ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:الله کی شدید ناراضگی کا سبب گالی
الله تبارک و تعالیٰ کے پسندیدہ مذہب اسلام کو مکمل شائستگی تہذیب اور اخلاق میں سجایا کیونکہ الله پاک ھے اور پاکی کو پسند فرماتا ھے یہی وجہ ھے کہ رب العزت نے دین محمدی میں صفائی و ستھرائی کو ایمان کا نصف درجہ دیا ھے بیشک الله کے فرشتے پیغمبر انبیاء کرام اور منتخب بندے سائستگی ادب میں پہناں رہتے ہیں جبکہ غلاظت و خباثت شیطان و ابلیس اور اسکے چیلوں کا پسندیدہ عمل ھے۔۔معزز قارئین!! لفظ گالی سے ہمارے معاشرے کا ہر فرد واقف ہی نہیں بلکہ معاشرہ کی اکثریت اِس کبیرہ گناہ کی مرتکب ہے۔ بوڑھے، بچّے، نوجوان عورتیں سب ہی اِس میں ملوّث ہیں بلکہ اب نوجوانوں کی کوئی محفل بغیر گالی کے مکمل نہیں ہوتی۔ جھگڑوں میں گالی، مذاق میں گالی، خوشی میں گالی، ہوٹل پر گالی، دکان میں گالی، گھروں میں گالی، راستوں پر گالی اِس قدر گالیاں دی جاتی ہیں کہ اب شریف خواتین اور سنجیدہ افراد کا راستوں سے چلنا دوبھر ہوگیا ہے بلکہ اِس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ بڑے لوگوں کی گالیوں کو سن کر وہ بچّے جنہیں بات کرنے کا شعور تک نہیں ہے وہ بھی ہر دو جملوں میں گندی گندی گالیاں دے رہے ھوتے ہیں۔ آئیے بحیثیت مسلمان ہم اِس بے حیائی کا اپنے معاشرہ سے خاتمہ کریں۔ ہم خود گالی سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی گالی دینے سے روکیں گے۔ اگر کوئی گاہک دکان پر گالی دے رہا ہے تو دکاندار اُِس کو گالی دینے سے منع کرے۔ ایک دوست دوسرے دوست کو گالی دینے سے روکے۔ ہوٹل پر یا محفلوں میں گالی دینے والوں کو محبّت سے سمجھائیں۔باپ اپنے بیٹے کو گالی دینے پر مارے اور سختی سے پیش آئے۔ عورتوں کو بھی گالیوں سے روکا جائے۔معاشرہ کے سرکردہ اور بااثر افراد اپنے محلے کے چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کو گالی دیتے دیکھ کر اُنہیں سختی سے یا نرمی سےجیسے بھی ہوسکے گالی سے روکیں۔ گویا گالی کے خلاف سخت گیر مہم چلائی جائے تاکہ ہمارا مسلمان بھائی گالی جیسے گناہِ کبیرہ سے بچ کر الله کو راضی کریں۔۔۔۔۔معزز قارئین!! گالی اور غلیث بات سے شخصیت پر برا اثر پڑتا ھے اور جسم و روح گالی کے منفی ثمرات سے شدید ناتلافی نقصان سے بھی دوچار ھوجاتے ہیں مہذب اور باوقار قومیں اپنے اخلاق و کردار سے پہچانی جاتی ھے۔ الله ہماری قوم میں شائستگی و تہذیب کے شعور سے بہرہ مند فرمادے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
