BBC Urdu TV

عنوان:ایک عام شہری کی بپتا

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:ایک عام شہری کی بپتا

ایچ آر قادری صاحب نے مجھے واٹس اپ پر ایک عام پاکستانی شہری کی بپتا بھیجی جو اس کی بدلتی زندگی کی صورتحال پر مبنی ھے جس کو پڑھ کر مجھے نہ حیرت ھوئی اور نہ ہی کوئی تاثر پیدا ھوا کیونکہ میں سمجھتا ھوں کہ ان تمام حالات کے ہم سب کے سب ایک ایک پاکستانی قصور وار ہیں۔ ایک ایک پاکستانی کا مطلب آپ مجھ سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں یعنی ہر با اختیار اور ہر بے اختیار بھی شامل ہیں۔ ان برے حالات کا پہلا قصور اور ذمہدار قوم کا اس وقت سے شروع ہوا تھا جب ایک شرابی زانی جنریل و صدر ایوب خان کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح علیہ رحمت پر فوقیت دی پھر دو لخت کرنے والا سازشی غدار سیاستدان کو سر پر بیٹھایا پھر کیا تھا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا غداروں کی نسلوں کا جنھوں نے ملکِ پاکستان کی معیشت’ تجارت’ اقتصادیت’ صنعت و حرفت’ مذہبی و معاشرتی اخلاقیات’ تعلیم و صحت اور اہلیت و قابلیت کو تہس نہس کر ڈالا جس کی باقیات جاری ہیں ۔۔۔ معزز قارئین!! واٹس اپ میں لکھا تھا ۔۔۔۔ خدارا ہماری جان چھوڑ دو۔
عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور کرپشن کے خاتمے کے نام پر پاکستانیوں کو جتنا *”چونا”* اور *”رگڑا”* اس حکومت نے لگایا ہے اس کی کوئی مثال ماضی قریب یا بعید میں نہیں ملتی،جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے اس حکومت سے ہرروزکوئی نا کوئی *”بلنڈر”* یا فقط تقریریں *”سرزد”* ہوئی ہیں۔ موجودہ دور کے کسی بھی وزیر یا مشیر کی کارکردگی پر بات کی جائے، تو صرف اور صرف ایک چیز ملتی ہے اور وہ ہے *”تقریر۔۔ تقریر اور بس تقریریں”* یا کسی ایشو پر اختلاف کرنے پر بوتھیوں کی جانب سے *”طوفانِ بدتمیزی”* یوں کہہ لیجئے کہ جس گھر میں بچے زیادہ ہوں تو انمیں ایک آدھا کریکٹر ایسا ہوتا ہے جسے ہر بات پر طعنہ دیا جاتا ہے کہ تم تو ہو ہی *”منحوس”* یعنی جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو تباہ کرکے رکھ دیتے ہو بالکل اسی کریکٹر کیطرح پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فقط *” تقریری انقلاب "* کے خواب آلود لاشے اور ایک سو چھبیس دن کے *”تماشے”* کے بعد موجودہ حکومت قائم ہوئی۔جب سے قائم ہوئی نحوست نے عوام کی جڑوں میں گھر کرلیا۔ موصوف *” شعلہ بیان مقرر”* روز مسائل پیدا کرکے تقریر فرماکرسکون سے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، میں نہیں چھوڑونگا اور پکڑا تا حال کسی ایک کو نہیں جن کو پکڑنے کے نام پر،موصوف سر پر سوار ہوئے ہیں،ان سے تاحال کچھ وصول نہیں کیا نا ہی کسی کو سزا دلوائی اور اگر کسی کو نہیں چھوڑا تو وہ ہے *”عوام”* جس کو کسی قابل نہیں چھوڑا کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگایا۔ نحوست پڑگئی۔ یقین جانئے اسوقت جتنی کرپشن کھلے عام ہورہی ہے، جیسے کھلے عام رشوت لی جاتی ہے،اداروں اور ہر جگہ کرپشن کا جسطرح طوطی بولتا ہے، ماضی میں اپنے صحافتی کیریئر میں ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ماضی میں پھر بھی چوری چھپکے یا کسی حد تک ڈھکے چھپے، کرپشن ہوتی تھی لیکن کرپشن کبھی ختم نہیں ہوئی۔اس قوم کا وجود تک کرپٹ کردیا گیا ہے۔ رگ رگ میں کرپشن سرایت کرچکی ہے۔کرپشن کے خلاف ایکشن کا تہیہ کیا تو موصوف نے کرپشن پر سرکاری افسروں کے خلاف نیب دوڑا دی اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ *”سسٹم”* کا *”پٹھا "* بیٹھ گیا اور پھر عوام میں مقبول اور ہینڈسم نے نئی تاریخ، یوٹرن کیصورت میں رقم کرتے ہوئے سارے افسروں کو بیٹھا کر پھر تاریخِ انقلاب دہرائی اور وہ بھی *”تقریر”* کے ذریعے، یعنی انہیں تسلیاں تشفیاں دی گئیں کہ کوئی کارروائی نہیں ہوگی اور آج تک نہیں ہوئی اداروں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ پھر دوائیوں کا اسکینڈل سامنے آیا تو موصوف نے ایک پھر انقلابی تقریر فرما دی پھر چشم فلک نے دیکھا کہ اگلے دن مارکیٹ سے دوائیاں غائب ہوگئیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ دوائی اسکینڈل کے ذریعے کرپشن کے سمندر میں ہر ہر شخص نے خوب خوب غوطے لگائے اور تاریخ کی سب سے زیادہ ریکارڈ مہنگائی ہوئی یعنی جان بچانے سے لیکر سر درد کی گولی تک دوائیاں ہزار فیصد سے زائد مہنگی ہوگئیں ۔عجیب اتفاق ہے عوام ہر معاملے پر چپ ہے یعنی اس بار کوئی ریسپانس عوام نے دیا ہی نہیں نا ہی اپوزیشن نے کوئی ریسپانس دیا ویسے بھی اپوزیشن توتھی کونسی جو بولتا ہے اسے جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے اس لئے راستے آسان تو منزل آسان پھر موصوف نے آئی پی پی پیز کی کرپشن پر *” انقلابی تقریر”* فرمادی اور پھر چشم فلک نے ایک بار پھر دیکھا کہ بجلی کی قیمتیں ایسے بڑھیں جیسے بڑھنے کا حق ہوتا ہے۔گیس پر نوٹس لیا تو تاریخ میں پہلی دفعہ گیس پرسبسڈی ختم کی اور ریٹس کا عوام کو بخوبی اندازہ ہوگاکہ کسطرح غریب و غربا نے ساٹھ ساٹھ ہزار بل بھرا ہے۔ بندہ ناچیز بہت لوگوں نے رابطہ کیا کہ گیس کے بل کا کچھ کروا دیں ہمارے تو پہلے فاقے ہیں لیکن چونکہ اس حکومت میں کسی سے بات کرنا یا منوانا ناممکن تھا اس لئے سب کو بے بسی کا بتادیاپھر جناب پھلوں سبزیوں اورعام ضروریاتِ زندگی کی اشیاء پر بھی تقریر کی۔ یہ تحریر اس لئے لکھ رہا ہوں چونکہ آج بیگم نے جب راشن کا بل دکھایا تو یقین جانئے سکتہ سا طاری ہوگیا چونکہ دس دن پہلے راشن منگوایا تھا اور پہلے اتنے ہی پیسوں میں تین ماہ کا راشن آجاتا تھااب دس دن کا بھی نہیں آتا اگر ہمارا یہ حال ہے تو ان کا کیا حال ہوگا جنکی سات بیٹیاں اور شوہر نہیں ہے۔جنکے پانچ بچے اور سر پر کوئی نہیں ہے جو دیہاڑی دار ہیں اور کھانے والے بیس بیس ہیں۔ جب ایسے حالات ہونگے تو پھر ہمارا کام لکھنا ہی ہے۔۔
