BBC Urdu TV

*عنوان: آج کے پاکستانی۔۔۔!!*

*بیدار ہونے تک*

*عنوان: آج کے پاکستانی۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*

پاکستانی ایسے تو نہ تھے، جیسے آج ہمیں اپنے معاشرے میں نظر آتے ہیں۔ کبھی اس قوم کی اجتماعی شناخت ایمان، ایثار، اخوت، بھائی چارے، مہمان نوازی، بزرگوں کے احترام، چھوٹوں سے شفقت اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے سے عبارت تھی۔ محلے صرف مکانوں کا مجموعہ نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک خاندانوں کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ کسی گھر میں کھانا بنتا تو پڑوسی کا حصہ بھی نکلتا، کسی گھر میں پریشانی آتی تو آس پاس کے لوگ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے۔ سفید پوش افراد اپنی تنگ دستی چھپا لیتے، مگر کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح نہ ہونے دیتے۔یہ ماضی کی ایک ایسی معاشرتی تصویر ہے جس کی جھلک آج بھی بہت سے پاکستانی خاندانوں اور محلوں میں موجود ہے۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں کہ اُس دور میں جرائم، غربت، ناانصافی یا معاشرتی اختلافات سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی اُن اچھی روایات کو دوبارہ زندہ کرنے کے خواہش مند ہیں جن میں انسان کی قدر اس کی دولت، ذات، زبان، مسلک یا منصب سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور عمل سے کی جاتی تھی۔
*پاکستان کا تصور اور قائداعظم کا پیغام*
پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی خطے کے حصول کا نام نہیں تھا؛ یہ ایک ایسی ریاست کے قیام کی جدوجہد بھی تھی جہاں مسلمان اپنے عقائد اور تہذیبی شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں اور شہریوں کو انصاف، آزادی اور مساوی حقوق میسر ہوں۔ اس مقصد کی حقیقی تکمیل کے لیے ریاستی اداروں کا دیانت دار ہونا، حکمرانوں کا جواب دہ ہونا اور عوام کا قانون کا احترام کرنا ناگزیر ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شہریوں کی مذہبی آزادی، مساوات اور ریاست کے ساتھ وفاداری کے اصول واضح کیے۔ ان کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ریاست کے شہری اپنے مذہبی عقائد سے قطع نظر قانونی اور شہری حقوق کے مستحق ہیں۔ قائداعظم نے رشوت، بدعنوانی، اقرباپروری اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل کی نشاندہی بھی کی تھی۔یہ تاریخی حقیقت ہمارے لیے ایک اہم سوال چھوڑتی ہے: اگر بانیانِ پاکستان نے قیام کے آغاز ہی میں بدعنوانی اور اقرباپروری کے خطرات سے خبردار کر دیا تھا تو ہم نے ان بیماریوں کے خاتمے کے لیے مستقل اور مؤثر نظام کیوں قائم نہیں کیا؟ حوالہ: قائداعظم محمد علی جناح، دستور ساز اسمبلی سے خطاب، 11 اگست 1947ء؛ قومی اسمبلی پاکستان کے تاریخی ریکارڈ میں قیامِ پاکستان اور دستور سازی سے متعلق مواد۔
*(1) قراردادِ مقاصد: وعدہ بھی، ذمہ داری بھی*
12 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کی، جسے پاکستان کی آئینی تاریخ میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس قرارداد میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف، بنیادی حقوق، اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور عدلیہ کی آزادی جیسے اصول شامل کیے گئے۔یہ اصول محض سرکاری دستاویز کے الفاظ نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے ایک اخلاقی و آئینی معیار ہیں۔ اگر کسی غریب کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں، اگر کسی بااثر شخص کے لیے قانون نرم اور عام شہری کے لیے سخت ہو، اگر میرٹ کی جگہ سفارش اور اہلیت کی جگہ رشوت لے لے تو قراردادِ مقاصد کی روح کے مطابق ریاستی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ حوالہ: قراردادِ مقاصد، منظور شدہ 12 مارچ 1949ء؛ آئینِ پاکستان، آرٹیکل 2A اور بنیادی حقوق سے متعلق دفعات۔
*(2) قومی زوال کی ذمہ داری کس پر ہے؟*
