*اسپشل ایڈیشن*
*عنوان:حضرت پير حکيم حافظ صالح محمد غفاری، میہڑ سندھ*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
کہاوت مشہور ھے کہ سندھ بزرگان دین کی آمجگاہ ھے ہر سلاسل کے بزرگان دین کا سفر تبلیغ اور اشاعت دین یہاں سے گزرا ھے اور بیشتر یہیں کے ہوکر رھے، سر زمین اولیاء سندھ میں ایک عظیم روحانی ہستی کا تعلق سندھ کے قصبے میہڑ سے ھے آپ حضرت پير حکيم حافظ صالح محمد غفاری المعروف حال والے سرکار بن محمد حسن سوهُو سندھ بھر میں معروف و مشہور ھیں آج آپکی سوانح حیات پر تحریر کی سعادت حاصل کررھا ھوں۔
*تعارف*
سندھ کے بڑے روحانی بزرگ، حضرت پير حکيم حافظ صالح محمد غفاری المعروف حال والے سرکار بن محمد حسن سوهُو ؒ ، آپکی ولادت گوٹھ رحیم داد سوهو ميہڙ شریف ضلع دادو میں سنہ انیس سو بائیس عیسوی میں هوئی۔
*بچپن*
آپ ڇھ ماہ کے تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ھوگیا تھا جس کے بعد آپکی والدہ کی شادی گوٹھ لونگ تنيو کے وڏيرے غلام صديق تنيو کیساتھ ہوئی، آپکی پوری زندگی وہیں گذری اور آپکے دو بھائی وڈيرہ عبدالحميد تنيو اور وڈيرہ عبدالقيوم تنيو تھے۔
*تعلیم و تربیت*
قرآن پاک ناظره کے بعد آپ نے قرآن حفظ کرنا شروع کيا آپکا کوئی استاد مقرر نہیں تها آپ مسجد کے جماعتی استاد نواب دین کو سبق سناتے تھے اس دوران آپکے گھر میں کسي کو خبر نہی تهی کہ آپ قرآن حفظ کر رهے هیں۔ ایک دن آپکے استاد نے آپکی والدہ کو خوشخبری سنائی کہ آپکا بیٹا حافظ بننے والا ھے۔ حفظ کے بعد آپ عالم بننے کیلئے مخدوم محمد عثمان رهروي شريف کے پاس گئے وہیں تعلیم حاصل کی اور آپکی دستار بندي بھی کي گئی۔
*کامل کی تلاش*
اسکے بعد آپکی خواہش تھی کہ میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھوں جہاں قرآن پاک کي تعليم دوں، مگر الله کو کڇھ اور ہی منظور تها۔ ایک دن آپکے استاد نے بتایا کہ قريب ایک گاؤں میں ایک بزرگ آرهے ھیں جنکا نام حضرت خواجه محمد عبد الغفار المعروف پير مٹھا سائين ؒ ھے، مجھے دعوت دی گئی ہے مگر مصروفیات کی وجہ سے نہیں جاسکتا اس لئے آپ جائیں، استاد کے حکم پر حافظ صاحب روانہ هوگئے، جب پہنچے تو حضرت پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہ پڑی اور فرمايا آو حافظ صاحب یہ سن کر اپ وجد میں آگئے اور دست بعیت ھوگئے،
*حکمت سازی*
آپ نے حکمت سازی کے ذریعے بھی لوگوں کی خدمت کی، آپ بہت بڑے حکیم تھے دور سے آتے مریض کو دیکھ گر مرض پہچان لیتے تھے، شروع میں آپکے پاس حکمت کی ڈگری نہیں تھی، ایک زمانے میں حکومت کی طرف سے سختی کی گئی تھی جس کے بعد آپ نے امتحان دیا اور حکمت کی ڈگری حاصل کی، مرشد سے اور مرشد کی آل سے محبت
آپ اپنے شیخ کامل سے بے انتہا محبت کرتے تھے مرشد کی وفات کے بعد انکے صاحبزاده سے بیعت کی انکے بعد انکے پوتے سے بعیت کی مرشد کے دربار کو کبھی نہیں چھوڑا۔
*خلافت*
آپکی محبت کو دیکھ کر مرشد نے خلافت دینی چاھی پر آپ نے عرض کیا کہ حضور میں غلامی میں رھنا چاھتا ھوں، ایک دن آپ ماہانہ گیارہویں شریف پر دربار پر جارھے تھے راستے میں ایک مجذوب ملا اور کہنے لگا حافظ صاحب آج آپکو امانت ملے گی قبول کیجئے گا کیونکہ آج خود نہیں دے رہے حکم هوا ھے، جب آپ درٻار پر آئے مرشد نے فرمايا میں آپکو خلافت دینا چاہتا ھوں آپ نے عرض کیا حضور میں غلامی میں رہنا چاہتا ھوں حضرت پير مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا حافظ صاحب کیا آپکو مجذوب نے نہیں بتايا جس کے بعد آپ نے خلافت قبول کی۔
*تبلیغ*
آپ نے پاکستان ميں کسي کو مريد نہیں کيا تھا جو بھی آتا اس کو لے کر اپنے مرشد کے دربار میں بعیت کرواتے آپ نے بیرونی ممالک میں تبليغ کي، جہاں آپکے ہزاروں عقيدت مند موجود ہیں اِن ممالک میں جرمنی، سوئزلینڈ، بنگلاديش، لندن اور ہندستان میں آج بھی آپ کے مراکز موجود ھیں جہاں ہر روز ذكر و مراقبه کی محافل جاری رہتی ہیں۔
