BBC Urdu TV

عنوان:موت سے قبل پانچ فرشتے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:موت سے قبل پانچ فرشتے۔۔۔۔!

حکیم امام مُحمّد فَرحَان صِدّیقی برمنگھم یوکے کی ایک تحریر میری نظروں سے گزری اس تحریر کو اپنے کالم کی زینت بنائے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں کیونکہ حکیم صاحب نے موجودہ دور میں انسانوں کے فتنے و فساد اور مال و متاع کی حرص میں ہر وقت مگن رہنا بیداری ایمان کو اجاگر کرنے کیلئے وہ تحریر اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔۔۔۔۔معزز قارئین!! حکیم امام مُحمّد فَرحَان صِدّیقی برمنگھم یوکے اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ موت سے قبل پانچ فرشتے انسان کے پاس آکر اس کے کان میں کیا کہتے ہیں؟؟ وہ بات جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئے پیشِ خدمت ہے،پیارے دوستو، یہ قدرت کا قانون ہے کہ اس دنیا میں جو بھی آتا ہے، اسے ایک نہ ایک دن لوٹ کر واپس اپنے خالق کی طرف جانا ہے۔ موت کا ذائقہ ہر ذی روح نے چکھنا ہے۔فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: جب آدمی پر نزع کا وقت طاری ہوتا ہے، مطلب موت قریب ہوتی ہے تو اللہ عزوجل اس بندے کی جانب پانچ فرشتے بھیجتا ہے۔ پہلا فرشتہ اسکے پاس اسوقت آتا ہے جب اس کی روح حلقوم تک پہنچتی ہے، یعنی حلق تک آجاتی ہے۔ وہ فرشتہ اس شخص کو پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! تیرا طاقتور بدن کہاں گیا؟؟ آج یہ کتنا کمزور ہے۔ تیری فصیح زبان کہاں گئی؟ آج یہ کتنی خاموش ہے۔تیرے گھر والے اور عزیز و اقرباء کہاں گئے؟ تجھے کس نے تنہا کردیا؟؟؟ ” پھر جب اسکی روح قبض کرلی جاتی ہے اور کفن پہنا دیا جاتا ہےتو دوسرا فرشتہ اسکے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ”اے ابنِ آدم! تو نے تنگدستی کے خوف سے جو مال و اسباب جمع کیا تھا، وہ کہاں گیا؟؟ تو نے تباہی و بربادی سے بچنے کیلئے جو گھر بنائے تھے، وہ کہاں گئے؟ تو نے تنہائی سے بچنے کیلئے جو اُنس تیار کیا تھا،وہ کہاں گیا؟ ” پھر جب اسکا جنازہ اٹھایا جاتا ہے تو تیسرا فرشتہ اسکے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! آج تو ایک ایسےلمبے سفر کی طرف رواں دواں ہے، جس سے لمبا سفر تو نے آج سے پہلے کبھی طے نہیں کیا،آج تو ایسی قوم سے ملے گا کہ آج سے پہلے کبھی اس قوم سے ملا نہیں، آج تجھے ایسے تنگ مکان میں داخل کیا جائے گا کہ آج سے پہلے کبھی ایسی تنگ جگہ میں داخل نہ ہوا تھا۔ اگر تو اللہ عزوجل کی رضا پانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ تیری خوش بختی ہے اور اگر اللہ عزوجل تجھ سے ناراض ہوا تو یہ تیری بدبختی ہے۔ ”پھر جب اسے لحد میں اتار دیا جاتا ہے تو چوتھا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! کل تک تو زمین کی پیٹھ پر چلتا تھا اور آج تو اس کے اندر لیٹا ہوا ہے، کل تک تو اسکی پیٹھ پر ہنستا تھا اور آج تو اس کے اندر رو رہا ہے، کل تک تو اسکی پیٹھ پرگناہ کرتا تھا اور آج تو اسکے اندر نادم و شرمندہ ہے۔” پھر جب اسکی قبر پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اسکے اہل و عیال، دوست و احباب اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو پانچواں فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور اسے پکار کر کہتا ہے: ” اے ابنِ آدم! وہ لوگ تجھے دفن کرکے چلے گئے، اگر وہ تیرے پاس ٹہر بھی جاتے تو تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، تو نے مال جمع کیا اور اسے غیروں کیلئے چھوڑ دیا، آج یا تو تجھے جنت کے عالیٰ باغات کی طرف پھیرا جائیگا یا بھڑکنے والی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ ” میرے دوستوں یہ زندگی بڑی مختصر ہے، ایک نہ ایک دن ہمیں بھی اسی گھڑی سے گزرنا ہے، ہمیں نہیں پتا کہ کب اور کہاں سے موت آجائے، اسلئے ہمیں اس وقت کی تیاری کرتے رہنا چاہئے اور اللہ کی عبادت اور نیک اعمال کرتے رہنا چائیے۔ اللہ رب العزت ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔معزز قارئین!! حقیقت تو یہ ہے کہ ہم میں سے سبھی انسان کسی نہ کسی کے جنازے میں شریک ضرور ہوتے ہیں اور ہم سب انسان یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جانے والے کی کوئی مخصوص عمر نہیں اور جانے والوں کے مختلف طریقے کار کہہ لیں یا حادثات و واقعات کی نسبت طے کرتے ہیں کوئی تو ماں کے ہی شکم مادر میں وفات پاجاتا ھے تو کوئی سو برس سے بھی زیادہ زندگی پاتا ھے گویا موت کا ایک دن اور ایک مقام متین ھوتا ھے وہ اسی وقت آتی ھے چاہے انسان کہیں بھی ہو الله اسے مقررہ مقام تک پہنچادیتا ھے اور ہر انسان کی جہاں کی مٹی ہوتی ہے وہ وہیں مدفن ہوتا ھے قدرت کا اپنا نظام ہے وہی قادرِ مطلق خالق و مالک ھے۔ وہ اپنے بندوں کو نہیں بھولتا ہم ہی ہیں جو اسے بھلا دیتے ہیں جب ہم اس کو یاد کرتے ہیں تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوجاتا ھے وہ بڑا غفورالرحیم اور رحمان ھے وہ تو بہانے تلاش کرتا ھے کہ اپنے بندوں کی بخشش و مغفرت فرمادے بیشک وہ بہت معاف کرنے والا ھے۔ امام الانبیاء، ختم الرسل حضورِ کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم الله کے محبوب اور آخری پیغمبر و رسول ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر الله تبارک تعالیٰ نے بڑی نوازشات پیش کیں ہیں وقت اور زمانہ جیسے جیسے گزرتا رہیگا ابلیس و خبیث انسانوں پر حاوی ہوتا چلا جائیگا کیونکہ ابلیس کے لشکر کا سپہ سالارِاعلیٰ دجال اپنے فتنوں اور فساد و ظلم و بربریت سے حاوی ہوگا مگر صرف وہ اسکے فتنوں سے محفوظ رہیں گے جو مال و متاع کی حرص اور عیش و تعائش کے متمنی نہیں ہونگے بلکہ قربِ الہیٰ کیلئے ہر تکلیف و مشکلات پر صبر و تحمل سے کام لیں گے۔ کہا یہ جاتا ھے کہ ایسے نیک بندوں کو عظیم کا مقام دیا گیا ھے دعا ھے کہ الله ہم سب کو عظیم لوگوں میں شریک فرمائے اور عظیم لوگوں کے اعمال جیسا ہمارے اعمال بھی بنائے آمین ثما آمین۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version