پاکستان کی تاریخ میں قیام کے ابتدائی برسوں ہی سے سیاسی عدم استحکام، آئینی تاخیر اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے مسائل سامنے آتے رہے۔ قائداعظم کا انتقال 11 ستمبر 1948ء کو ہوا، جبکہ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951ء کو شہید کیا گیا۔ ان عظیم شخصیات کی وفات اور قتل کے بعد ملک کو ایسے متعدد سیاسی اور انتظامی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے جمہوری اداروں کے استحکام کو متاثر کیا۔ بعد کے برسوں میں آئین کی معطلی، فوجی حکومتوں کا قیام، سیاسی عدم برداشت، مشرقی پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات اور بالآخر 1971ء میں ملک کی تقسیم نے قومی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان واقعات کی وجوہات پر مؤرخین کے درمیان مختلف تجزیے موجود ہیں، اس لیے قومی زوال کو کسی ایک گروہ، مذہبی جماعت یا فرد کی خفیہ سازش کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے مستند شواہد کی بنیاد پر سیاسی، آئینی، معاشی اور ادارہ جاتی عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ آج بھی اگر بدعنوانی، نااہلی، اختیارات کا ناجائز استعمال، سیاسی سرپرستی، کمزور احتساب اور قانون کے غیر مساوی اطلاق کی شکایات موجود ہیں تو ان کا حل الزام تراشی نہیں بلکہ شفاف تحقیقات، آزاد عدلیہ، مضبوط پارلیمان، مؤثر احتساب اور قانون کی یکساں عمل داری ہے۔حوالہ: قومی اسمبلی پاکستان کی تاریخِ دستور سازی؛ پاکستان کی آئینی تاریخ اور 1971ء کے واقعات سے متعلق تاریخی ریکارڈ۔
*(3) مذہبی اختلافات نہیں، کردار کا احتساب*
پاکستان ایک نظریاتی پس منظر رکھنے والی ریاست ہے، جہاں مذہب اور قومی شناخت کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن قومی مسائل کے تجزیے میں یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی شخص یا گروہ کے مذہبی عقائد سے متعلق آئینی موقف ایک معاملہ ہے، جبکہ اس کے خلاف بدعنوانی، سازش، جنسی استحصال یا ریاست دشمن سرگرمیوں کے الزامات ایک الگ معاملہ ہیں۔ ایسے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے مستند دستاویزات، عدالتی فیصلے یا قابلِ اعتماد تاریخی شواہد درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے 1974ء میں آئین کی دوسری ترمیم کے ذریعے احمدی جماعت سے متعلق آئینی و قانونی حیثیت کا تعین کیا۔ یہ آئینی واقعہ 1974ء میں پیش آیا۔ جو شخص بھی قانون توڑے، بدعنوانی کرے، عوامی حقوق پامال کرے یا ریاستی مفادات کو نقصان پہنچائے، اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ نہ کسی کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر قانون سے بالاتر سمجھا جائے اور نہ کسی کو محض شناخت کی بنیاد پر مجرم قرار دیا جائے۔حوالہ: آئینِ پاکستان، دوسری ترمیم، 1974ء؛ آئینِ پاکستان، آرٹیکل 25، مساواتِ شہریاں۔
*(4) مہنگائی، غربت اور عزتِ نفس کا بحران*
آج عام پاکستانی کو درپیش بڑے مسائل میں مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی، تعلیم و علاج کے اخراجات اور بنیادی سہولتوں تک غیر مساوی رسائی شامل ہیں۔ جب ایک محنت کش کی آمدنی اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، جب نوجوان تعلیم کے باوجود روزگار کے لیے پریشان ہوں اور جب بیماری کسی خاندان کو قرض کے بوجھ تلے دبا دے تو معاشرے میں مایوسی اور بے یقینی جنم لیتی ہے۔ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں؛ یہ بعض اوقات اس احساس کا نام بھی ہے کہ انسان کی محنت کی قدر نہیں، اس کی آواز نہیں سنی جاتی اور اس کے مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر دروازہ موجود نہیں۔ اسی لیے ریاستی پالیسیوں کا مرکز عام شہری ہونا چاہیے، نہ کہ محض مراعات یافتہ طبقے کے مفادات۔حکمرانوں، منتخب نمائندوں اور سرکاری افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی وسائل کو امانت سمجھیں، سرکاری اخراجات میں شفافیت پیدا کریں، تعلیم و صحت پر توجہ دیں، روزگار کے مواقع بڑھائیں اور ٹیکس و قانون کے نظام کو منصفانہ بنائیں۔ دوسری جانب، تاجر، صنعت کار، ملازم، صحافی، استاد اور عام شہری بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ قوم کی تعمیر گھر سے شروع ہوتی ہے قومی اصلاح صرف پارلیمان، ایوانِ اقتدار یا سرکاری اداروں سے شروع نہیں ہوتی؛ اس کا آغاز گھر، گلی، محلے، تعلیمی ادارے، دفتر اور کاروباری مرکز سے بھی ہوتا ہے۔ اگر والدین بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دیں، اساتذہ دیانت داری سے تعلیم دیں، تاجر ناپ تول میں انصاف کریں، ملازمین اپنے فرائض پورے کریں، صحافی تحقیق کے بعد خبر شائع کریں اور شہری قانون کی پاسداری کریں تو قومی کردار میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔ ہمیں جھوٹ، بہتان، نفرت انگیزی، رشوت، سفارش، ملاوٹ، ٹیکس چوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے کو معمول سمجھنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ کسی سیاسی جماعت، خاندان یا شخصیت سے وابستگی اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور قانون کی بالادستی ہر ذاتی وفاداری سے مقدم ہونی چاہیے۔ اسی طرح سندھی، پنجابی، بلوچ، پشتون، مہاجر، سرائیکی اور دیگر شناختیں ہماری معاشرتی حقیقت کا حصہ ہیں۔ ان شناختوں کا احترام کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں میں مساوات، باہمی اعتماد اور مشترکہ قومی ذمہ داری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت سے محبت قومی یکجہتی کے منافی نہیں؛ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تعصب اور نفرت کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ بیداری کا وقت اب ہے پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے صرف ماضی کی یادوں پر فخر کرنا کافی نہیں۔ ہمیں اپنے حال کا دیانت داری سے جائزہ لینا اور مستقبل کے لیے عملی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ ووٹ سوچ سمجھ کر دینا، نمائندوں سے کارکردگی کا حساب مانگنا، غلط کام کے خلاف قانونی آواز اٹھانا، مستند معلومات کو فروغ دینا، کمزور طبقات کا ساتھ دینا اور قومی وسائل کی حفاظت کرنا ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کوئی ایک جماعت، ادارہ یا فرد تنہا تمام مسائل حل نہیں کر سکتا۔ قومی ترقی کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، عدلیہ، میڈیا، کاروباری طبقے، تعلیمی اداروں اور عوام کے درمیان آئینی حدود میں رہتے ہوئے تعاون ضروری ہے۔ تنقید دشمنی نہیں، اگر اس کا مقصد اصلاح ہو؛ اختلاف غداری نہیں، اگر اس کا اظہار قانون اور دلیل کے دائرے میں کیا جائے۔ پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور استحکام کی ذمہ داری صرف حکمرانوں پر نہیں بلکہ ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ البتہ ریاستی اختیارات رکھنے والوں کی جواب دہی زیادہ اہم ہے، کیونکہ ان کے فیصلے کروڑوں شہریوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آئیے، ہم ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کا عہد کریں جہاں قانون طاقت ور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو، مذہبی و سماجی اختلافات کے باوجود شہریوں کی عزت محفوظ رہے، سرکاری وسائل امانت سمجھے جائیں، نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع ملیں اور غریب کو انصاف کے لیے اپنی عزتِ نفس قربان نہ کرنا پڑے۔ یاد رکھیے، خواب دیکھنا ضروری ہے، مگر خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے دیانت دار نیت، مسلسل محنت، درست ترجیحات، اجتماعی شعور اور عملی جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ پاکستان کو بدلنے کی ابتداء دوسروں پر انگلی اٹھانے سے نہیں، اپنے کردار کی اصلاح اور ہر سطح پر جواب دہی کے مطالبے سے ہوگی۔ اب بیدار ہونے کا وقت آچکا ہے۔۔۔!!

Exit mobile version