائل سے کیا جاتا ہے۔
2۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف پیش کی جانے والی سب سے اہم حدیث۔ اس مسئلے میں بنیادی حدیث صحیح بخاری کی ہے، جسے اکثر علماء عورت کی اعلیٰ ریاستی سربراہی کی ممانعت کے لیے مرکزی دلیل قرار دیتے ہیں۔ حدیثِ نبوی ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ترجمہ: وہ قوم فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کر دیے۔ حوالہ: صحیح البخاری، حدیث 4425؛ کتاب المغازی۔
اس حدیث کا پس منظر کیا تھا؟ روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ فارس کے لوگوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔ حدیث کے اطلاق کی حدود: بعض دوسرے علماء نے اس کے تاریخی پس منظر، اس وقت کے ایرانی سیاسی حالات اور جدید ریاستی نظام کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی تشریح مختلف کی ہے۔ جمہور علماء نے اس حدیث سے ممانعت کیوں اخذ کی؟ انکے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی قوم کے حکومتی معاملات عورت کے سپرد کرنے کے نتیجے میں فلاح کی نفی فرمائی۔ انکے نزدیک یہ محض ایک اتفاقی تبصرہ نہیں بلکہ حکمرانی کے لیے ایک شرعی رہنمائی ہے۔ ان علماء کے نزدیک اعلیٰ ریاستی سربراہی میں دفاع، جنگ، سیاسی فیصلوں، عدالتی نظام، داخلی سلامتی اور ریاستی اختیار کی جامع ذمہ داریاں شامل ہوتی ہیں۔ اسی لیے وہ اس حدیث کو عمومی طور پر ریاست کے اعلیٰ ترین منصب پر منطبق کرتے ہیں۔ البتہ اس حدیث میں لفظ ’’فلاح‘‘ استعمال ہوا ہے، جس کا مفہوم کامیابی اور بھلائی ہے۔ اس لیے اس کے ذریعے کسی عورت کی ذاتی عقل، دیانت، کردار یا انتظامی صلاحیت کے بارے میں مطلق حکم لگانا درست نہیں۔ بحث منصب کی شرعی اہلیت کے متعلق ہے، عورت کی انسانی قدر کے متعلق نہیں۔ کیا یہ حدیث ہر عورت کی ہر قسم کی قیادت کی ممانعت کرتی ہے؟ اس بارے میں فقہی اختلاف موجود ہے۔ جمہور فقہاء نے اسے بالخصوص اعلیٰ ریاستی امارت اور بعض نے قضا و دیگر اعلیٰ مناصب تک وسیع کیا، جبکہ دوسرے فقہاء نے تمام عوامی عہدوں پر یکساں ممانعت تسلیم نہیں کی۔ اس لیے یہ کہنا کہ اسلام نے عورت کو کسی بھی ادارے کی سربراہی، انتظامی ذمہ داری، تدریس، مشاورت یا سماجی قیادت سے مطلقاً منع کردیا ہے، اس حدیث سے خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔ 3۔ کیا قرآن میں عورت کی سیاسی و اجتماعی شرکت کی تائید بھی موجود ہے؟
جی ہاں، قرآن مجید میں عورتوں کے سماجی اور دینی کردار کے واضح شواہد موجود ہیں۔
سورۃ التوبہ، آیت 9:71 ترجمۂ مفہوم: مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں؛ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت محض ایک غیر فعال سماجی وجود نہیں، بلکہ نیکی کے فروغ، اصلاحِ معاشرہ اور دینی ذمہ داریوں میں شریک ہے۔
تاہم معاشرتی ذمہ داریوں میں شرکت اور ریاست کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے کے شرعی حکم میں فرق ہے۔ اس آیت سے عورت کی ہر سیاسی ذمہ داری کا جواز یا ہر قسم کی حکمرانی کا حکم براہِ راست اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ امام ابوحنیفہ سے منقول فقہی موقف کے مطابق عورت بعض ایسے مقدمات میں قاضی بن سکتی ہے جن میں اسکی گواہی قابلِ قبول ہو۔ یہ رائے عورت کو ہر منصب پر غیر مشروط اجازت دینے کے مترادف نہیں۔ تیسرا موقف: زیادہ وسیع اجازت بعض اہلِ علم نے عورت کی عدالتی اور سیاسی سربراہی کی اجازت دی۔ امام ابن جریر طبری کی طرف یہ رائے منسوب کی جاتی ہے، جبکہ ابن حزم ظاہری بھی اس بحث میں اہم نام ہیں۔ ان علماء کی طرف منسوب ہر قول کی نسبت اور حدود یکساں طور پر متفق علیہ نہیں ہیں۔ یہ اختلاف محض جدید دور میں پیدا نہیں ہوا؛ کلاسیکی فقہی لٹریچر میں بھی اس کے آثار موجود ہیں۔ اس لیے کسی ایک موقف کو بیان کرتے ہوئے دوسرے معتبر فقہی موقف کے وجود سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اعلیٰ ترین ریاستی سربراہ جمہور کے نزدیک ممانعت؛ بعض علماء کے نزدیک گنجائش