بحرحال پھر موصوف نے چینی اسکینڈل پر نوٹس لیا *”انقلابی تقریر”* فرمائی اور ایک بار پھر چشم فلک نے دیکھا کہ مارکیٹ سے چینی غائب ہوگئی۔ چینی کی قیمتیں تاریخ میں پہلی بار کوہ ہمالیہ کی بلندی کو چھوگئیں۔ ایسے ہی آٹے پر *”انقلابی تقریر”* فرمائی اور آٹا بھی غائب ہوگیا پھر عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگیا۔مرغی کو پر لگ گئے ہیں ایک سو پچاس والی مرغیاں پانچ سو تک پہنچ گئی ہیں اور ابھی مزید نحوست کی توقع ہے۔ گھی ایک سو چالیس والا دو سو ساٹھ تک مل رہا ہے۔ جام شیریں تین سو ساٹھ سے چار سو اسی تک مل رہی ہے۔یہ وہ چند اشیاء ہیں جن کا ریٹ مجھے میری ہوم منسٹر نے دکھایا ہے۔موصوف نے میڈیا کو آتے ساتھ ہی رگڑا لگادیا تھا میڈیا کی لائف لائن کاٹ دی تھی یعنی اشتہارات کے بل روک دیئے تھے اور پھر میڈیا کی طویل منت سماجت اور آخرکار *”سب اچھا "* دکھانے کی شرط پر میڈیا کو تھوڑی بہت لائف لائن یعنی اشتہارات کے پیسے دیئے جارہے ہیں۔اس لئے میڈیا نے بھی اپنے ملازموں پر شب خون دے مارا برسوں سے وابستہ مخلص ایماندار سچے ملازمین کا ڈاؤن سائزنگ کے کےنام پر معاشی قتل عام جاری رکھا ھوا ھے اور میڈیا مالکان کہتے ہیں سب *”اچھا اچھا”* دکھا سنا اور بتا رہا ہے وگرنہ روز اسکرین پر عوامی سروے، مارکیٹ سروے ،مہنگائی سروے کرپشن سروے، کارکردگی سروے چل رہے ہوتے اور عوام کی آہ وبکا ایوانوں میں لرزہ طاری کردیتی لیکن لاڈلے کیلئے ہر چیز کا بندوبست پہلے ہی کردیا گیا ہے کہ کوئی رکاوٹ ہونے ہی نہیں دی جائیگی۔ ایک اور بڑے گھر سے بھی اچھا اچھا کہنے لکھنے اور دکھانے کا حکم صادر ہوا تھا اس لئے بھی حکم پر من و عن عملد رآمد ہورہا ہے۔ یقین جانئے بجلی کے بل ہزار گنا۔ گیس کے بل ہزار گنا. بھنڈی۔ توری۔ گوبھی۔ ٹماٹر۔ لیموں۔۔یعنی ساری سبزیوں کی قیمتیں ہزار گنا۔ چینی ہزار گنا۔ آٹا ہزار گنا۔دال چاول پتی۔ہزار گنا۔ ٹیکسوں میں اضافہ ہزار گنا۔ اسپتالوں کے ریٹس ہزار گنا۔ پٹرول کی قیمتیں ہزار گنا۔ ہر شے کی قیمتوں میں ہزار ہزار گنا اضافہ اور یہ تمام چیزیں اتنی مہنگی ہونے کے باوجود آئے روز دستیاب ہی نہیں ہوتیں یا مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہیں ہر شے میں نحوست پڑچکی ہےاب تو ان سے بیزاری کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں موصوف ٹی وی پر تقریر کررہے تھے اور سامنے بیٹھا کتا شدید غصے میں بھونک رہا تھا۔موصوف کو ٹی وی میں تقریر کرتے دیکھ کر کتا ایسے بھونک رہا تھا جیسے پیشہ ور چور کو دیکھ کر بھونکتا ہے. ایک بزرگ کے سامنے موصوف کی صفت بیان کرنا چاہی تو انہوں نے ڈانٹ پلا کر چپ کرادیا اور کہنے لگے کہ اتنا منحوس ہے کہ جب سے آیا ہے کرونا اور مہنگائی لے کر بیٹھ گئی ہے۔ جب آتا ہے ٹی وی پر آتا ہے تو ایک رٹ لگائی ہوتی ہے کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا مگر آج تک کسی کو ہے نہیں پکڑا۔