*حال والا لقب دیا گیا*
پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلفاء جب تبليغ دين پر جاتے تھے تو پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ خلفاؤں سے احوال نہیں لیتے تھے بلکہ حافظ صاحب سے فرماتے تھے کہ خلیفہ کا احوال بتائیں، انہوں نے تبلیغ میں کیا کیا تو حافظ صاحب احوال بتاتے تھے اس لئے انکا لقب حال والا پڑا۔
*کرامات*
حضور پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ جب لاڑکانا میں آئے اور خلفاؤں سے فرمایا بتاؤ اس دربار کا کیا مقام رکھے کسی نے کچھ بتایا کسی نے کچھ آپ نے فرمایا حافظ صاحب حال والے کو بلاؤ اور فرمایا جاؤ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں اور درخواست کرکے معلوم کریں کہ دربار کا نام کیا رکھا جائے، آپ نے مراقبه کيا اور عرض کيا حضور پاک صلي اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ھے دربار کا نام رحمت پور شریف رکھیں اور یہ دربار قيامت تک قائم ہوگا پھر دربار کا نام رحمت پور رکھ دیا گیا۔
*ایک نہیں چار بیٹے*
ایک شخص گل محمد تنیو اولاد کیلئے حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کے مزار پر گیا اور اولاد کیلئے دعا مانگی شب کو نیند میں خواب میں حضرت لعل شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا آپکے گاؤں میں اللہ کا کامل ولی حافظ صالح محمد غفاری ھے آپ انکو چھوڑ کر میرے پاس آئے ھو جاؤ ان سے دعا کراؤ جسکے بعد حافظ صاحب نے دعا مانگی اور اللہ نے گل محمد تنیو کو ایک نہیں چار بیٹے عطا کئے جو آج بھی حیات ھیں۔
*اور بارش رک گئی*
ایک مرتبہ گاؤں میں بہت بارش ہوئی فصلیں ڈوب رہی تھیں مویشی مر رہے تھے گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ چلو سب حافظ صاحب کے پاس چلیں اور دعا کیلئے عرض کریں حافظ صاحب نے دعا مانگی اور بارش رک گئی۔
*جرمنی میں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھایا*
جرمنی کی ایک یونیورسٹی کا نام back university تھا وہاں کے اساتذہ نے مناظرے کا چیلنج دیا اور کہا کہ ہم کسی کو نہیں مانتے ہمیں اللہ دکھائیں نہیں تو ہم آپکو شھید کردیں گے آپ نے مناظرہ قبول کیا اور کچھ باتیں انکے سامنے رکھیں کہ آپ سورج کی روشنی کو انسان میں اندر جو جان ھے انسان میں جو آنکھوں کا نور ہے اس کو مانتے ھو انگریزوں نے کہا جی مانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ سب دکھاؤ تو میں اس کو بنانے والا دکھاؤں گا اپنی ہار پر وہ لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ھوگئے۔
*شادی اور اولادیں*
آپ نے ایک شادی کی تھی جس سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ھوئی، بیٹا بچپن میں انتقال کرگيا، بیٹی کے بڑے ھونے پر اس کا نکاح اپنے بھتیجے وڈیرے بدر الدین سے کردیا جن سے چھ بیٹے پیدا ھوئے، اۏل نجم الدين دوئم صدر الدين سوئم مہتاب الدين چہارم غلام مرتضیٰ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پنجم صالح محمد غفاری موجوده سجاده نشينن ششم محمد شعیب ھیں۔
*آپکا وصال*
آپ چودہ ربیع الثانی کو علیل ہوئے اور سولہ ربیع الثانی کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، آپکی نماز جنازہ آپکے پیر بھائی قادر بخش غفاری نے پڑھایا اور درگاھ حال والے سرکار گوٹھ لونگ تنیو میہڑ میں تدفين کیا۔
*عرس مبارک*
آپکا عرس مبارک سولہ ربیع الثانی کے دن سترہ کی شب کو موجودہ سجادہ نشین کی صدارت میں ہوتا ہے جس میں ملک کے نامور علماء کرام اور عالم دین شرکت کرتے ھیں۔
*سجاده نشين*
اس وقت درٻار عالیہ کے سجاده نشين آپ کے نواسہ حضرت صالح محمد غفاری ہیں جو درگاھ رحمت پور کے سجادہ نشین سائیں پير مٹھا ثانی سے دست بعیت ھیں اور سلسلہ عالیہ قادریہ سے آپکو ہندستان کے مشہور بزرگ پیر حبیب اللہ شاھ صاحب سے اجازت ملی ھوئی ھے پیر حبیب اللہ شاھ صاحب حافظ صالح محمد غفاری ؒ کے ہی مرید ھیں۔