وزیر یا مشیر اہلِ علم کے درمیان اختلاف؛ ذمہ داریوں اور اختیار کی نوعیت اہم جج مختلف فقہی مذاہب میں مختلف شرائط اور آراء پارلیمانی نمائندہ اس کی شرعی حیثیت پر بھی تفصیلی فقہی بحث موجود ہے
تعلیمی، سماجی یا انتظامی سربراہی اسے ریاست کی اعلیٰ ترین حکمرانی کے ساتھ یکساں نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ تقسیم اس لیے اہم ہے کہ قدیم اسلامی فقہ میں ’’امامتِ کبریٰ‘‘ ایک مخصوص تصور تھا، جبکہ جدید ریاست میں صدر، وزیراعظم، کابینہ، پارلیمان اور عدلیہ کے اختیارات الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ بعض معاصر علماء اسی فرق کی بنا پر حدیث کے اطلاق میں وسعت یا تخصیص کے قائل ہیں۔ حدیثِ ابی بکرہ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر عورت مرد سے کم عقل، کم علم، کم دیانت دار یا کم صلاحیت رکھتی ہے۔ حدیث میں قوم کے معاملات عورت کے سپرد کرنے کے نتیجے میں فلاح کے متعلق بات کی گئی ہے۔
اسی طرح سورۃ النساء کی آیت 34 میں مردوں کی قوامیت کا ذکر ہے، مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر مرد ہر عورت سے لازماً زیادہ قابل یا زیادہ ذہین ہوتا ہے۔ جمہور فقہاء کی ممانعت کا بنیادی استدلال منصب کی شرعی شرائط اور حدیث کے مفہوم سے متعلق ہے، نہ کہ ہر عورت کی انفرادی اہلیت کی نفی سے۔ اس کے برعکس، جواز کے قائل علماء منصب کی نوعیت، اہلیت اور جدید ریاستی نظام کو اہم سمجھتے ہیں۔
اس مخصوص مسئلے میں سب سے زیادہ پیش کی جانے والی روایت صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث ہے۔ اس کے علاوہ عورتوں کے حقوق، مشاورت، بیعت اور معاشرتی ذمہ داریوں سے متعلق متعدد احادیث موجود ہیں، لیکن انہیں ریاستی سربراہی کے سوال کے ساتھ غلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی رائے پیش کی اور بعض معاملات میں گفتگو کی۔ صحیح بخاری میں ان کے مشورے اور گفتگو کے متعدد واقعات ہیں۔ یہ واقعات عورت کی علمی اور فکری شرکت کی اہمیت واضح کرتے ہیں، لیکن بذاتِ خود ریاستی سربراہی کے جواز یا ممانعت کا فیصلہ نہیں کرتے۔ پاکستان میں عورت کے سیاسی عہدے کے مسئلے پر مذہبی، آئینی اور سیاسی بحثیں الگ الگ دائرے رکھتی ہیں۔
شرعی بحث: قرآن، سنت، فقہی اصول اور علماء کے مختلف اجتہادات کی روشنی میں ہوتی ہے۔ آئینی بحث: پاکستان کے دستور اور متعلقہ قوانین کی تشریح سے متعلق ہے۔ سیاسی بحث: عوامی نمائندگی، انتخابی اہلیت، حکومتی کارکردگی اور جمہوری نظام سے متعلق ہے۔ ان تینوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ کسی منصب کی آئینی اجازت اور اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں کسی عالم کی رائے دو مختلف نوعیت کے سوالات ہیں۔ اگر اس مسئلے پر فتویٰ یا کسی مخصوص فقہی مسلک کے مطابق حتمی حکم مطلوب ہو تو متعلقہ مستند مفتی سے مکمل سیاق کے ساتھ رجوع کرنا مناسب ہے کیونکہ بحیثیت ایک صحافی و کالمکار میں اس گہرائی اور باریکی سے اپنے قارئین کے سامنے تحقیقی رو سے بیان نہیں کرسکتا جو ایک مستند مفتی یا شیخ الحدیث وضاحتی بیان کرسکتا ھے مگر ملکی و معاشرتی اثرات اور دباٶ کے عیوض کئی ایک حقائق پر مصلحتاً خاموشی اختیار کر لینے کا مطلب ہرگز نہیں کہ وہ باریکیوں سے واقف نہیں ۔۔۔!!