بس کرپشن کا راگ الاپا جارہا ہے بزرگوں کا مزید کہنا تھا کہ اگر اتنی ہی فکر ہے تو اغل بغل میں بیٹھے چار نمونوں کو پکڑ لو۔اس سے زیادہ کرپشن میرے خیال میں آج تک کسی نے نہیں کی ہوگی بحرحال میری یہ بات یاد رکھئے گا جو اس دور میں ہورہا ہے جس طرح کے بلنڈر مارے گئے ہیں، جس طرح عوام کو لوٹا گیا ہے۔ مستقبل میں اس کا انجام بہت دردناک ہوگا چونکہ جب ان کے کیس کھلیں گے تو کرپشن کی سابقہ تمام داستانیں مانند پڑ جائیں گی، سب کانوں کو ہاتھ لگائیں گے بحرحال عوام کی حالت بہت خراب ہے۔حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ کسی وزیر یا کسی ایک شخص پر اس وقت اعتماد نہیں کیا جاسکتا، یوں کہہ لیجئے کہ اس وقت بھروسہ ہی اٹھ چکا ہے۔ پہلی بار سرے عام لانے والوں پر اعتراض ہورہا ہے لیکن انکا کیا انکا اپنا بزنس تو دن بدن ترقی کررہا ہے،ان کو عام عوام سے کیا غرض اس قدر کرپشن۔ اس قدر نااہلی۔ اسقدر بےتوقیری۔انتہا ہے میں نے لوگوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کربدعائیں دیتے دیکھا یے اور ان میں سے زیادہ تر ان کے سپورٹرز ہی تھے جو خود کو کوستے اور ان کو بدعائیں دیتے ہیں۔ پنجاب کے ساتھ الگ ظلم کردیا ہے۔ عوام سے اتنا سنگین مذاق کے کٹھ پتلیاں بھی وہ جو کہ خود برائے نام ہوں انہیں کروڑوں لوگوں پر مسلط کردیا اور اوپر سے ڈھٹائی یقین جانئے کسی ایک چھوٹی سی چیز کسی ایک کام پر میں ان کا دفاع نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی ایسی چیز سامنے ہے ہی نہیں۔ کوئی کارکردگی ہے ہی نہیں۔ کوئی ایک کام سمجھ میں نہیں آتا کہ اس پر چلو تعریف کروں سوائے تقریروں اورنوٹس لینے کے کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں ہے. کوئی منصوبہ۔ نا کوئی فلاحی کام۔ایک واقعہ بہت مختصر کرکے بیان کرتا ہوں۔ایک بادشاہ تھا وہ جب بھی خوش ہوتا لنگر تقسیم کرتا۔ایک عالم نے کہاکہ تم لانگری کے بیٹے ہو۔ بادشاہ نے ماں سے پوچھا کہ کیا ماجرہ ہے ماں نے بتایا کہ تمہارا باپ اولاد کے قابل نہیں تھا اس لئے واقعی تم لانگری کے بچے ہو۔اسی طرح یہ *” بھیک منگے”* پوری قوم کو بھیک کے چکر میں لگارہے ہیں جبکہ روزگار پر لگانا چاہئے۔صنعتوں کو ترقی دینی ۔چاہئے کیا قومیں لنگر خانوں سے ترقی کرتی ہیں۔ دنیا کا کونسا بھکاری ترقی کرسکا ہے۔عجیب معاملہ ہے۔ لنگر خانے کھولو۔لنگر بانٹو۔ امداد مانگو۔امداد دو۔انتہا ہے۔اخیر کردی ہےاگر کاروبار کو فروغ دینے کی پالیسی بنائی جاتی صنعتوں کو فروغ دیا جاتا۔نئے بزنس آئیڈیاز پر عملی کام کیا جاتا ہنر مند پیدا کئے جاتے تو وہ زیادہ بہتر ہوتا، لیکن اگر کسی کو سمجھ ہی نا ہو، کسی کے پاس پالیسی ہی نا ہو، تو وہ کیا کرے گا، سب سے بڑی کارکردگی جو آج تک دیکھی ہے وہ یہ ہے اس وزیر کو ادھر لگادیا اس وزیر کو ادھر۔ایک ارسطو آیا تھا معاشی انقلاب کا خواب لیکر وہ اب کرونا سے نجات دلارہا ہے۔سب بے تکوں کو بے تکی جگہ لگادیا یے۔ یا یوں کہہ لیں کہ بندروں کے ہاتھ میں کلہاڑی پکڑا دی ہے. بندر والا واقعہ بھی سن لیں۔ ایک شکاری لکڑیاں کاٹ رہا تھا شکاری درخت کاٹتے ہوئے لکڑی کا تنا درخت میں پھنسا دیتا اور پھر کلہاڑی کی ضرب مارتا تو درخت کٹ جاتا۔درخت پر بیٹھا بندر یہ دیکھ رہا تھا شکاری کلہاڑی درخت کیساتھ چھوڑ کر چلا گیا اور بندر نےکلہاڑی پکڑی اور درخت پر ماری۔بندر تو پھر بندر ہے اس نے تنے کی جگہ اپنا پیر درخت میں دیدیا پیر نکالنے کی بہت کوشش کی مگر درد اور چوٹ کی وجہ سے وہیں مر گیا۔ یہی حال سپورٹرز کا ہورہا ہے پیر پھنسا ہوا ہےدرد اور تکلیف بھی بڑھ رہی ہے لیکن کچھ کر نہیں سکتے نا میڈیا بول سکتا ہے چونکہ *”میڈیا آزاد ہے”* نااپوزیشن بول سکتی ہے چونکہ جو بولے گا وہ پسند نہیں اور بولنے والے کی بولتی بند کروادی جاتی ہے۔جیل بھیج کر اس دور کا خلاصہ کیا جائے آمریت کے بدترین دور سے بھی بدتر ہے۔ بحرحال یہ فیصلہ سازوں کا مسئلہ ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں چونکہ ہم نے حق حلال پر گزارا کرنا ہے اپنے بچوں کی روزی روٹی کا بندوبست حلال طریقے سے کرنا یےلہذا ہماری زندگیوں کو اجیرن نا بنایا جائے۔اب عوام بخوبی سمجھ چکی ہے کہ کرپشن انصاف اور حقوق کا سارا ڈرامہ یہ سارے نعرےسیاسی شعبدہ بازیاں ہیں،عملی طور پر صرف گولی یا لالی پاپ ہے،جو حصول اقتدار کے بعد عوام کو چونسے کیلئے دیدیا جاتا ہے، عملی طور پر سارے فراڈیئے اور نوسر باز ہیں۔ ہمیں کم از کم جینے کا حق دیا جائے۔ زمین تنگ نا کی جائے. اگر ٹیکس اکھٹا کرنا ہے تو اپنے اردگرد جتنے انڈسٹریالسٹس بٹھا رکھے ہیں ان سے پہلے ٹیکس لیا جائے ان کو ہر معاملے میں سبسڈی دے دی جاتی ہے قرضے معاف کردیئے جاتے ہیں۔اگر یہ بھی نہیں ہوتا تو کم از کم اتنا کرلو کہ اپنی ماضی کی تقریریں اور بلند و بانگ نعرے دعوے وعدے دیکھ کر شرم سے ڈوب مرو اور حکومت میں آنے کے بعد کارکردگی اور کچرا دیکھ لو۔حالات بہت خراب ہیں لوگوں سے بات تک نہیں کی جاتی اس ڈر سے کہ کوئی سامنے رو ہی نا دے۔ اچھے بھلے سفید پوشوں کو بھیک مانگنے والا بنادیا یے۔ چوکوں چوراہوں پر باریش بزرگ جوکہ سفید پوش تھے اب بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ کیا یہی تبدیلی یا انصاف ہے۔کیا یہی کرپشن کیخلاف جنگ ہے۔ ایسی جنگ سے پناہ مانگتے ہیں صاحب۔ خدارا ہماری جان بخش دیں۔ایک عام شہری۔۔۔۔معزز قارئین!! ایک دوست نے یہ تحریر بھیجی تو حالات و واقعات نے مجبور کردیا کہ کالم لکھا جائے میرا یہاں موقف ھے کہ ایک تو نظام دوسرا سیاست (جمہوریت) اس ملک کیلئے زہر ہیں جبتک یہ سیاستدان ہیں عوام بدحالی سے غربت سے کرپشن سے لوٹ مار سے قتل و غارت گری سے نا انصافی سے اقربہ پروری سے تعصب سے عصبیت سے لسانیت سے بیروزگاری سے عصمت دری سے ہرگز ہرگز گزمحفوظ نہیں رہ سکتی باقی کیا بیان کروں آپ خود سمجھدار ہیں۔ پاکستان کی بقاء نظام کے بدلنے میں ھے وہ نظام جس میں سیاست اور جمہوریت نہ ھو وہ ھے

اسلامی نظام۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version